امام اعظم ابوحنیفہ : شرف تابعیت

شرف تابعیت :۔

امام اعظم قدس سرہ کو متعدد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے شرف ملاقات بھی حاصل تھا ،آپکے تمام انصاف پسندتذکرہ نگار اور مناقب نویس اس بات پر متفق ہیں اور یہ وہ خصوصیت ہے جو ائمہ اربعہ میں کسی کو حاصل نہیں ۔بلکہ بعض نے تو صحابہ کرام سے روایت کابھی ذکر کیاہے ۔

علامہ ابن حجر ہیتمی مکی لکھتے ہیں :۔

امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے صحابہ کرام کی ایک جماعت کو پایا ۔آپکی ولادت ۸۰ھ میں ہوئی ، اس وقت کوفہ میں صحابہ کرام کی ایک جماعت تھی ۔حضرت عبداللہ بن ابی اوفی کا وصال ۸۸ھ کے بعد ہواہے ۔

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت بصرہ میں موجود تھے اور ۹۵ھ میں وصال فرمایا ۔ آپ نے انکو دیکھا ہے ۔ ان حضرات کے سوا دوسرے بلاد میں دیگر صحابہ کرام بھی

موجود تھے ۔جیسے

٭ حضرت واثلہ بن اسقع شام میں ۔وصال ۸۵ھ

٭ حضرت سہل بن سعد مدینہ میں ۔وصال ۸۸ھ

٭ حضرت ابوالطفیل عامر بن واثلہ مکہ میں ۔وصال ۱۱۰ھ

یہ تمام صحابہ کرام میں آخری ہیں جنکا وصال دوسری صدی میں ہوا ۔اور امام اعظم نے ۹۳ھ میں انکو حج بیت اللہ کے موقع پر دیکھا ۔

امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ میں نے خود امام اعظم کو فرماتے سنا کہ:۔

میں ۹۳ھ میں اپنے والد کے ساتھ حج کو گیا ،اس وقت میری عمر سولہ سال کی تھی ۔میں نے ایک بوڑھے شخص کودیکھا کہ ان پر لوگوں کا ہجوم تھا ،میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ یہ بوڑھے شخص کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صحابی ہیں اور انکا نام عبداللہ بن حارث بن جزہے ،پھر میں نے دریافت کیا کہ ان کے پاس کیا ہے ؟ میرے والد نے کہا: ان کے پاس وہ حدیثیں ہیں جو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنی ہیں ۔میں نے کہا : مجھے بھی انکے پاس لے چلئے تاکہ میں بھی حدیث شریف سن لوں ،چنانچہ وہ مجھ سے آگے بڑھے اور لوگوں کو چیرتے ہوئے چلے یہاں تک کہ میں انکے قریب پہونچ گیا

اور میں نے ان سے سنا کہ آپ کہہ رہے تھے ۔

قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم : من ثفقہ فی دین اللہ کفاہ اللہ وھمہ ورزقہ من حیث لایحسبہ۔( کتاب بیان العلم ۱/ ۴۵)

رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے دین کی سمجھ حاصل کرلی اسکی فکروں کا علاج اللہ تعالیٰ کرتاہے اوراس کو اس طرح پر روزی دیتاہے کہ کسی کو شان وگمان بھی نہیں ہوتا۔

علامہ کوثری کی صراحت کے مطابق پہلا حج ۸۷ھ میں سترہ سال کی عمر میں کیا ،اور دوسرا ’۹۶‘ھ میں ۲۶سال کی عمرمیں ۔ اور متعدد صحابہ کرام سے شرف ملاقات حاصل ہوا ۔درمختار میںبیس اور خلاصہ اکمال میں چھبیس صحابہ کرام سے ملاقات ہونا بیان کی گئی ہے ۔

بہر حال اتنی بات متحقق ہے کہ صحابہ کرام سے ملاقات ہوئی اور آپ بلاشبہ تابعی ہیں اوراس شرف میں اپنے معاصرین واقران مثلا امام سفیان ثوری ،امام اوزاعی ،امام مالک،اور امام لیث بن سعد پر آپکو فضیلت حاصل ہے ۔(الخیرات الحسان لا بن حجر مکی ۲۲)

لہذا آپکی تابعیت کا ثبوت ہر شک وشبہ سے بالاتر ہے ۔ بلکہ آپکی تابعیت کے ساتھ یہ امر بھی متحقق ہے کہ آپ نے صحابہ کرام سے احادیث کاسماع کیا اورروایت کیاہے ۔تویہ وصف بھی بلاشبہ آپکی عظیم خصوصیت ہے ۔بعض محدثین ومورخین نے اس سلسلہ میں اختلاف بھی کیا ہے لیکن منصف مزاج لوگ خاموش نہیں رہے ،لہذا احناف کی طرح شوافع نے بھی اس حقیقت کو واضح کردیا ہے ۔

