قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۳۱)

اے محبوب تم فرمادو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمان بردار ہوجاؤ اللہ تمہیں دوست رکھے گا (ف۶۴) اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے

(ف64)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ کی محبّت کا دعوٰی جب ہی سچّا ہوسکتا ہے جب آدمی سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا متبع ہو اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اختیار کرے

شانِ نزول حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریش کے پاس ٹھہرے جنہوں نے خانہ کعبہ میں بت نصب کئے تھے اور انہیں سجا سجا کر ان کو سجدہ کررہے تھے حضور نے فرمایا اے گروہِ قریش خدا کی قسم تم اپنے آباء حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل کے دین کے خلاف ہوگئے قریش نے کہا ہم ان بتوں کو اللہ کی محبت میں پوجتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ سے قریب کریں اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی اور بتایا گیا کہ محبّتِ الٰہی کا دعوٰی سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے اتباع و فرماں برداری کے بغیر قابلِ قبول نہیں جو اس دعوے کا ثبوت دینا چاہے حضور کی غلامی کرے اور حضور نے بت پرستی کو منع فرمایا تو بت پرستی کرنے والا حضور کا نافرمان اور محبّتِ الٰہی کے دعوٰی میں جھوٹا ہے

قُلْ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَۚ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْكٰفِرِیْنَ(۳۲)

تم فرمادو کہ حکم مانو اللہ اور رسول کا (ف۶۵) پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ کو خوش نہیں آتے کافر

(ف65)

یہی اللہ کی محبت کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت بغیر اطاعتِ رسول نہیں ہوسکتی بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی ۔

اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤى اٰدَمَ وَ نُوْحًا وَّ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ وَ اٰلَ عِمْرٰنَ عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ(۳۳)

بے شک اللہ نے چن لیا آدم اور نوح اور ابراہیم کی آل اور عمران کی آل کو سارے جہان سے (ف۶۶)

(ف66)

یہود نے کہا تھا کہ ہم حضرت ابراہیم و اسحٰق و یعقوب علیہم الصلوٰۃ والسلام کی اولاد سے ہیں اور انہیں کے دین پر ہیں اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور بتادیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حضرات کو اسلام کے ساتھ برگزیدہ کیا تھا اور تم اے یہود اسلام پر نہیں ہو تو تمہارا یہ دعوٰی غلط ہے

ذُرِّیَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۚ(۳۴)

یہ ایک نسل ہے ایک دوسرے سے (ف۶۷) اور اللہ سنتا جانتا ہے

(ف67)

ان میں باہم نسلی تعلقات بھی ہیں اور آپس میں یہ حضرات ایک دوسرے کے معاون و مددگار بھی

اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّیْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِیْ بَطْنِیْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّیْۚ-اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۳۵)

جب عمران کی بی بی نے عرض کی (ف۶۸) اے رب میرے میں تیرے لیے منت مانتی ہوں جو میرے پیٹ میں ہے کہ خالص تیری ہی خدمت میں رہے (ف۶۹) تو تُو مجھ سے قبول کرلے بے شک تو ہی ہے سنتا جانتا

(ف68)

عمران دو ہیں ایک عمران بن یَصۡھُرۡ بن فاہث بن لاوٰی بن یعقوب یہ تو حضرت موسٰی و ہارون کے والد ہیں دوسرے عمران بن ماثان یہ حضرت عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ مریم کے والد ہیں دونوں عمرانوں کے درمیان ایک ہزار آٹھ سو برس کا فرق ہے یہاں دوسرے عمران مراد ہیں ان کی بی بی صاحبہ کا نام حَنَّہ بنت فاقوذا ہے یہ مریم کی والدہ ہیں۔

(ف69)

