اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ يُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 40

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلَمۡ تَعۡلَمۡ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِؕ يُعَذِّبُ مَنۡ يَّشَآءُ وَيَغۡفِرُ لِمَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَىۡءٍ قَدِيۡرٌ ۞

ترجمہ:

(اے مخاطب) کیا تو نے نہیں جانا کہ بلاشبہ تمام آسمانوں اور زمینوں کا ملک اللہ ہی کا ہے وہ جسے چاہے عذاب دیتا ہے اور جسے چاہے بخش دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (اے مخاطب) کیا تو نے نہیں جانا کہ بلاشبہ تمام آسمانوں اور زمینوں کا ملک اللہ ہی کا ہے وہ جسے چاہے عذاب دیتا ہے اور جسے چاہے بخش دیتا ہے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ (المائدہ : ٤٠) 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اگر چور نے توبہ نہ کی اور وہ پکڑا گیا تو اس پر حد بھی جاری ہوگی اور آخرت میں عذاب میں ہوگا اور اگر اس نے توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی تو اللہ آخرت کی سزا معاف فرما دے گا۔ اس آیت میں یہ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب دینا یا معاف فرما دینا ‘ اس وجہ سے ہے کہ وہ کائنات کی ہر چیز کا مالک ہے۔ جس کو چاہے ‘ معاف کردے اور جس کو چاہے عذاب دے۔ اس کا عذاب دینا بھی حسن اور حکمت پر مبنی ہے اور اس کا معاف فرمانا بھی حسن اور کرم پر مبنی ہے۔ اہل سنت کا مذہب ہے عذاب دینا اس کا عدل ہے اور معاف فرمانا اور ثواب عطا فرمانا اس کا کرم ہے ‘ اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے ہم اس کے عذاب سے اس کی پناہ طلب کرتے ہیں اور اس کے عفو و درگزر اور رحم و کرم کو طلب کرتے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 40

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.