میرے استاذ، ماں، باپ، بھائی، بہن

میرے استاذ، ماں، باپ، بھائی، بہن

اہلِ ولد و عشیرت پہ لاکھوں سلام

اربابِ فکر کی دور بین نگاہوں سے یہ امر مخفی نہیں ہے کہ آج ہر نئی نسل عموما اور مسلم نوجوان خصوصاً بد اخلاقی، عملی بے راہ روی، آوارہ ذہنی اور دین بیزاری کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب کچھ اس خدا دشمن تہذیب کے پھیلائے ہوئے مضر اثرات ہیں جس نے عریانیت و فحاشی کو فروغ دے کر گناہوں اور جرائم کی ایک دنیا آباد کر دی ہے اور انسان کی ان تمام شہوانی قوتوں کو جو لباسِ روحانیت اور لبادۂ طہارت میں چھپی ہوئی تھی انہیں عاری کر کے بے لگام چھوڑ دیا ہے۔ نتیجہ کے طور پر انسان حیوان سے بد تر ہوتے جا رہے ہیں، تہذیبِ مغرب سے پیدا شدہ اثرات اتنے مضر ہیں کہ ان کے سبب ہماری نوجوان نسل اسلام کی اطمینان بخش تعلیمات اور اس کے نجات دہندہ احکامات سے دور رہ کر مغرب کے دامِ فریب میں پھنس کر اس کی ہوس پرستی کی رسیا ہوتی جا رہی ہے۔ ہمارے نوجوانوں نے بڑی ہی بے حیائی اور جرأت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمدنِ مغرب کو دل سے لگا تو لیا لیکن یہ سوچا تک نہیں کہ اس شیطانی تمدن کے ہم پر کیا اثرات پڑیں گے، ہم کون کون سے گناہ کر بیٹھیں گے، ہم پر کیسی کیسی بلائیں نازل ہوں گی، ہمارے اپنے دلوں سے تقدس ِ اسلام ختم ہوتا جائے گا یہ کسی نے نہیں سوچا، یہ فکر کسی کو نہ ہوئی کہ ہم انجانے میں وہ سب کچھ کر بیٹھیں گے جس سے اللہ عز وجل اور اس کے پیارے رسول ا کبھی راضی نہیں ہو سکتے، اس پر کسی نے غور نہیں کیا کہ اس کے سبب ہمارے دلوں سے اپنے ان والدین کا احترام بھی نکل جائے گا جن کے صدقے ہم جنتِ رحمن کے حقدار ہو سکتے ہیں اور ہم ان کے گستاخ ہو جائیں گے جن کی ناراضگی سے اللہ عزوجل اور رسولِ اعظم ا ناراض ہوجاتے ہیں۔

آج ہمارے وہ نوجوان جو بڑی بے شرمی کے ساتھ اپنے آپ کو ماڈرن بولتے ہیں اور دنیا جنہیں تہذیب یافتہ کا نام دیتی ہے وہ اپنے والدین کے ساتھ نہایت ہی نا روا سلوک کرتے ہیں، غیر مؤدبانہ باتیں کرتے ہیں، وہ یہ نہیں جانتے کہ والدین کا مقام کیا ہے اور ان کے ساتھ گفتگو کا طریقہ کیا ہونا چاہئے، ان سے کس طرح ہم کلام ہونا چاہئے، ان کے سامنے کیسے بیٹھنا چاہئے، ان کی خدمت کس طرح کی جائے، آج کے بچے اس قدر بے ادب اور گستاخ ہو چکے ہیں کہ الامان و الحفیظ۔ امورِ مذکورہ کے مدِ نظر میں آئندہ سطور میں اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب پاک ا کے نزدیک والدین کا کیا مقام و مرتبہ ہے اسے واضح کرنے کی کوشش کروں گا۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’و قضیٰ ربک ان لا تعبدوٓا الآ ایاہ و بالوالدین احسانا اما یبلغن عندک الکبر احدہما او کلاہما فلا تقل لہما اف و لا تنہرہما و قل لہما قولا کریما‘‘ اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انہوں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لئے عاجزی کا بازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان پر رحم کر جیسا کہ ان دونوں نے مجھے چھٹپن میں پالا۔ (کنزالایمان)

