سَمّٰعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ اَ كّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ‌ؕ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـئًـا‌ ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 42

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سَمّٰعُوۡنَ لِلۡكَذِبِ اَ كّٰلُوۡنَ لِلسُّحۡتِ‌ؕ فَاِنۡ جَآءُوۡكَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ اَوۡ اَعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ‌ ۚ وَاِنۡ تُعۡرِضۡ عَنۡهُمۡ فَلَنۡ يَّضُرُّوۡكَ شَيۡـئًـا‌ ؕ وَاِنۡ حَكَمۡتَ فَاحۡكُمۡ بَيۡنَهُمۡ بِالۡقِسۡطِ‌ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الۡمُقۡسِطِيۡنَ ۞

ترجمہ:

(یہ) جھوٹی باتیں بہت زیادہ سنتے ہو اور حرام بہت زیادہ کھاتے ہیں ‘ سو اگر وہ آپ کے پاس آئیں (تو آپ کو اختیار ہے) خواہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں خواہ ان سے اعراض فرمائیں، اور اگر آپ ان سے اعراض کریں گے تو یہ آپ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ‘ اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان (انصاف سے فیصلہ کریں ‘ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (یہ) جھوٹی باتیں بہت زیادہ سنتے ہو اور حرام بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ (المائدہ : ٤٢) 

سحت کا معنی اور اس کا حکم :

یہ جھوٹی باتیں بہت زیادہ سنتے ہیں اس کو تاکید کے لیے دوبارہ ذکر فرمایا ہے۔ اس کے بعد فرمایا : وہ سحت بہت زیادہ کھاتے ہیں۔ لغت میں سحت کا معنی ھلاک کرنا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” قال لھم موسیٰ ویلکم لا تفتروا علی اللہ کذبا فیسحتکم بعذاب “۔ (طہ : ٦١) 

ترجمہ : موسیٰ نے ان سے کہا : تم پر افسوس ہے جھوٹ بول کر اللہ پر بہتان نہ باندھو ‘ کہ وہ تمہیں عذاب سے ہلاک کر دے۔ 

اور سحت کا معی کسی چیز کو جڑ سے اکھاڑنا ہوتا ہے۔ عرب سرمونڈنے والے کے متعلق کہتے ہیں اسحت اس نے بال جڑ سے اکھاڑ دیئے۔ مال حرام کو بھی سحت کہتے ہیں ‘ کیونکہ وہ عبادات کو جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے اور ملیا میٹ کردیتا ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا صحت رشوت ہے۔ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا حاکم کو رشوت دینا سحت ہے۔ 

امام احمد بن علی بن مثنی تمیمی متوفی ٣٠٧ ھ روایت کرتے ہیں : 

مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت ابن مسعود (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا ‘ ایک شخص نے ان سے پوچھا سحت کیسے کہتے ہیں ؟ انہوں نے کہا فیصلہ کرنے میں رشوت لینا ‘ فرمایا : یہ کفر ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی (آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون “۔ (المائدہ : ٤٤) اور جو اللہ کے نازل کیے ہوئے کے موافق حکم نہ کریں وہ کافر ہیں۔ (مسند ابو یعلی ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٦٦‘ المعجم الکبیر ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٩١٠٠‘ حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند صحیح ہے ‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٤‘ ص ٢٠٠‘ المطالب العالیہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٣٥‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١٠‘ ص ١٣٩) 

امام محمد ابن جریر متوفی ٣١٠ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

مسروق بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے سحت کے متعلق پوچھا انہوں نے فرمایا ایک شخص کسی سے اپنی حاجت طلب کرے وہ اس کی حاجت پوری کرے ‘ پھر وہ اس کو ہدیہ دے جس کو وہ قبول کرلے۔ 

حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا زانیہ کی اجرت سحت ہے ‘ نر کی جفتی کی اجرت سحت ہے ‘ فصد لگوانے (رگ کاٹنے) والے کی اجرت سحت ہے ‘ اور کتے کی قیمت سحت ہے۔ 

