فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 39

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَمَنۡ تَابَ مِنۡۢ بَعۡدِ ظُلۡمِهٖ وَاَصۡلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ يَتُوۡبُ عَلَيۡهِؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوۡرٌ رَّحِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

پھر جس نے اپنے ظلم کرنے کے بعد توبہ کرلی اور اپنی اصلاح کرلی تو بیشک اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ بیشک اللہ بہت بخشنے والا بےحد رحم فرمانے والا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے (دائیں) ہاتھ کو کاٹ دو ‘ یہ ان کے کیے ہوئے کی سزا ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک تعزیر ہے اور اللہ بہت غالب ہے نہایت حکمت والا ہے۔ (المائدہ : ٣٩) 

آیات سابقہ سے مناسبت : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بتلایا تھا کہ ڈاکو کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے جائیں اور اس آیت میں چور کے بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے اور حدیث میں ہے کہ دوسری چوری پر اس کا پیر کاٹ دیا جائے گا۔ حضرت علی بن ابی طالب نے فرمایا جب کسی شخص نے چوری کی تو اس کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اگر دوبارہ چوری کی تو اس کا بایاں پیر کاٹ دیا جائے گا۔ (کتاب الآثار لمحمد بن الحسن الشیبانی ‘ ص ١٣٨) 

دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انسان کی جان کی اہمیت بیان کی تھی کہ ایک انسان کو قتل کرنا اللہ کے نزدیک گویا تمام انسانوں کو قتل کرنا ہے پھر فرمایا کہ اگر یہی انسان ڈاکہ ڈالے تو اس کو قتل کردیا جائے گا۔ 

سرقہ کا لغوی معنی : 

علامہ جمال الدین ابن منظور افریقی متوفی ٧١١ ھ لکھتے ہیں : 

اہل عرب چور اس شخص کو کہتے ہیں جو کسی محفوظ جگہ میں چھپ کر جائے اور مال غیر لے کر چلا جائے۔ مگر وہ چھپ کرلینے کے بجائے کھلم کھلا لے تو وہ اچکا اور لٹیرا (مختلس اور منتھب) ہے اور اگر زبردستی چھینے تو غاصب ہے (لسان العرب ‘ ج ١٠ ص ١٥٦‘ مطبوعہ نشرادب الحوذہ ‘ قم ‘ ایران ‘ ١٤٠٥) 

سرقہ کا اصطلاحی معنی : 

علامہ کمال الدین محمد بن عبدالواحد بن ہمام حنفی متوفی ٨٦١ ھ لکھتے ہیں : 

عاقل بالغ کسی ایسی محفوظ جگہ سے کسی کے دس درہم (یا اس سے زیادہ) یا اتنی مالیت کی کوئی چیز چھپ کر بغیر کسی شبہ اور تاویل کے اٹھالے ‘ جس جگہ کی حفاظت کا انتظام کیا گیا ہو ‘ درآنحالیکہ وہ چیز جلدی خراب ہونے والی ہو تو وہ سرقہ (چوری) ہے۔ (فتح القدیر ج ٥ ص ‘ ٣٣٩‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

شان نزول : 

امام ابو الحسن علی بن احمد واحدی متوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں : 

یہ آیت طعمہ بن ابیرق کے متعلق نازل ہوئی ہے جس نے زرہ کی چوری تھی اس کی تفصیل ہم النساء : ١٠٥ میں بیان کرچکے ہیں۔ (اسباب النزول ‘ ص ١٩٧‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

زمانہ جاہلیت میں بھی چور کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا تھا ‘ زمانہ جاہلیت میں جب کا سب سے پہلے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا ‘ وہ ولید بن مغیرہ تھا ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے اسلام میں بھی ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ اسلام میں جس چور کا سب سے پہلے مردوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاتھ کاٹا ‘ وہ خیار بن عدی بن نوفل بن عبد مناف تھے ‘ اور عورتوں میں جس چور کے سب سے پہلے ہاتھ کاٹے گئے ‘ وہ مرہ بنت سفیان بن عبدالاسد تھیں۔ ان کا تعلق بنو مخزوم سے تھا۔ حضرت ابوبکر نے ایک شخص کا ہاتھ کا ٹا جس نے ہار چرایا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے عبدالرحمن بن سمرہ کے بھائی کا ہاتھ کاٹا تھا ‘ ان واقعات میں کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ (الجامع لاحکام القرآن ‘ ج ٣ ص ١١١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

چور کا ہاتھ کاٹنے کی حکمت : 

اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے چور کا ہاتھ کاٹنے کی حد مقرر فرما کر مسلمانوں کے اموال کو محفوظ کردیا اور اگر کوئی شخص اچک کر کوئی چیز لے جائے یا لوٹ کرلے جائے یا غصب کرے ‘ تو اس پر حد مقرر نہیں (ہر چند کہ اس میں تعزیر ہے) کیونکہ یہ جرائم چوری کی بہ نسبت معمولی ہیں اور ان کے خلاف گواہ قائم کیے جاسکتے ہیں اور گواہوں کے ذریعہ عدالت سے اپنا حق آسانی سے وصول کیا جاسکتا ہے۔ اس کے برخلاف چورچھپ کر مال لے جاتا ہے ‘ لہذا اس پر گواہی قائم کرنا مشکل ہے ‘ اس لیے اس کی سزا سخت رکھی ‘ تاکہ اس سزا کو دیکھ کر دوسرے لوگ عبرت پکڑیں اور چوری کرنے سے باز رہیں اور مسلمانوں کے اموال محفوظ رہ سکیں۔ 

بعض علماء نے یہ فتوی دیا ہے کہ اگر چور کا ہاتھ کاٹنے کے بعد اس کو فورا جوڑ دیا جائے تو یہ جائز ہے لیکن یہ فتوی صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے چور کے ہاتھ کاٹنے کو فرمایا ہے ‘ یہ اللہ کی طرف سے عبرت ناک تعزیر ہے ‘ اگر چور کا ہاتھ جوڑ دیا گیا ‘ تو پھر یہ عبرت نہیں رہے گا اور یہ قرآن مجید کے صریح خلاف ہے ‘ اس کی مکمل بحث ہم نے شرح صحیح مسلم جلد رابع میں کی ہے۔ 

ایک بحث یہ ہے کہ چور ہاتھ سے چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ‘ تو زانی جب زنا کرتا ہے تو اس کا آلہ تناسل کیوں نہیں کاٹا جاتا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ چور کا جب ایک ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ‘ تو اس کا دوسرا ہاتھ موجود ہوتا ہے جس سے وہ کام کاج کرسکتا ہے ‘ جبکہ زانی کے پاس دوسرا آلہ نہیں ہوتا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ حدود اس لیے مقرر کی گئی ہیں کہ لوگ دیکھ کر عبرت پکڑیں۔ کٹا ہوا ہاتھ تو دکھائی دیتا ہے ‘ اور آلہ مستور ہوتا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ آلہ تناسل کاٹ دینے سے فروغ نسل کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا ‘ اور ہاتھ کاٹنے میں یہ خطرہ نہیں ہے۔ 

دوسری بحث یہ ہے کہ زنا کی سزا میں جرم تو صرف ایک جز نے کیا ہے ‘ اور کوڑوں یا رجم کی شکل میں سزا پورے جسم کو ملتی ہے ‘ اس کی کیا وجہ ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ زنا کرنے سے پورا جسم لذت حاصل کرتا ہے اس لیے پورے جسم کو سزا دی جاتی ہے۔ 

حجیت حدیث پر دلیل : 

اس آیت میں کئی وجوہ سے اجمال ہے۔ اول : یہ کہ مطلقا چوری کرنے پر حد واجب نہیں ہوتی۔ مثلا ایک پیسہ یا روپیہ چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘ بلکہ ایک معین مقدار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا اور اس آیت میں اس مقدار کا بیان نہیں ہے۔ ثانیا : اس آیت میں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ہے اور ہاتھ کا اطلاق انگلیوں پر ‘ ہتھیلی پر ‘ پہنچے تک ‘ کلائی کے وسط تک ‘ کہنی تک اور بازو تک ‘ پر ہاتھ کا اطلاق ہوتا ہے۔ ثالثا : اس آیت میں یہ بیان نہیں ہے کہ ہاتھ کاٹنے کا حکم امت کے عام افراد کو یاد گیا ہے ‘ یا یہ حکم صرف مسلمان حاکم کے لیے ہے۔ ان تمام امور کا بیان نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت اور احادیث میں ہے ‘ اس سے معلوم ہوا کہ احادیث کے بغیر قرآن مجید کے معنی کو سمجھنا اور اس کے حکم پر عمل کرنا ممکن نہیں ہے۔ 

حد سرقہ کے نصاب میں امام شافعی کا نظریہ : 

امام ابو عبداللہ محمد بن ادریس شافعی متوفی ٢٠٤ ھ لکھتے ہیں : 

جب چور کسی چیز کو چرائے تو اس چیز کی قیمت کا اس دن سے لحاظ کیا جائے گا ‘ جس دن اس نے چوری کی تھی۔ اگر اس کی قیمت چوتھائی دینار کو پہنچ گئی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا ‘ ورنہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (الام ‘ ج ٦‘ ص ١٤٧‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٢٠٤ ھ) 