غور کرنے کا مقام ہے کہ قرآنِ مجید میں نماز جیسے اَہَمُّ الفَرَائِضْ اور زکوٰۃ جیسی عظیم عبادت کے متعلق یہ صراحت نہیں کہ نمازیں شب و روز میں اتنی پڑھو، صبح میں اتنی اور شام میں اتنی رکعت ادا کرو اور بطور زکوٰۃ اپنے مال کا اتنا اتنا حصہ دو۔ لیکن والدین کے سلسلہ میں صرف تعظیم اور حسن سلوک کے حکم پر اکتفاء نہیں کیاگیا بلکہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کا اندازہ کیا ہوگا؟ ان کے احترام کا مطلب کیا ہے؟ اسے بھی واضح فرمادیا، اس کی وجہ جاننے کے لئے آپ کو انسان کا مقصدِ تخلیق سمجھنا ہوگا، تخلیقِ انسانیت کا مقصد عبادتِ خدا ہے لیکن اس مقصد کے حصول کے لئے دنیا میں آنا ضروری ہے اور والدین انسان کے دنیا میں آنے کا سب سے بڑا ذریعہ اور وسیلہ ہیں، اللہ تعالیٰ رب ہے تو والدین مربی ہیں، یہی وجہ ہے کہ کئی مقامات پر حکمِ عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ احسان کا حکم فرمایا گیا۔

جہاں یہ آیتِ کریمہ والدین کے فرماں برداروں کے لئے ہدایت ہے وہیں ان نافرمانوں کے لئے تازیانۂ عبرت بھی ہے جو اپنے والدین کی خدمت تو کجا؟ ان کے ساتھ اچھی طرح بات بھی نہیں کرتے، والدین کا احترام و اکرام تو درکنار انہیں تکلیف دینے اور اذیت پہنچانے میں بھی اللہ کا خوف نہیں کھاتے، ایسے مغرب زدہ لوگوں اور ماڈرن بننے کے خواہشمندوں کو اس آیۂ کریمہ کے ذریعہ یہ حکم دے دیا گیا کہ تمہیں زندگی کے ہر مرحلے میں اپنے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا ہوگا، ان کی تعظیم اور احترام کرنا ہوگا، خصوصاً جب وہ عمر پیری کو پہنچ جائیں اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھنے کے بعد تمہارے اندر جذباتِ جوانی ہلچل مچا رہے ہوں اس وقت اگر والدین تمہاری مرضی کے خلاف کوئی کام کریں یا تمہیں تمہاری خواہش نفس کے بر خلاف حکم دیں تو تمہارے جوشِ جوانی میں ذرہ سی بھی گرماہٹ نہیں پیدا ہونی چاہئے اور ان کے حکم کو رد کرنے کی مجال تو بہت دور کی بات اپنی زبانِ آزار پر کلمۂ اُف تک لانے کی جرأت بھی مت کرنا اور اگر شرارتِ نفس کی بنیاد پر تمہارا پیمانۂ صبر لبریز ہوبھی جائے تو اپنی فکری قوتوں کو بروئے کار لا کر ان کو خوش رکھنے کی تدبیر کر لینا اور خبر دار! انہیں جھڑکنے کی سوچنا بھی نہیں بلکہ خوش کن باتوں کے ذریعہ انہیں راضی کر لینا اور ان کے تعلق سے سوائے رحمت و رأفت کے کسی دوسری چیز کا تصور بھی مت کرنا اور اپنے خالق و مالک کے حضور یوں عرض گزار رہنا ’’اے میرے رب میرے والدین پر رحم فرما اور انہیں ہر پریشانی سے نجات عطا فرما جیسے انہوں نے رحمتوں کے سائے میں میری پرورش فرمائی اور میری ہر تکلیف کو دور فرمایا‘‘