فصد لگوانے (رگ کاٹنے) کی اجرت جائز ہے ‘ کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فصد لگوا کر اجرت دی ہے ‘ اس لیے حدیث کا یہ جز منسوخ ہے۔ امام مسلم حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ بنو بیاضہ کے ایک غلام نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فصد لگائی اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس غلام کو اجرت دی ‘ اور اس کے مالک سے اس کے خراج میں کمی کرنے کی سفارش کی۔ اگر یہ اجرت سحت (حرام) ہوتی تو آپ عطا نہ کرتے۔ (صحیح مسلم (١٢٠٢) ٣٩٦٥‘ سنن ابوداؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٤٢٣‘ مسند احمد ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٩٨١۔ ٢٨٠٦۔ ٣٠٧٨‘ مطبوعہ دارالحدیث قاہرہ ‘ نیز امام بخاری نے حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فصد لگوائی۔ حجاج کو اجرت دی اور ناک میں ڈوا ڈالی۔ صحیح بخاری ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٧٨۔ ٥٦٩١‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٦٢‘ سنن کبری للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٧٥٨٠‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٢٠‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

مسلم بن صبیح بیان کرتے ہیں کہ مسروق نے کسی شخص کی کسی کام میں شفاعت کی ‘ اس شخص نے ہدیہ میں انہیں باندی پیش کی تو مسروق بہت سخت غضبناک ہوئے اور کہا : مجھے معلوم ہوتا کہ تم ایسا کرو گے تو میں تمہارے کام میں سفارش نہ کرتا ‘ اور آئندہ کسی کام میں تمہاری سفارش نہیں کروں گا۔ میں نے حضرت ابن مسعود (رض) سے یہ سنا ہے کہ جو شخص کسی کا حق دلانے کے لیے سفارش کرے ‘ یا کسی سے ظلم دور کرنے کے لیے سفارش کرے ‘ پھر اس کو ہدیہ دیا جائے جس کو وہ قبول کرلے تو یہ سحت ہے۔ ان سے کہا گیا : اے ابو عبدالرحمن ! ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ فیصلہ کرنے پر کچھ لینا سحت ہے ‘ آپ نے فرمایا : فیصلہ کرنے پر لینا کفر ہے۔ 

حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں ‘ رگ کاٹنے والے کی اجرت ‘ زانیہ کی اجرت ‘ کتے کی قیمت ‘ جلد فیصلہ کرانے کی اجرت ‘ نجومی کی مٹھائی ‘ نر کی جفتی کی اجرت ‘ حکم میں رشوت ‘ شراب کی قیمت اور مردار کی قیمت سحت ہے۔ 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہر وہ گوشت جس کو سحت (مال حرام) نے بڑھایا ہو ‘ اس کے ساتھ دوزخ کی آگ زیادہ لائق ہے۔ آپ سے پوچھا گیا : یا رسول اللہ ! سحت کیا چیز ہے ـ؟ آپ نے فرمایا حکم میں رشت دینا۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٣٢٨۔ ٣٢٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

رشوت کی اقسام اور اس کا شرعی حکم :

علامہ حسن بن منصور اوزجندی (المعروف بہ قاضی خاں) متوفی ٥٩٢ ھ لکھتے ہیں : 

رشوت کی حسب ذیل چار قسمیں ہیں : 

(١) منصب قضا کی کو حاصل کرنے کیلیے رشوت دینا ‘ اس رشوت کا لینا اور دینا دونوں حرام ہیں۔ 

(٢) کوئی شخص اپنے حق میں فیصلہ کرانے کے لیے قاضی کو رشوت دے ‘ یہ رشوت جانبین سے حرام ہے ‘ خواہ وہ فیصلہ حق اور انصاف پر مبنی ہو یا نہ ہو ‘ کیونکہ فیصلہ کرنا قاضی کی ذمہ داری ہے اور اس پر فرض ہے۔ (اسی طرح کسی افسر کو اپنا کام کرانے کے لیے رشوت دینا ‘ یہ بھی جانبین سے حرام ہے ‘ کیونکہ وہ کام اس افسر کی ڈیوٹی ہے۔ (سعیدی غفرلہ) 

(٣) اپنی جان اور مال کو ظلم اور ضرر سے بچانے کے لیے رشوت دینا ‘ یہ رشوت صرف لینے والے پر حرام ہے ‘ دینے والے پر حرام نہیں ہے ‘ اسی طرح اپنے مال کو حاصل کرنے کے لیے بھی رشوت دینا جائز ہے اور لینا حرام ہے۔ 