امام شافعی کا استدلال اس حدیث سے ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں :۔

حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٨٩‘ صحیح مسلم ‘ حدود ١‘ (١٦٨٤) ٤٣١٩) سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٨٣‘ سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٤٩‘ مسند احمد ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣١٣٤‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨‘ ص ٢٥٤‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٧٥‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٩‘ ص ٤٧٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٦٢‘ مسند حمیدی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٩‘ مسند الشافعی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣‘ شرح السنہ للبغوی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٩٥) 

واضح رہے کہ چوتھائی دینار تین درہم کے مساوی ہے۔ 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چوتھائی دینار میں ہاتھ کاٹو اور اس سے کم میں نہ کاٹو ‘ اور ان دنوں میں چوتھائی دینار تین درہم کے برابر تھا اور دینار بارہ درہم کا تھا اور اگر چوری چوتھائی درہم سے کم ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹنے کا نہ کہتی۔ 

(علامہ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ مسند احمد ‘ (مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ١٧‘ رقم الحدیث : ٢٤٣٩٦۔ ٢٣٩٦٠‘ طبع قاہرہ) 

حد سرقہ کے نصاب میں امام مالک کا نظریہ : 

امام سحنون بن سعید التنوخی مالکی متوفی ٢٥٦ ھ لکھتے ہیں : 

میں نے امام مالک سے پوچھا یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص آج تین درہم کی چوری کرے اور وہ چوتھائی دینار کے برابر آج نہ ہوں کیونکہ دینار کی قیمت بڑھ گئی ہو تو کیا آپ کے قول کے مطابق اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ امام مالک نے فرمایا ہاں اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا ‘ جبکہ اس نے اس دن تین درہم کی مالیت کی چوری کی ہو۔ کیونکہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین درہم کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا اور حضرت عثمان (رض) نے تین درہم کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا۔ (المدوۃ الکبری ‘ ج ٦‘ ص ٢٦٥‘ مطبوعہ مطبعہ السعادۃ ‘ مصر ١٣٢٣ ھ) 

امام مالک کی دلیل یہ حدیث ہے : 

امام مالک بن انس اصبحی متوفی ١٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ (الموطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٧٢‘ مسند الشافعی ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ٨٣‘ صحیح البخاری ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٧٦٩٥‘ صحیح مسلم ‘ حدود ‘ ٦‘ (٦٨٦) ٤٣٢٧‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٨٥‘ سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٥١‘ سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٢١‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٥٣١٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٤٤٦٣‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٣‘ ص ١٩٠‘ سنن دارقطنی “ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٨٥‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨ ص ٢٥٦‘ شرح السنہ للبغوی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٩٦) 

حد سرقہ کے نصاب میں امام احمد بن حنبل کا نظریہ : 

علامہ موفق الدین عبداللہ بن احمد بن قدامہ حنبلی متوفی ٦٢٠ ھ لکھتے ہیں : 

تمام فقہاء کے نزدیک نصاب سے کم چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ البتہ احسن بصری ‘ داؤد ظاہری ‘ امام شافعی کے نواسے اور خوارج کا قول یہ ہے کہ قلیل چیز کی چوری ہو یا کثیر کی ‘ چور کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ کیونکہ قرآن مجید میں مطلقا ارشاد ہے (آیت) ” السارق والسارقۃ فاقطعوا ایدیھما “۔ (المائدہ : ٣٨) چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے ہاتھ کاٹ دو اور حضرت ابوہریرہ (رض) نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ چور پر لعنت فرمائے ‘ وہ رسی چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور وہ بیضہ چراتا ہے اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے۔ (صحیح بخاری ‘ و صحیح مسلم) نیز قلیل چیز کی چوری کرنے والا بھی حرز (جس جگہ کی حفاظت ہو) سے چیز چراتا ہے ‘ تو کثیر چیز کی چوری کی طرح اس پر بھی اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ 

علامہ ابن قدامہ حنبلی فرماتے ہیں ‘ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا صرف تین چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور اس پر صحابہ کا جماع ہے اور اجماع کی وجہ سے آیت کے عموم میں تخصیص کی جائے گی اور ہوسکتا ہے کہ اس رسی پر ہاتھ کاٹا جائے جس کی مالیت ربع دینار ہو (جیسے جہازوں کی رسی ‘ سعیدی) اور بیضہ سے مراد مرغی کا انڈا نہ ہو ‘ بلکہ لوہے کا بیضہ یعنی ” خود “ مراد ہو۔ 