اسلام اور بانی اسلام ﷺ کی یہی وہ تعلیمات ہیں کہ جن کے بل بوتے اسلام تا قیامت دیگر مذاہبِ باطلہ سے ممتاز رہے گا۔ ساری انسانیت پر اللہ عزوجل اور اس کے محبوب ا کا کتنا بڑا احسان ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں پندرہ سے زائد مقامات پر والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کی عزت، خدمت اور ان کی فرمانبرداری کے احکام نازل فرمائے تو دوسری طرف محسنِ انسانیت علیہ الصلوٰۃ و السلام نے جگہ جگہ اور حسبِ حال والدین کے ساتھ صلہ رحمی ، ان کی اطاعت و فرمانبرداری کی تاکید فرمائی، فرمانبرداروں کو بشارتیں عطا فرمائی اور نافرمانوں کو وعیدیں سنائی۔ چنانچہ ابنِ ماجہ کی روایت ہے حضرتِ ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ا ’’ما حق الوالدین علیٰ ولدہما‘‘ اولاد پر والدین کے کیا حقوق ہیں؟ فرمایا ’’ہما جنتک و نارک‘‘ وہ تمہاری جنت بھی ہیں اور جہنم بھی۔ (مشکوٰۃ ، ص:۴۲۱)

مراد یہ ہے کہ اگر تم اطاعت و فرمانبرداری سے انہیں راضی کر لو گے تو وہ تمہارے جنت میں جانے کا سبب بن جائیں گے اور اِن کی ادنیٰ سی گستاخی تمہیں جہنم کی خطرناک اور تاریک وادیوں میں پہنچا دے گی۔ الغرض ان کی خوشی سبب دخولِ جنت اور ناراضگی باعثِ عذابِ نار ہے۔ لیکن ایسا کیوں ہے؟ اس کا جواب بھی حدیثِ پاک میں ملتا ہے، حضرتِ عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ آقائے نامدار ا نے ارشاد فرمایا ’’رضی الرب فی رضی الوالد و سخط الرب فی سخط الوالد‘‘ والد کی خوشی میں اللہ کی خوشی ہے اور باپ کی ناراضگی میں اللہ کی ناراضگی ہے۔ (ترمذی شریف)

اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ جس سے راضی ہو جائے وہ مستحقِ جنت ہوجاتا ہے اور جس سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجائے جہنم اس کا استقبال کرتا ہے۔

اللہ عزوجل ہدایت نصیب فرمائے ہماری اس ماڈرن جنریشن Modern Generation کو جس کے نزدیک والدین کی رضا اور عدمِ رضا کی کوئی حیثیت نہیں لیکن اگر ان کے دوست اور بیویاں ناراض ہوجائیں تو ان کے چہروں پر مردنی چھا جاتی ہے، انہیں ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ اگر والدین ناراضگی کے عالم میں اس خاکدانِ عالم سے رخصت ہوگئے تو پھر دوستوں کی دوستی اور بیویوں کی محبت انہیں جہنم سے نہیں بچا سکتی، والدین کی ناخوشی کے سبب ان پر مصائب کی بارش ہونے والی ہے نہ اسے اس کی چہیتی بیویاں روک سکتی ہیں اور نہ ہی پیارے دوست۔ اللہ تعالیٰ انہیں عظمتِ والدین سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ کتنا عظیم رتبہ ہے والدین کا، کیا بلند مقام ہے ماں باپ کا، اس کو فراموش کر کے وہ مغربی کلچر کے دلدادہ ہو گئے ہیں اور اس بات سے بے خبر ہیں کہ والدین کو خوش کرلینے کے بعد میں دنیا و آخرت میں وہ سعادتیں میسر آسکتی ہیں جن کا کوئی بدل نہیں۔

حضرتِ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رسولِ دوجہاں ﷺ نے فرمایا ’’ما من ولد بار ینظر الیٰ والدیہ نظرۃ رحمۃ الا کتب اللہ لہٗ بکل نظرۃ حجۃ مبرورۃ قالوا و ان نظر کل یوم مائۃ مرۃ قال نعم اللہ اکبر و اطیب‘‘ (مشکوٰۃ ص:۴۲۱)