(٤) کسی شخص کو اس لیے رشوت دی کہ وہ اس کو بادشاہ یا حاکم تک پہنچا دے تو اس رشوت کا دینا جائز ہے ‘ اور لینا حرام ہے۔ (فتاوی قاضی خاں علی ھامش الھندیہ ‘ ج ٢ ص ٣٦٣۔ ٣٦٢‘ بنایہ علی الھدایہ ‘ ج ٨‘ ص ٧‘ فتح القدیر ‘ ج ٧ ص ٢٣٦‘ البحرالرائق ‘ ج ٦‘ ص ٢٦٢‘ ٢٦١‘ ردالمختار ‘ ج ٤‘ ص ٣٠٣‘ احکام القرآن ‘ ج ٢‘ ص ٤٣٣) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے پر لعنت فرمائی ہے۔ (سنن کبری ‘ ج ١٠‘ ص ١٣٩‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٩٠٣٣) 

وھب بن منبہ بیان کرتے ہیں کہ جس کام میں رشوت دینے والا گنہگار ہوتا ہے ‘ یہ وہ نہیں ہے جو اپنی جان اور مال سے ظلم اور ضرر دور کرنے کے لیے دی جائے۔ رشوت وہ چیز ہے جس میں رشوت دینے والا اس وقت گنہگار ہوتا ہے جب تم اس چیز کے لیے رشوت دو جس پر تمہارا حق نہیں ہے۔ (سنن کبری ‘ ج ١٠‘ ص ١٣٩‘ مطبوعہ نشرالسنہ ‘ ملتان) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اگر وہ آپ کے پاس آئیں (تو آپ کو اختیار ہے) خواہ ان کے درمیان فیصلہ کردیں خواہ ان سے اعراض فرمائیں، اور اگر آپ ان سے اعراض کریں گے تو یہ آپ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ‘ اور اگر آپ فیصلہ کریں تو ان کے درمیان (انصاف سے فیصلہ کریں ‘ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (المائدہ : ٤٢) 

اہل ذمہ کے درمیان فیصلہ کرنے کے متعلق ائمہ اربعہ کا نظریہ : 

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا ہے ‘ یہ مدینہ کے وہ یہود تھے جن سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مدینہ میں تشریف لانے کے بعد معاہدہ کیا تھا ‘ یہ اہل ذمہ نہیں تھے اور جب کفار اہل ذمہ نہ ہوں تو ان کے درمیان فیصلہ کرنا ہم پر واجب نہیں ہے۔ 

اہل ذمہ جب ہمارے پاس اپنا مقدمہ پیش کریں تو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے متعلق امام شافعی کے دو قول ہیں اور اگر مسلمان اور ذمی کے درمیان نزاع ہو تو ان کے درمیان فیصلہ کرنا واجب ہے۔ علامہ مھدوی نے کہا ہے کہ اس پر تمام علماء کا اجماع ہے کہ مسلمان اور ذمی کے درمیان فیصلہ کرنا واجب ہے۔ البتہ ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے کے حکم میں اختلاف ہے۔ امام مالک اور امام شافعی کا مذہب یہ ہے کہ اس میں حاکم کو اختیار ہے ان کا استدلال اس آیت سے ہے اور وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت محکمہ ہے۔ البتہ امام مالک اہل ذمہ پر حد قائم کرنے کے قائل نہیں ہیں ‘ اگر مسلمان کتابیہ کے ساتھ زنا کرے تو مسلمان پر حد لگائی جائے گی اور کتابیہ پر حد نہیں لگے گی۔ اگر زنا کرنے والے دونوں ذمی ہوں تو کسی پر حد نہیں لگے گی ‘ امام ابوحنیفہ ‘ امام محمد بن حسن شیبانی اور دیگر کا یہی مذہب ہے۔ امام ابوحنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ ان کو کوڑے لگائے جائیں گے اور ان کو رجم نہیں کیا جائے گا۔ امام شافعی اور امام ابو یوسف وغیرہما نے یہ کہا ہے کہ اگر وہ ہمارے فیصلہ پر راضی ہوں تو ان پر حد لگائی جائے گی۔ 