امام احمد سے نصاب سرقہ میں مختلف روایات ہیں۔ ابو اسحاق جو زجانی سے ربع طلائی دینار یا تین چاندی کے درہموں کی ‘ روایت ہے ‘ یا جو ان کی مالیت ہو۔ امام مالک اور اسحاق کا بھی یہی قول ہے اور اثرم سے یہ روایت ہے کہ اگر سونے یا چاندی کے علاوہ کسی چیز کی چوری کی ہے تو چوتھائی دینار یا تین درہم کی مالیت نصاب ہے ‘ اور ان میں سے کم ترمالیت کو نصاب مانا جائے گا۔ لیث اور ثور سے بھی یہی مروی ہے۔ 

حضرت عائشہ (رض) نے فرمایا صرف چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری پر ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ حضرت عمر (رض) ‘ حضرت عثمان (رض) اور حضرت علی (رض) سے بھی یہی روایت ہے۔ عمر بن عبدالعزیز ‘ اوزاعی ‘ امام شافعی اور ابن منذر کا بھی یہی قول ہے اور عثمان بتی نے کہا کہ ایک درہم یا اس سے زیادہ کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ حضرت ابوہریرہ (رض) اور ابو سعید (رض) سے روایت ہے ‘ کہ چار درہم یا اس سے زیادہ کی چوری میں ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ اور حضرت عمر (رض) سے ایک روایت ہے کہ صرف پانچ درہم میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ سلیمان بن یسار ‘ ابن ابی لیلی اور ابن شبرمہ کا بھی یہی قول ہے۔ جو زجانی نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ کہ حضرت ابوبکر (رض) نے اس ڈھال کے عوض ہاتھ کاٹ دیا جس کی قیمت پانچ درہم تھی۔ عطاء ‘ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب کا یہ قول ہے کہ ایک دینار یا دس درہم سے کم کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘ کیونکہ حجاج بن ارطاۃ نے اپنی سند کے ساتھ روایت کیا ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا دس درہم سے کم میں قطع ید نہیں ہے اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ڈھال کے عوض ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا ‘ اس کی قیمت ایک دینار یا دس درہم تھی اور نخعی سے روایت ہے کہ چالیس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ 

علامہ ابن قدامہ حنبلی لکھتے ہیں : ہماری دلیل یہ ہے کہ حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹ دیا جس کی قیمت تین درہم تھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) علامہ ابن عبدالبر نے کہا یہ حدیث اس باب میں صحیح ترین حدیث ہے اور اس میں اہل علم کا کوئی اختلاف نہیں ہے اور امام ابوحنیفہ کی جو پہلی حدیث (جس میں ایک دینار یا دس درہم کی ڈھال پر قطع ید کا ذکر ہے) اس پر دلالت نہیں کرتی کہ دس درہم سے کم میں ہاتھ کاٹنا جائز نہیں۔ کیونکہ جو تین درہم کی چوری پر ہاتھ کاٹتے ہیں ‘ وہ دس درہم کی چوری پر بھی ہاتھ کاٹتے ہیں۔ (المغنی ج ٩‘ ص ٩٥۔ ٩٤‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ١٤٠٥ ھ) 

حد سرقہ کے نصاب میں امام ابوحنیفہ کا نظریہ اور ائمہ ثلاثہ کے جوابات : 

علامہ شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی متوفی ٤٨٣ ھ لکھتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ڈھال کی قیمت کے ماسوا میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے ‘ اور ان دونوں اس کی قیمت دس درہم کے برابر تھی ‘ اور اس میں یہ دلیل ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹنے کے لیے سرقہ میں نصاب معتبر ہے۔ 

پھر نصاب کی مقدار میں اختلاف ہے۔ ہمارے علماء رحہم اللہ نے کہا یہ نصاب دس درہم یا ایک دینار ہے۔ امام شافعی نے کہا چوتھائی دینار ہے۔ امام مالک نے کہا : تین درہم ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت ابو سعید خدری نے کہا چالیس درہم ہے۔ امام شافعی نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ از زھری از عروہ از حضرت عائشہ (رض) روایت ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چوتھائی درہم یا اس سے زیادہ میں ہاتھ کاٹا جائے گا اور اس لیے کہ ان کا اتفاق ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں صرف ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جاتا تھا ‘ اور ڈھال کی قیمت میں اختلاف ہے اور اختلاف کے وقت اس کی کم سے کم قیمت کا اعتبار کیا جائے گا۔ اور کم سے کم قیمت جو منقول ہے ‘ وہ تین درہم ہے۔ اس لیے امام مالک نے سرقہ کا نصاب تین درہم قرار دیا ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں دینار کی قیمت بارہ درہم تھی ‘ تو تین درہم چوتھائی دینار ہوگئے اور ہمارے علماء نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے۔ 