علامہ عینی حضرت عبداللہ بن ابی اوفی صحابی رسول کے ترجمہ میں لکھتے ہیں :۔

ھواحد من راٰہ ابوحنیفۃ من الصحابۃ وروی عنہ ولا یلتفت الی قول المنکر المتعصب وکان عمر ابی حنیفۃ حینئذ سبع سنین وھو سن التمییز ہذاعلی الصحیح ان مولد ابی حنیفۃ سنۃ ثمانین وعلی قول من قا ل سنۃ سبعین یکون عمر ہ حینئذ سبع عشرۃ سنۃ ویستبعدجدا ان یکون صحابی مقیما ببلدۃ وفی اہلہا من لارأہ واصحابہ اخبر بحالہ وہم ثقاۃ فی انفسہم ۔(عمدۃ القاری شرح البخاری للعینی ۱/۷۹۸)

عبداللہ بن ابی اوفی ان صحابہ سے ہیں جنکی امام ابو حنیفہ نے زیارت کی اور ان سے روایت کی قطع نظر کرتے ہوئے منکر متعصب کے قول سے امام اعظم کی عمر اس وقت سات سال کی تھی کیونکہ صحیح یہ ہے کہ آپ کی ولادت ۸۰ھ میں ہوئی اور بعض اقوال کی بنا پر اس وقت آپکی عمر سترہ سال کی تھی۔ بہر حال سات سال عمر بھی فہم وشعور کاسن ہے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک صحابی کسی شہر میں رہتے ہوں اور شہر کے رہنے والوں میں ایسا شخص ہو جس نے اس صحابی کو نہ دیکھا ہو۔ اس بحث میں امام اعظم کی تلامذہ کی بات ہی معتبر ہے کیونکہ وہ ان کے احوال سے زیادہ واقف ہیں اور ثقہ بھی ہیں ۔

ملاعلی قاری امام کردری کے حوالہ سے لکھتے ہیں :۔

قال الکردری جماعۃ من المحدثین انکر واملاقاتہ مع الصحابۃ واصحابہ اثبتوہ بالاسانید الصحاح الحسان وہم اعرف باحوالہ منہم والمثبت العدل اولی من النافی۔(شرح مسند الامام للقاری ۲۸۵)

امام کردری فرماتے ہیں کہ محدثین کی ایک جماعت نے امام اعظم کی صحابہ کرام سے ملاقات کا انکار کیا ہے اور انکے شاگردوں نے اس بات کو صحیح اور حسن سندوں کے ساتھ ثابت کیا

اور ثبوت روایت نفی سے بہتر ہے۔

مشہور محدث شیخ محمد طاہر ہندی نے کرمانی کے حوالہ سے لکھا ہے:۔

واصحابہ یقولون انہ لقی جماعۃ من الصحابۃ وروی عنہم۔( المغنی للعراقی ۸۰)

امام اعظم کے شاگرد کہتے ہیں کہ آپ نے صحابہ کی ایک جماعت سے ملاقات کی ہے اور ان سے سماع حدیث بھی کیا ہے ۔

امام ابو معشر عبدالکریم بن عبدالصمد طبری شافعی نے امام اعظم کی صحابہ کرام سے مرویات میں ایک مستقل رسالہ لکھا اور اس میں روایات مع سند بیان فرمائیں۔ نیز انکو حسن وقوی بتایا ۔ امام سیوطی نے ان روایات کو تبییض الصحیفہ میں نقل کیا ہے جن کی تفصیل یوں ہے ۔

عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ سمعت انس بن مالک یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم۔ (سوانح بے بہائے امام اعظم ابو حنیفہ ۶۴)

امام سیوطی نے فرمایا یہ حدیث پچاس طرق سے مجھے معلوم ہے اور صحیح ہے ۔

حضرت امام ابو یوسف حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا :علم کا طلب کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے ۔

عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ سمعت انس بن مالک یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : الدال علی الخیر کفاعلۃ ۔(سوانح بے بہائے امام اعظم ابو حنیفہ ۶۴)

اس معنی کی حدیث مسلم شریف میں بھی ہے ۔

حضرت امام ابو یوسف حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورانہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : نیکی کی رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کے مثل ہے ۔

عن ابی یوسف عن ابی حنیفۃ سمعت انس بن مالک یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول :ان اللہ یحب اغاثۃ اللہفان ۔(سوانح بے بہائے امام اعظم ابو حنیفہ ۶۴)