اور تیری عبادت کے سوا دنیا کا کوئی کام اس کے متعلق نہ ہو بیت المقدِس کی خدمت اس کے ذمہ ہو علماء نے واقعہ اس طرح ذکر کیا ہے کہ حضرت زکریاء و عمران دونوں ہم زُلف تھے فاقوذا کی دُختر ایشاع جو حضرت یحیٰی کی والدہ ہیں اور ان کی بہن حَنَّہ جو فاقوذا کی دوسری دختر اور حضرت مریم کی والدہ ہیں وہ عمران کی بی بی تھیں ایک زمانہ تک حَنَّہ کے اولاد نہیں ہوئی یہاں تک کہ بڑھاپا آگیا اور مایوسی ہوگئی یہ صالحین کا خاندان تھا اور یہ سب لوگ اللہ کے مقبول بندے تھے ایک روز حَنَّہ نے ایک درخت کے سایہ میں ایک چڑیا دیکھی جو اپنے بچہ کو بھرا رہی تھی یہ دیکھ کر آپ کی دل میں اولاد کا شوق پیدا ہوا اور بارگاہِ الٰہی میں دعا کی کہ یارب اگر تو مجھے بچہ دے تو میں اس کو بیت المقدِس کا خادم بناؤں اور اس خدمت کے لئے حاضر کردوں جب وہ حاملہ ہوئیں اور انہوں نے یہ نذر مان لی تو ان کے شوہر نے فرمایا:کہ یہ تم نے کیا کیا اگر لڑکی ہوگی تو وہ اس قابل کہاں ہے اس زمانہ میں لڑکوں کو خدمتِ بیتُ المقْدِس کے لئے دیا جاتا تھا اور لڑکیاں عوارض نسائی اور زنانہ کمزوریوں اور مردوں کے ساتھ نہ رہ سکنے کی وجہ سے اس قابل نہیں سمجھی جاتی تھیں اس لئے ان صاحبوں کو شدید فکر لاحق ہوئی اورحَنَّہ کے وضع حمل سے قبل عمران کا انتقال ہوگیا۔

فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰىؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْؕ-وَ لَیْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰىۚ-وَ اِنِّیْ سَمَّیْتُهَا مَرْیَمَ وَ اِنِّیْۤ اُعِیْذُهَا بِكَ وَ ذُرِّیَّتَهَا مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ(۳۶)

پھر جب اُسے جنا بولی اے رب میرے یہ تو میں نے لڑکی جنی (ف۷۰) اور اللہ کو خوب معلوم ہے جو کچھ وہ جنی اور وہ لڑکا جو اس نے مانگا اس لڑکی سا نہیں (ف۷۱)اور میں نے اس کا نام مریم رکھا (ف۷۲) اور میں اُسے اور اس کی اولاد کو تیری پناہ میں دیتی ہوں راندے ہوئے شیطان سے

(ف70)

حَنَّہ نے یہ کلمہ اعتذار کے طور پر کہا اور ان کو حسرت و غم ہوا کہ لڑکی ہوئی تو نذر کسی طرح پوری ہوسکے گی

(ف71)

کیونکہ یہ لڑکی اللہ کی عطا ہے اور اس کے فضل سے فرزند سے زیادہ فضیلت رکھنے والی ہے یہ صاحب زادی حضرت مریم تھیں اور اپنے زمانہ کی عورتوں میں سب سے اجمل وافضل تھیں

(ف72)

مریم کے معنی عابدہ ہیں۔

فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّ اَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًاۙ-وَّ كَفَّلَهَا زَكَرِیَّاؕ-كُلَّمَا دَخَلَ عَلَیْهَا زَكَرِیَّا الْمِحْرَابَۙ-وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًاۚ-قَالَ یٰمَرْیَمُ اَنّٰى لَكِ هٰذَاؕ-قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ(۳۷)

تو اُسے اس کے رب نے اچھی طرح قبول کیا (ف۷۳) اور اُسے اچھا پروان چڑھایا (ف۷۴) اور اُسے زکریا کی نگہبانی میں دیا جب زکریا اس کے پاس اس کی نماز پڑھنے کی جگہ جاتے اس کے پاس نیا رزق پاتے (ف۷۵) کہا اے مریم یہ تیرے پاس کہاں سے آیا بولیں وہ اللہ کے پاس سے ہے بے شک اللہ جسے چاہے بے گنتی دے (ف۷۶)

(ف73)