از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک دینار یا دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور حضرت ابن مسعود (رض) سے موقوفا اور مرفوعا مروی ہے کہ ایک دینار یا دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اسی طرح حضرت علی (رض) سے بھی مروی ہے اور حدیث مشہور میں ہے کہ ایک دینار یا دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور ایمن بن ابی ایمن ‘ حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت ابن عمر (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں جس ڈھال کی چوری میں ہاتھ کاٹا گیا تھا ‘ وہ دس درہم کی تھی ‘ اور ان صحابہ کرام کے قول کی طرف رجوع کرنا زیادہ لائق ہے۔ کیونکہ وہ مجاہدین میں سے تھے اور ہتھیاروں کی قیمت اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ جاننے والے تھے ‘ اور یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ڈھال کی اس قیمت کا اعتبار کرنا چاہیے جو کم سے کم ہو ‘ کیونکہ چوری شدہ مال کی کم قیمت اس لیے لگائی جاتی ہے ‘ تاکہ حد کو ساقط کیا جاسکے ‘ اور یہاں حد کو ساقط کرنا اس وقت متحقق ہوگا جب ڈھال کی قیمت زیادہ سے زیادہ لگائی جائے۔ 

اور روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک چور کو لایا گیا ‘ جس نے کپڑا چرایا تھا۔ حضرت عمر (رض) نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ حضرت عثمان (رض) نے کہا اس کی چوری دس درہم کے مساوی نہیں ہے ‘ پھر اس کپڑے کی قیمت معلوم کی گئی تو اس کی قیمت آٹھ درہم ڈالی گئی تو اس شخص سے حد ساقط کردی گئی۔ یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ نصاب سرقہ کا دس درہم ہونا صحابہ کے درمیان معروف اور مشہور تھا۔ نیز نصاب حد کو نصاب مہر پر قیاس کیا گیا ہے اور یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ کم از کم مہر دس درہم ہے ‘ اور نکاح اور ہاتھ کاٹنے دونوں میں ایک عضو پر تصرف کیا جاتا ہے ‘ جو شریعت میں تصرف کرنے سے محفوظ اور مامون ہے۔ اس لیے اس تصرف کا استحقاق مال کثیر کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔ 

حضرت عائشہ (رض) سے چوتھائی دینار کی جو حدیث مروی ہے ‘ اس میں بہت زیادہ اضطراب ہے اور اکثر محدثین کا اس پر اتفاق ہے کہ یہ صرف حضرت عائشہ (رض) کا قول ہے ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نہیں ہے ‘ اور حضرت عائشہ (رض) کا مشہور قول یہ ہے کہ کسی معمولی چیز کے عوض ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا ‘ بلکہ ڈھال کی قیمت کے عوض ہاتھ کاٹ دیا جاتا تھا۔ اگر حضرت عائشہ (رض) کے پاس چوتھائی دینار کی صریح حدیث ہوتی تو وہ یہ مبہم جواب نہ دیتیں۔ پھر یہ بھی احتمال ہے کہ ابتداء میں چوتھائی دینار کی چوری پر ہاتھ کاٹا جاتا ہو ‘ بعد میں دس درہم کو نصاب سرقہ مقرر کر کے چوتھائی دینار کے حکم کو منسوخ کردیا ‘ تاکہ ناسخ حکم ‘ منسوخ حکم سے خفیف اور آسان ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ہم جس آیت کو منسوخ کرتے ہیں ‘ یا اس کو بھلا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا اس کی مثل لے آتے ہیں۔ (المبسوط ج ٩‘ ١٣٨۔ ١٣٦‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالمعرفہ ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

مذہب احناف کے ثبوت میں احادیث : 

علامہ سرخسی کی اس مفصل عبارت میں ائمہ ثلاثہ کے دلائل کا جواب آگیا ہے ‘ تاہم علامہ سرخسی نے جن احادیث سے استدلال کیا ہے ‘ ہم ان کی تخریج اور مذہب احناف کی تائید میں مزید احادیث بیان کر رہے ہیں۔ 

امام ابو عبدالرحمن احمد بن شعیب نسائی متوفی ٣٠٣ ھ روایت کرتے ہیں :

ایمن بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صرف ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا ہے اور اس دن ڈھال کی قیمت ایک دینار تھی۔ امام نسائی نے اس حدیث کو چھ مختلف سندوں سے روایت کیا ہے۔ ہارون بن عبداللہ کی روایت میں ہے ‘ اس کی قیمت ایک دینار یادس درہم تھی۔ (سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٤٩٦٣‘ ٤٩٦٢‘ ٤٩٦١‘ ٤٩٦٠‘ ٤٩٥٩‘ ٤٩٥٨) 