ابن کو یزمنداد نے کہا ہے کہ جب ذمی ایک دوسرے پر زیادتی کریں تو امام ان کو طلب نہیں کرے گا ‘ ہاں اگر وہ ایسی کاروائی کریں جس سے ملک میں فساد اور افراتفری ہو ‘ مثلا وہ لوگوں کو قتل کریں اور لوٹ مار کریں ‘ تو پھر امام اس کا سد باب کرے گا۔ لیکن ان کے تجارتی قرضوں ‘ طلاق اور دیگر نجی معلاملات میں امام انکی مرضی کے بغیر فیصلہ نہیں کرے گا۔ البتہ اگر وہ علی الاعلان شراب فروخت کریں یا زنا کریں یا اور کوئی برا کام کریں تو ان کو اس سے روکا جائے گا ‘ تاکہ اس سے مسلمانوں کے اخلاق نہ بگڑنے پائیں۔ 

عمر بن عبدالعزیز ‘ اور نخعی نے یہ کہا ہے کہ زیر بحر آیت دوسری آیت سے منسوخ ہوگئی ہے ‘ وہ آیت یہ ہے۔ 

(آیت) ” وان احکم بینھم بما انزل اللہ “۔ (المائدہ : ٤٩) 

ترجمہ : اور آپ ان کے درمیان اللہ کے نازل کیے ہوئے (قرآن) کے مطابق فیصلہ کیجئے۔ 

امام زہری نے کہا ہے ‘ اس پر عمل ہوتا رہے کہ اہل کتاب کو ان کے حقوق اور وراثت کے معلامات میں انکے دینی احکام کی طرف لوٹایا جائے گا۔ ہاں اگر وہ اللہ کے حکم سے اعراض کریں تو انہیں اللہ کے حکم کی طرف لوٹایا جائیگا۔ علامہ سمرقندی نے کہا یہ قول امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق ہے ‘ کہ جب تک وہ ہمارے فیصلہ پر راضی نہ ہوں ‘ ان کے درمیان فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور امام نحاس نے الناسخ والمنسوخ میں زیر تفسیر آیت کے متعلق کہا ہے کہ یہ (المائدہ : ٤٩) سے منسوخ ہے ‘ کیونکہ یہ آیت اس وقت نازل ہوئی تھی جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابتداء مدینہ میں آئے تھے۔ اس وقت مدینہ میں یہودی بہت زیادہ تھے اور اس وقت کے حالات کے یہی مناسب تھا کہ انہوں نے ان کے احکام کی طرف لوٹا دیا جائے ‘ اور جب اسلام قوی ہوگیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی اور آپ ان کے درمیان اللہ کے نازل کیے ہوئے (قرآن) کے مطابق فیصلہ کیجئے۔ حضرت ابن عباس (رض) ‘ مجاہد ‘ عکرمہ ‘ زہری ‘ عمر بن عبدالعزیز اور سدی کا یہی قول ہے ‘ اور یہی امام شافعی کا صحیح قول ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : 

(آیت) ” حتی یعطوا الجزیۃ عن یدوھم صاغرون “۔ (المائدہ : ٢٩) 

ترجمہ : حتی کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں ‘ درآنحالیکہ وہ ذلیل ہوں ‘۔ 

ان کے ذلیل ہونے کا معنی یہ ہے کہ ان پر مسلمانوں کے احکام جاری کیے جائیں اور ان کو ان کے احکام کی طرف نہ لوٹایا جائے ‘ اور جب یہ واجب ہے تو زیر تفسیر آیت کا منسوخ ہونا واجب ہوا ‘ امام ابوحنیفہ ‘ امام ابو یوسف ‘ اور امام محمد کا بھی یہی قول ہے۔ اس میں ان کا کوئی اختلاف نہیں ہے کہ جب اہل کتاب امام کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کریں ‘ تو امام کے لیے اس کا فیصلہ کرنے سے اعراض کرنا جائز نہیں ہے۔ البتہا امام ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ جب عورت اور اس کا خاوندآئے تو امام ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کرے اور اگر صرف عورت آئے اور اس کا خاوند راضی نہ ہو تو فیصلہ نہ کرے۔ (الجامع الاحکام القرآن ج ٣‘ ص ١٣٣۔ ١٣١‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

قاضی عبداللہ بن عمر بیضاوی شافعی متوفی ٦٨٥ ھ لکھتے ہیں : 