ضیاء مقدسی نے مختارہ میں اسکو صحیح کہا۔

حضرت امام ابویوسف حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ

تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : بیشک اللہ تعالیٰ مصیبت زدہ کی دست گیری کو پسند فرماتاہے ۔

عن یحی بن قاسم عن ابی حنیفۃ سمعت عبداللہ بن ابی اوفی یقول سمعت رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم یقول : من بنی للہ مسجدا ولو کمفحص قطاۃ بنی اللہ لہ بیتا فی الجنۃ ۔(سوانح بے بہائے امام اعظم ابو حنیفہ ۶۶)

امام سیوطی فرماتے ہیں ،اس حدیث کا متن صحیح بلکہ متواتر ہے ۔

حضرت یحیی بن قاسم حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فرماتے سنا کہ انہوں نے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : جس نے اللہ کی رضا کیلئے سنگ خوار کے گڑھے کے برابر بھی مسجد بنائی تو اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں گھر بنائے گا ۔

عن اسمعیل بن عیاش عن ابی حنیفۃ عن واثلۃ بن اسقع ان رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم قال :دع مایریبک الی مالا یریبک ۔(سوانح بے بہائے امام اعظم ابو حنیفہ ۶۵)

امام ترمذی نے اس کی تصحیح فرمائی ۔

حضرت اسمعیل بن عیاش حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شک وشبہ کی چیزوں کو چھوڑ کر ان چیزوں کو اختیار کرو جو شکوک وشبہات سے بالاتر ہیں ۔

ان تمام تفصیلات کی روشنی میں یہ بات ثابت ومتحقق ہے کہ امام اعظم صحابہ کرام کی رویت وروایت دونوں سے مشرف ہوئے ۔یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ امام اعظم کے بعض سوانح نگا راپنی صاف گوئی اور غیر جانب داری کا ثبوت دیتے ہوئے وہ باتیں بھی لکھ گئے ہیں جن سے تعصب کا اظہار ہوتاہے ۔ان کے پیچھے حقائق تو کیا ہوتے دیانت سے بھی کام نہیں لیا گیا ۔اس سلسلہ میں علامہ غلام رسول سعیدی کی تصنیف تذکرۃ المحدثین سے ایک طویل اقتباس ملاحظہ ہو لکھتے ہیں ۔

شبلی نعمانی نے امام اعظم کی صحابہ کرام سے روایت کے انکار پر کچھ عقلی وجوہات بھی پیش کئے ہیں لکھتے ہیں ۔

میرے نزدیک اس کی ایک اور وجہ ہے۔ محدثین میں باہم اختلاف ہے کہ حدیث سیکھنے کیلئے کم از کم کتنی عمرشرط ہے ؟ اس امر میں ارباب کوفہ سب سے زیادہ احتیاط کرتے تھے یعنی بیس برس سے کم عمر کا شخص حدیث کی درسگاہ میں شامل نہیں ہوسکتا تھا ، ان کے نزدیک چونکہ حدیثیں بالمعنی روایت کی گئی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ طالب علم پوری عمر کو پہنچ چکا ہوورنہ مطالب کو سمجھنے اوراس کے اداکرنے میں غلطی کا احتمال ہے ،غالباً یہی قید تھی جس نے امام ابوحنیفہ کو ایسے بڑے شرف سے محروم رکھا ۔‘‘

اس سلسلہ میں اولاً تو ہم یہ پوچھتے ہیں کہ اہل کوفہ کایہ قاعدہ کہ سماع حدیث کیلئے کم ازکم بیس سال عمر درکار ہے ، کونسی یقینی روایت سے ثابت ہے ؟ امام صاحب کی مرویات صحابہ کیلئے جب یقینی اورصحیح روایت کامطالبہ کیاجاتاہے تواہل کوفہ کے اس قاعدہ کو بغیر کسی یقینی اور صحیح روایت کے کیسے مان لیا گیا ،

ثانیاً :۔یہ قاعدہ خود خلاف حدیث ہے کیونکہ صحیح بخاری میں امام بخاری نے متی یصح سماع الصغیر کاباب قائم کیا ہے اس کے تحت ذکرفرمایاہے کہ محمود بن ربیع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے پانچ سال کی عمر میں سنی ہوئی حدیث کو روایت کیاہے ،اس کے علاوہ حسنین کریمین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عمر حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال کے وقت چھ اورسات سال تھی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی عمر حضور کے وصال کے وقت تیرہ سال تھی ،اور یہ حضرات آپ کے وصال سے کئی سال پہلے کی سنی ہوئی احادیث کی روایت کرتے تھے۔ پس روایت حدیث کیلئے بیس سال عمرکی قید لگاناطریقہ صحابہ کے مخالف ہے اور کوفہ کے ارباب علم وفضل اوردیانت دار حضرات کے بارے میں یہ بدگمانی نہیں کی جاسکتی کہ انہوں نے اتنی جلدی صحابہ کی روش کو چھوڑدیاہوگا ۔