امام نسائی نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا ہے ‘ کہ ڈھال کی قیمت اس دن دس درہم تھی۔ (سنن نسائی ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٤٩٦٦‘ ٤٩٦٥‘ سنن ابوداؤد رقم الحدیث : ٤٣٨٧‘ یہ حدیث عطا سے مرسلا بھی روایت کی ہے۔ رقم الحدیث : ٤٩٦٦‘ ٤٩٦٧‘ المستدرک ‘ ج ٤‘ ص ٣٧٩‘ حاکم نے اس کو اس کو صحیح کہا اور ذہبی نے اس کی موافقت کی۔ امام بیہقی نے متعدد اسانید کے ساتھ ایمن سے روایت کیا ہے۔ سنن کبری ‘ ج ٨‘ ص ٢٥٧‘ مصنف ابی شیبہ ‘ ج ٩ ص ٤٧٤‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ٠ ا ص ٢٣٣‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٣٩٢‘ ٣٣٩١‘ ٣٣٩٠‘ ٣٣٨٩) 

امام نسائی از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود روایت کرتے ہیں ‘ ڈھال کی قیمت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں دس درہم تھی۔ (سنن نسائی ‘ ج ٨ رقم الحدیث : ٤٩٧١‘ سنن دارقطنی ج ٣‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٣٨٨‘ ٣٣٨٧) 

امام احمد بن حنبل متوفی ٢٤١ ھ روایت کرتے ہیں : 

از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دس درہم سے کم میں قطع ید (ہاتھ کاٹنا) نہیں ہے۔ 

(علامہ احمد شاکر ‘ متوفی ١٣٧٧ ھ نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث : ٦٩٠٠‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٣٩٣‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٦‘ ص ٣٧٣) 

امام عبدالرزاق بن ھمام متوفی ٢١١ روایت کرتے ہیں : 

قاسم بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) کے پاس ایک شخص کو لایا گیا جس نے کپڑا چرایا تھا۔ آپ نے حضرت عثمان (رض) سے فرمایا : اس کی قیمت لگاؤ۔ حضرت عثمان (رض) نے اس کی آٹھ درہم قیمت لگائی ‘ تو آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا ‘ (المصنف ‘ ج ١٠‘ ص ٢٣٥‘ ٢٣٤‘ ابن ابی شیبہ ‘ ج ٩‘ ص ٤٧٦‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨ ص ٢٦٠) 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم سے حکم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (مصنف عبد الرزاق ‘ ج ١٠‘ ص ٤٣٣) 

حضرت ابن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ ایک دینار یا دس درہم سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١٠‘ ص ٢٣٣‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١٠‘ ص ٢٣٣‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ٩‘ ص ٤٧٥‘ سنن کبری ‘ للبیہقی ‘ ج ٨‘ ص ٢٦٠‘ کتاب الاثار لامام محمد ‘ ص ١٣٧‘ سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٣٩٨‘ ٣٣٩٧) 

امام محمد بن حسن شیبانی متوفی ١٨٩ ھ لکھتے ہیں : 

ابراھیم نخعی نے کہا کہ ڈھال سے کم قیمت میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اور اس وقت ڈھال کی قیمت دس درہم تھی اور اس سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ (کتاب الآثار ‘ ص ١٣٧‘ مطبوعہ ادارۃ القرآن کراچی ‘ ١٤٠٧ ھ) 

ابن مسیب بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب چور اس قدر (مال کی) چوری کرے تو ڈھال کی قیمت کی پہنچ جائے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اس وقت ڈھال کی قیمت دس درہم تھی (مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١٠‘ ص ٢٣٣‘ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٣٩٠ ھ) 

خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ ثلاثہ تین درہم یا چوتھائی دینار کو ہاتھ کاٹنے کا نصاب قرار دیتے ہیں اور امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب دس درہم یا ایک دینار کو نصاب قرار دیتے ہیں۔ دس درہم دو اعشاریہ چھ دو پانچ (٦٢٥، ٢) تولہ اور تیس اعشاریہ چھ ‘ ایک آٹھ پانچ چار (١٨٥٤ ء ٩) گرام چاندی کے برابر ہے۔ 

کون سا ہاتھ کس جگہ سے کاٹا جائے ؟ 

چور کا دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ کیونکہ امام بیہقی نے ابراہیم نخعی سے روایت کیا ہے۔ ہماری قرات میں ہے (آیت) ” فاقطعوا ایمانھما “ چوری کرنے والے مرد اور چوری کرنے والی عورت کے دائیں ہاتھ کو کاٹ دو ۔ (سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٨ ص ٢٧٠‘ مطبوعہ نشرالسنہ ‘ ملتان) 

دایاں ہاتھ پہنچے سے کاٹا جائے گا۔ 

امام دارقطنی متوفی ٣٨٥ ھ روایت کرتے ہیں : 