کوئی بھی مطیع لڑکا، لڑکی اگر اپنے والدین کو رحمت بھری نگاہ سے دیکھے تو اللہ تعالیٰ اس کو ایک حج مقبول کا ثواب عطا فرماتا اور اگر کوئی ہر دن سو مرتبہ اپنے والدین کو محبت کی نگاہ کے ساتھ دیکھے تو حضور ا فرماتے ہیں کہ اسے سو مقبول حج کرنے کا ثواب عطا کیا جائے گا۔ اللہ کا دریائے رحمت و عطا لا متناہی ہے وہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ ذرا سوچیں کیا تمدنِ مغرب نے والدین کو یہ رتبہ دیا ہے؟ والدین کا فرمانبردار دنیا کے کسی بھی مذہب اور کسی بھی نظام میں اتنا باعزت اور باوقار ہے جتنا اسلام میں ہے؟ ہرگز نہیں، دنیا میں کوئی ایسا نظام اور مذہب نہیں ہے جو والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے والی اولاد کو اتنے عظیم اجر کی بشارت دیتا ہو۔ اس کے باوجود اگر کوئی اپنے ماں باپ کے ساتھ ناروا سلوک کرنے اور ان کے ساتھ حکمِ خدا و فرمانِ رسول کے خلاف رویے کے ساتھ پیش آئے تو پھر اس سے زیادہ کم نصیب کون ہوگا؟ اس سے بڑھ کر محروم کون ہوسکتا ہے؟ ایسے لوگوں کو یہ حدیثِ پاک سنا دینی چاہئے، حضرتِ ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم ا نے فرمایا ’’کل الذنوب یغفر اللہ منہا ماشاء الا عقوق الوالدین فانہ یعجل لصاحبہ فی الحیوٰۃ قبل الممات‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ نافرمانی ٔ والدین کے علاوہ جس گناہ کو چاہتا ہے معاف فرما دیتا ہے اور والدین کے نافرمان کو مرنے سے پہلے زندگی میں بھی سزادیتا ہے۔ ہر قسم کی کوتاہی بخشی جاسکتی ہے لیکن ماں باپ کی توہین ہرگز نہیں بخشی جائے گی، جھوٹ، چغل خوری وغیرہ وغیرہ گناہِ کبائر بھی معاف ہو سکتے ہیں لیکن تا وقتیکہ والدین معاف نہ کر دیں ان کی نافرمانی اور دل آزاری کا گناہ ہرگز معاف نہ ہوگا۔ نیز اس کی پاداش میں کئی مصیبتیں سر آئیںگی، اس کی سزا کے طور پر دنیا میں کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔

آج کئی گھروں میں جو بے برکتی، رزق کی تنگی، کاروباری پریشانی اور ان کے علاوہ دائمی اور غیر دائمی بیماری پائی جاتی ہے ممکن ہے کہ یہ مصیبتیں والدین کی نافرمانی، ان کی اہانت وغیرہ کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بطورِ عقوبت و سزا نازل ہوئی ہو اور ان سے نجات والدین کی رضا اور خوشنودی میں مضمر ہے لہٰذا ان تمام مصائب سے چھٹکارا اسی وقت ممکن ہے جب ماں باپ کی خدمت کر کے ان کا دل جیت لیا جائے اور ان کی زبانِ فیض سے دعائے خیر نکل جائے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب کچھ اسلامی تعلیم سے دوری کی بنیاد پر ہمارے معاشرے میں ظہور پذیر ہو رہا ہے، بچے بڑے ہوجاتے ہیں لیکن یہ نہیں معلوم ہوتا کہ والدین کا مقام و مرتبہ کیا ہے۔ اسی لئے اگر بچوں کو بچپن ہی سے یہ ذہن نشیں کرایا جائے کہ والدین تمہارے مربی ہیں، تمہارے محسن ہیں، ان کے حقوق کی ادائیگی تم پر لازم ہے، ان کا احترام و اکرام تم پر ضروری ہے، ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے ہی میں تمہاری بھلائی ہے تو بلا شک و شبہہ نہ والدین کی نافرمانی کا مسئلہ آئے گا نہ ان کی رہائش اور سکونت کا، آج مہذب کہے جانے والے کئی ممالک اس مسئلہ کو لے کر پریشان ہیں کہ بوڑھے ماں باپ کا کیا کیا جائے؟ جنہیں ان کی اولاد نے بے گھر کر دیا ہے، ان کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہے۔ اس صورت حال کو دیکھ کر ہر دانشور اور ہر مفکر اسلامی تعلیم، اسلامی تہذیب کی تعریف کئے بغیر نہیں رہتا۔

اللہ عزوجل سے دعا ہے کہ جمیع مسلمین کو والدین کی خدمت اور عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی خدمت گزاری کو دنیائے فانی کا بوجھ نہیں بلکہ آخرتِ ابدی کا سامان سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوٰۃ و التسلیم۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.