ثالثا:۔برتقدیر تسلیم گزارش یہ ہے کہ اہل کوفہ نے یہ قاعدہ کب وضع کیا ،اس بات کی کہیں

وضاحت نہیں ملتی ۔اغلب اورقرین قیاس یہی ہے کہ جب علم حدیث کی تحصیل کاچرچا عام ہوگیا اور کثرت سے درس گاہیں قائم ہوگئیں اوروسیع پیمانے پر آثار وسنن کی اشاعت ہونے لگی ،اس وقت اہل کوفہ نے اس قید کی ضرورت کو محسوس کیاہوگا تاکہ ہرکہ ومہ حدیث کی روایت کرنا شروع نہ کردے ،یہ کسی طرح بھی باور نہیں کیاجاسکتا کہ عہد صحابہ میں ہی کوفہ کے اندر باقاعدہ درس گاہیں بن گئیں اوران میں داخلہ کیلئے قوانین اورعمر کا تعین بھی ہوگیا تھا ۔

رابعاً :۔اگریہ مان بھی لیاجائے کہ ۸۰ھ ہی میں کوفہ کے اندر باقاعدہ درسگاہیں قائم ہوگئی تھیں اوران کے ضوابط اورقوانین بھی وضع کئے جاچکے تھے توان درس گاہوں کے اساتذہ سے سماع حدیث کیلئے بیس برس کی قید فرض کی جاسکتی ہے مگر یہ حضرت انس اور حضرت عبداللہ بن ابی اوفی وغیرہ ان درس گاہوں میں اساتذہ تو مقررتھے نہیں کہ ان سے سماع حدیث بھی بیس سال کی عمر میں کیا جاتا ۔

خامساً :۔بیس برس کی قید اگر ہوتی بھی توکوفہ کی درس گاہوں کے لئے اگر کوفہ کاکوئی رہنے والا بصرہ جاکر سماع حدیث کرے تویہ قید اس پر کیسے اثر انداز ہوگی ؟ حضرت انس بصرہ میں رہتے تھے اورامام اعظم ان کی زندگی میں بارہابصرہ گئے اور ان کی آپس میں ملاقات بھی ثابت ہے توکیوں نہ امام صاحب نے ان سے روایت حدیث کی ہوگی ۔

سادساً:۔ اگر بیس سال عمر کی قید کو بالعموم بھی فرض کرلیا جائے توبھی یہ کسی طور قرین قیاس نہیں ہے کہ حضرات صحابہ کرام جن کا وجود مسعود نوادرروزگار اور مغتنمات عصر میں سے تھا ان سے از راہ تبرک وتشرف احادیث کے سماع کیلئے بھی کوئی شخص اس انتظار میں بیٹھا رہے گا کہ میری عمر بیس سال کو پہنچ لے تومیں ان سے جاکر ملاقات اور سماع حدیث کروں ۔حضرت انس کے وصال کے وقت امام اعظم کی عمر پندرہ برس تھی اورامام کردری فرماتے ہیں کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں امام اعظم بیس سے زائد مرتبہ بصرہ تشریف لے گئے ۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ امام اعظم پندرہ برس تک کی عمر میں بصرہ جاتے رہے ہوں اور حضرت انس سے مل کر اوران سے سماع حدیث کرکے نہ آئے ہوں ،راوی اورمروی عنہ میں معاصرت بھی ثابت ہوجائے توامام مسلم کے نزدیک روایت مقبول ہوتی ہے ۔ یہاں معاصرت کے بجائے ملاقات کے بیس سے زیادہ قرائن موجود ہیں پھر بھی قبول کرنے میں تامل کیا جارہاہے ۔

الحمد للہ العزیز ! کہ ہم نے اصول روایت اورقرائن عقلیہ کی روشنی میں اس امر کو آفتاب سے زیادہ روشن کردیا ہے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوصحابہ کرام سے روایت حدیث کا شرف حاصل تھا اوراس سلسلے میں جتنے اعتراضاف کئے جاتے ہیں ان پر سیر حاصل گفتگوکرلی ہے ۔ اس کے باوجود بھی ہم نے جو کچھ لکھا وہ ہماری تحقیق ہے ہم اسے منوانے کیلئے ہرگزاصرار نہیں کرتے ۔(تذکرۃ المحدثین ۔ مولانا غلام رسول سعیدی ۷۶ تا ۷۸)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.