از عمرو بن شعیب از والد خود از جد خود ‘ حضرت صفوان بن امیہ بن خلف مسجد میں سوئے ہوئے تھے ‘ ان کے سرہانے ان کے کپڑے تھے ‘ ایک چور آکر وہ کپڑے لے گیا ‘ وہ اس چور کو پکڑ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے اس نے چوری کا اقرار کرلیا ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا۔ حضرت صفوان نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا عرب کے ایک شخص کا میرے کپڑوں کے عوض ہاتھ کاٹا جائے گا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیا میرے پاس پکڑ کر لانے سے پہلے یہ عرب نہیں تھا ؟ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک مجرم حاکم کے پاس نہ پہنچے ‘ تم شفاعت کرسکتے ہو۔ اور جب وہ حاکم تک پہنچ گیا ‘ پھر اس کو معاف کیا تو اللہ اس کو معاف نہ کرے ‘ پھر آپ نے حکم دیا کہ پہنچے (ہتھیلی اور کلائی کا جوڑ) سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ (سنن دارقطنی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٣٤٣٠‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٧ ھ) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

عدی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چور کا ہاتھ ہتھیلی کے جوڑ سے کاٹ دیا۔ 

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چور کا ہاتھ ہتھیلی کے جوڑ سے کاٹ دیا۔ عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر چور کا ہاتھ ہتھیلی کے جوڑ سے کاٹ دیتے تھے۔ (سنن کبری ج ٨‘ ص ٢٧١‘ مطبوعہ نشرالسنہ ‘ ملتان) 

جن صورتوں میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا : 

فتاوی عالمگیری میں ہاتھ کاٹنے کی حسب ذیل شرائط بیان کی گئی ہیں : 

(١) جو چیز دارالسلام میں مباح یا خسیس اور حقیر ہو اس کے چرانے پر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ‘ جیسے افتادہ لکڑی ‘ گھاس پھوس ‘ سرکنڈا ‘ مچھلی ‘ ہڑتال اور چونا وغیرہ۔ (ہدایہ کافی ‘ اور اختیار) 

(٢) سونا ‘ چاندی اگر مٹی یا پتھر میں مخلوط ہو اور اس کو اس شکل میں چرایا جائے تو اس پر حد سرقہ نہیں ہے۔ (ظاہر الروایہ ) ۔ 

(٣) جو چیز جلد خراب ہوجاتی ہے جیسے دودھ ‘ گوشت اور تازہ پھل ‘ ان کے چرانے پر حد نہیں ہے۔ (ہدایہ) 

(٤) جو پھل درخت پر لگے ہو یا گندم کھیت میں ہو ‘ اس کے چرانے پر حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 

(٥) قحط کے ایام میں طعام کی چوری پر حد نہیں ہے۔ خواہ طعام جلد خراب ہونے والا ہو یا نہ ہو ‘ حفاظت میں رکھا گیا ہو یا نہ ہو اور قحط کا سال نہ ہو لیکن جس طعام کو چرایا ہے وہ جلد خراب ہونے والا ہے ‘ پھر بھی حد نہیں ہے اور اگر طعام جلد خراب ہونے والا نہ ہو ‘ لیکن غیر محفوظ ہو ‘ پھر بھی حد نہیں ہے۔ (ذخیرہ) 

(٦) مٹی کی دیگچی کی چوری میں حد نہیں ہے۔ (تبیین) 

(٧) درخت کو باغ سے جڑ سمیت چرانے پر حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 

(٨) ہاتھی کے دانت کی چوری میں حد نہیں ہے ‘ بشرطیکہ اس سے کوئی چیز بنائی نہ گئی ہو۔ (ایضاح) 

(٩) شیشہ کی چوری میں حد نہیں ہے۔ (فتح) 

(١٠) جن جانوروں کا شکار کیا جاتا ہے ‘ ان کے چرانے پر حد نہیں ہے ‘ خواہ وہ وحشی ہوں یا غیر وحشی ‘ بری ہو یا بحری ‘ (تتارخانیہ) 

(١١) مہندی ‘ سبزیوں ‘ تازہ پھلوں ‘ گھاس ‘ پانی ‘ گٹھلی اور جانوروں کی کھالوں کے چرانے میں حد نہیں۔ الایہ کہ کھال سے مصلی یا کوئی اور چیز بنائی گئی ہو۔ (عتابیہ) 

(١٢) خمر ‘ خنزیر ‘ باقی پرندوں ‘ وحشی جانوروں ‘ کتے ‘ چیتے ‘ مرغی ‘ بطخ اور کبوتر کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (تمرتاشی) 