اور نذر میں لڑکے کی جگہ حضرت مریم کو قبول فرما یا حَنَّہ نے ولادت کے بعد حضرت مریم کو ایک کپڑے میں لپیٹ کر بیتُ المقْدِس میں احبار کے سامنے رکھ دیا یہ احبار حضرت ہارون کی اولاد میں تھے اوربیتُ المقْدِس میں ان کا منصب ایسا تھا جیسا کہ کعبہ شریف میں حجبہ کا چونکہ حضرت مریم ان کے امام اور ان کے صاحبِ قربان کی دختر تھیں اور ان کا خاندان بنی اسرائیل میں بہت اعلٰی اور اہل علم کا خاندان تھا اسلئے ان سب نے جن کی تعداد ستائیس تھی حضرت مریم کو لینے اور ان کا تکفّل کرنے کی رغبت کی حضرت زکریا نے فرمایا کہ میں ان کا سب سے زیادہ حقدار ہوں کیونکہ میرے گھر میں ان کی خالہ ہیں معاملہ اس پر ختم ہوا کہ قرعہ ڈالا جائے قرعہ حضرت زکریا ہی کے نام پر نکلا۔

(ف74)

حضرت مریم ایک دن میں اتنا بڑھتی تھیں جتنا اور بچے ایک سال میں۔

(ف75)

بے فصل میوے جو جنت سے اترتے اور حضرت مریم نے کسی عورت کا دودھ نہ پیا۔

(ف76)

حضرت مریم نے صِغرِسنی میں کلام کیا جب کہ وہ پالنے میں پرورش پارہی تھیں جیسا کہ ان کے فرزند حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام نے اسی حال میں کلام فرمایا

مسئلہ یہ آیت کراماتِ اولیاء کے ثبوت کی دلیل ہے کہ اللہ تعالےٰ اُن کے ہاتھوں پر خوارق ظاہر فرماتا ہے حضرت زکریا نے جب یہ دیکھا تو فرمایا جو ذات پاک مریم کو بے وقت بے فصل اور بغیر سبب کے میوہ عطا فرمانے پر قادر ہے وہ بے شک اس پر قادر ہے کہ میری بانجھ بی بی کو نئی تندرستی دے اور مجھے اس بڑھاپے کی عمر میں امید منقطع ہوجائے کے بعد فرزند عطا کرے بایں خیال آپ نے دعا کی جس کا اگلی آیت میں بیان ہے۔

هُنَالِكَ دَعَا زَكَرِیَّا رَبَّهٗۚ-قَالَ رَبِّ هَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةًۚ-اِنَّكَ سَمِیْعُ الدُّعَآءِ(۳۸)

یہاں (ف۷۷) پکارا زکریا اپنے رب کو بولا اے رب میرے مجھے اپنے پاس سے دے ستھری اولاد بے شک تو ہی ہے دعا سننے والا

(ف77)

یعنی محراب بیت المقدِس میں دروازے بند کرکے دعا کی۔

فَنَادَتْهُ الْمَلٰٓىٕكَةُ وَ هُوَ قَآىٕمٌ یُّصَلِّیْ فِی الْمِحْرَابِۙ-اَنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكَ بِیَحْیٰى مُصَدِّقًۢا بِكَلِمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ سَیِّدًا وَّ حَصُوْرًا وَّ نَبِیًّا مِّنَ الصّٰلِحِیْنَ(۳۹)

تو فرشتوں نے اسے آواز دی اور وہ اپنی نماز کی جگہ کھڑا نماز پڑھ رہا تھا (ف۷۸) بے شک اللہ آپ کو مژدہ دیتا ہے یحیٰی کا جو اللہ کی طرف کے ایک کلمہ کی (ف۷۹) تصدیق کرے گا اور سردار (ف۸۰) اور ہمیشہ کے لیے عورتوں سے بچنے والا اور نبی ہمارے خاصوں میں سے (ف۸۱)

(ف78)