جب قاضی کے پاس اہل کتاب (ذمی) مقدمہ دائر کریں تو اس پر فیصلہ کرنا واجب ہے یا اس کو فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا اختیار ہے۔ امام شافعی کا ایک قول یہ ہے کہ اس کو اختیار ہے اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ اس پر فیصلہ کرنا واجب ہے ‘ کیونکہ ہم نے جزیہ لے کر ان سے ظلم کو دور کرنے کا التزام کیا ہے ‘ اور یہ آیت اہل ذمہ کے متعلق نہیں ہے۔ (النورالتنزیل مع حاشیۃ الکازرونی ‘ ج ٢‘ ص ٣٢٦‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ) 

علامہ ابوالفرج عبدالرحمان بن علی بن محمد جوزی حنبلی متوفی ٥٩٧ ھ لکھتے ہیں : 

امام احمد بن حنبل نے کہا صحیح یہ ہے کہ یہ آیت سورة المائدہ : ٤٩ سے منسوخ ہے اور اب حاکم پر لازم ہے کہ جب اس کے پاس اہل ذمہ مقدمہ لائیں ‘ تو وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے۔ حضرت ابن عباس (رض) ‘ عطاء ‘ مجاہد ‘ عکرمہ اور سدی کا یہی قول ہے۔ (زادالمیسر ج ٢ ص ٣٦١ مطبوعہ مکتب اسلامی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٧ ھ) 

امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفی متوفی ٣٧٠ ھ لکھتے ہیں : 

زیر بحث آیت ” فان جاءوک فاحکم بینھم اواعرض عنھم “۔ (المائدہ : ٤٢) سے ظاہر ہے کہ اہل ذمہ کے درمیان فیصلہ کرنے یا نہ کرنے کا حکم کو اختیار ہے۔ لیکن یہ اختیار اس کے بعد نازل ہونے والی آیت ’ وان احکم بینھم بما انزل اللہ “ (المائدہ : ٤٩) سے منسوخ ہوگیا۔ نیز اختیار کے منسوخ ہونے پر یہ آیت بھی دلالت کرتی ہے : 

(آیت) ” ومن لم یحکم بما انزل اللہ فاولئک ھم الکافرون “۔ (المائدہ : ٤٤) 

ترجمہ : جو اللہ کے نازل کیے ہوئے موافق فیصلہ نہ کریں سو وہی لوگ کافر ہیں :۔ 

سو جس نے اہل ذمہ کے درمیان فیصلہ نہیں کیا وہ اس وعید کا مصداق ہوگیا۔ 

یہ بھی احتمال ہے کہ پہلے یہ آیت نازل ہوئی آیت ” فان جاءوک فاحکم بینھم اواعرض عنھم “۔ (المائدہ : ٤٢) اس وقت یہودیوں کو ذمی نہیں قرار دیا تھا ‘ اور نہ ان پر جزیہ کیا گیا تھا ‘ اور جب اللہ تعالیٰ نے ان سے جزیہ لینے کا حکم دیا اور ان پر اسلام کے احکام جاری کیے تو پھر ان کے درمیان اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ کرنے کا حکم دیا۔ (احکام القرآن ج ٢ ص ٤٣٥‘ مطبوعہ سہیل اکیڈمی ‘ لاہور ‘ ١٤٠٠ ھ) 

خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ اربعہ کے نزدیک زیر بحث آیت (المائدہ : ٤٢) المائدہ : ٤٩ سے منسوخ ہوگئی ہے ‘ اور ابتداء اسلام میں حاکم کو یہ اختیار تھا کہ جب اہل کتاب اپنا مقدمہ پیش کریں تو وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے یا نہ کرے ‘ لیکن اب یہ اختیار منسوخ کردیا گیا اور اب حاکم پر ان کے درمیان فیصلہ کرنا واجب ہے۔ لیکن ان کے عائلی کاروباری اور نجی معاملات میں مسلمان حاکم مداخلت نہیں کرے گا ‘ اور وہ ان معاملات میں اپنے مذہب کے مطابق اپنے علماء سے فیصلہ کرائیں گے۔ البتہ اگر وہ کھلے عام ایسے کام کریں جس سے ملک کے امن اور سلامتی کو خطرہ لاحق ہو ‘ یا بےحیائی اور بدچلنی کو فروغ ہو ‘ تو پھر مسلمان حاکم ان کو اس سے روک دے گا ‘ اور جب وہ از خود اپنا کوئی مقدمہ مسلمان حاکم کے سامنے پیش کریں ‘ تو اس پر ان کے درمیان عدل سے فیصلہ کرنا واجب ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 42

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.