(١٣) طنبور ‘ دف ‘ مزمار اور باقی گانے بجانے کے آلات کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 

(١٤) طبل اور بربط اگر لہو ولعب کے لیے ہوں ‘ تو ان کے چرانے میں حد نہیں ہے ‘ اگر جہاد کا طبل ہے تو اس میں اختلاف ہے۔ (محیط) 

(١٥) پنیر اور روٹی کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 

(١٦) شطرنج اور چوسر خواہ سونے کی بنی ہوئی ہوں ‘ ان کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (محیط) 

(١٧) مصحف (قرآن مجید) کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 

(١٨) فقہ ‘ نحو ‘ لغت اور شعر وادب کی کتابوں کے چرانے میں بھی حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 

(١٩) تیر کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (ذخیرہ) 

(٢٠) سونے یا چاندی کی صلیب یا بت کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ البتہ سونے اور چاندی کے جن سکوں پر تصویریں ہوں ‘ ان پر حد ہے۔ (عتابیہ) 

(٢١) بڑی عمر یا سمجھ دار غلام کے چرانے میں حد نہیں ہے۔ (ہزفائق) 

(٢٢) جس شخص نے اپنے مقروض سے دس درہم غیر موجل قرض لینا ہو اور وہ اس سے اتنی مالیت کی چیز چرالے تو حد نہیں ہے اور اگر قرض موجل ہو تو قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ حد ہو اور استحسان کا تقاضا ہے کہ حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 

(٢٣) اگر نابالغ بیٹے کے مقروض کے مال سے چوری کی تو حد نہیں ہے۔ (محیط) 

(٢٤) اگر چاندی کے برتن میں نبیذ یا جلد خراب ہونے والی کوئی چیز (مثلا دودھ) تھی ‘ اس کو چرا لیا تو حد نہیں ہے۔ 

(٢٥) جس برتن میں خمر (شراب) تھی اس کو چرا لیا تو اس میں حد نہیں ہے۔ (محیط) 

(٢٦) اگر قبر سے سے درہم ‘ دینار یا کفن کے علاوہ کوئی اور چیز چرائی تو اس پر حد نہیں ہے۔ (السراج الوہاج) 

(٢٧) کفن چرانے پر حد نہیں ہے۔ (کافی) 

(٢٨) مال غنیمت یا مسلمانوں کے بیت المان سے چوری کرنے پر حد نہیں ہے۔ (نہایہ) 

(٢٩) جس چیز پر ایک بار حد لگ چکی ہو ‘ اس کو دو بار چرانے پر حد نہیں ہے۔ (شرح الطحاوی ‘ ظہیریہ) 

(٣٠) حربی مستامن کے مال سے چوری کرنے پر حد نہیں ہے۔ (مبسوط) 

علامہ ابن ہمام حنفی لکھتے ہیں : 

(٣١) مسجد کا سامان مثلا چٹائیاں اور قندیل چرانے پر حد نہیں ہے۔ 

(٣٢) کعبہ کے پرودوں کو چرانے پر حد نہیں ہے۔ 

(٣٣) جن کاغذوں پر کچھ لکھا ہوا یا چھپا ہوا ہو ‘ ان کے چرانے پر حد نہیں ہے۔ 

(٣٤) اگر کسی شخص نے امانت میں خیانت کی تو اس پر حد نہیں ہے۔ 

(٣٥) لٹیرے اور اچکے پر حد نہیں ہے۔ 

(٣٦) اگر کوئی شخص اپنے شریک کے مال سے چوری کرے تو اس پر حد نہیں ہے۔ 

(٣٧) ماں ‘ باپ ‘ اولاد یا دیگر محارم کے مال سے چوری پر حد نہیں ہے۔ 

(٣٨) اگر محرم کے گھر سے کسی ایک نے دوسرے کا مال چرایا تو اس پر حد نہیں ہے۔ 

(٣٩) اگر زوجین میں سے کسی ایک نے دوسرے کا مال چرایا تو اس پر حد نہیں ہے۔ 

(٤٠) غلام یا لونڈی نے اپنے مالک کا مال چرایا یا لونڈی نے اپنی مالکہ کا مال چرایا تو اس پر حد نہیں ہے۔ 

(٤١) اگر مالک نے اپنے مکاتب کا مال چرایا تو اس پر حد نہیں ہے۔ 

(٤٢) حمام یا جس گھر میں جانے کا اذن عام ہو ‘ اس میں چوری کرنے پر حد نہیں ہے۔ (فتاوی یالمگیری ‘ ج ٢‘ ص ١٧٩‘ ١٧٥‘ ملخصا مطبوعہ مطبعہ امیریہ ‘ کبری بولاق ‘ مصر ‘ ١٣١٠ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 39

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.