حضرت زکریا علیہ السلام عالم کبیر تھے ۔قربانیاں بارگاہِ الٰہی میں آپ ہی پیش کیا کرتے تھے اور مسجد شریف میں بغیر آپ کے اِذۡن کے کوئی داخل نہیں ہوسکتا تھا جس وقت محراب میں آپ نماز میں مشغول تھے اور باہر آدمی دخول کی اجازت کا انتظار کررہے تھے دروازہ بند تھا اچانک آپ نے ایک سفید پوش جوان دیکھا وہ حضرت جبریل تھے انہوں نے آپ کو فرزند کی بشارت دی جو ” اَنَّ اللّٰہَ یُبَشِّرُکَ ” میں بیان فرمائی گئی۔

(ف79)

کلمہ سے مراد حضرت عیسٰی ابنِ مریم ہیں کہ انہیں اللہ تعالےٰنے کُن فرما کر بغیر باپ کے پیدا کیا اور ان پر سب سے پہلے ایمان لانے اور ان کی تصدیق کرنے والے حضرت یحیٰی ہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام سے عمر میں چھ ماہ بڑے تھے یہ دونوں حضرات خالہ زاد بھائی تھے حضرت یحیٰی کی والدہ اپنی بہن حضرت مریم سے ملیں تو انہیں اپنے حاملہ ہونے پر مطلع کیا حضرت مریم نے فرمایا میں بھی حاملہ ہوں حضرت یحیٰی کی والدہ نے کہا اے مریم مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میرے پیٹ کا بچہ تمہارے پیٹ کے بچے کو سجدہ کرتا ہے۔

(ف80)

سیّد اس رئیس کو کہتے ہیں جو مخدوم و مُطَاع ہو حضرت یحیٰی مؤمنین کے سردار اور علم و حلم و دین میں ان کے رئیس تھے۔

(ف81)

حضرت زکریا علیہ السلام نے براہ تعجب عرض کیا ۔

قَالَ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ غُلٰمٌ وَّ قَدْ بَلَغَنِیَ الْكِبَرُ وَ امْرَاَتِیْ عَاقِرٌؕ-قَالَ كَذٰلِكَ اللّٰهُ یَفْعَلُ مَا یَشَآءُ(۴۰)

بولا اے میرے رب میرے لڑکا کہاں سے ہوگا مجھے توپہنچ گیا بڑھاپا (ف۸۲) اور میری عورت بانجھ (ف۸۳) فرمایا اللہ یوں ہی کرتا ہے جو چاہے (ف۸۴)

(ف82)

اور عمر ایک سو بیس سال کی ہوچکی۔

(ف83)

ان کی عمر اٹھانوے سال کی مقصود سوال سے یہ ہےکہ بیٹا کس طرح عطا ہوگا آیا میری جوانی لوٹائی جائے گی اور بی بی کا بانجھ ہونا دور کیا جائے گا یا ہم دونوں اپنے حال پر رہیں گے۔

(ف84)

بڑھاپے میں فرزند عطا کرنا اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں ۔

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةًؕ-قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًاؕ-وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠(۴۱)

عرض کی اے میرے رب میرے لیے کوئی نشانی کردے (ف۸۵) فرمایا تیری نشانی یہ ہے کہ تین دن تو لوگوں سے بات نہ کرے مگر اشارہ سے اور اپنے رب کی بہت یاد کر (ف۸۶) اور کچھ دن رہے(شام) اور تڑکے(صبح) اس کی پاکی بول

(ف85)

جس سے مجھے اپنی بی بی کے حمل کا وقت معلوم ہوتا کہ میں اور زیادہ شکر و عبادت میں مصروف ہوں

(ف86)

چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ آدمیوں کے ساتھ گفتگو کرنے سے زبان مبارک تین روز تک بند رہی اور تسبیح و ذکر پر آپ قادر رہے اوریہ ایک عظیم معجزہ ہے کہ جس میں جوارح صحیح و سالم ہوں اور زبان سے تسبیح و تقدیس کے کلمات ادا ہوتے رہیں مگر لوگوں کے ساتھ گفتگو نہ ہوسکے اور یہ علامت اس لئے مقرر کی گئی کہ اس نعمتِ عظیمہ کے ادائے حق میں زبان ذکر و شکر کے سوا اور کسی بات میں مشغول نہ ہو۔