کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 13 سورہ آل عمران آیت نمبر42 تا 54

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ(۴۲)

اور جب فرشتوں نے کہا اے مریم بے شک اللہ نے تجھے چُن لیا (ف۸۷) اور خوب ستھرا کیا (ف۸۸) اور آج سارے جہاں کی عورتوں سے تجھے پسند کیا(ف۸۹)

(ف87)

کہ باوجود عورت ہونے کے بیت المقدِس کی خدمت کے لئے نذر میں قبول فرمایا اور یہ بات اُن کے سوا کسی عورت کو میسّر نہ آئی اسی طرح ان کے لئے جنتی رزق بھیجنا حضرت زکریا کو ان کا کفیل بنانا یہ حضرت مریم کی برگزیدگی ہے۔

(ف88)

مرد رسیدگی سے اور گناہوں سے اور بقول بعضے زنانے عوارض سے۔

(ف89)

کہ بغیر باپ کے بیٹا دیا اور ملائکہ کا کلام سنوایا۔

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ(۴۳)

اے مریم اپنے رب کے حضور ادب سے کھڑی ہو(ف۹۰) اور اس کے لیے سجدہ کر اور رکوع والوں کے ساتھ رکوع کر

(ف90)

جب فرشتوں نے یہ کہا کہ حضرت مریم نے اتنا طویل قیام کیا کہ آپ کے قدم مبارک پر ورم آگیا اور پاؤں پھٹ کر خون جاری ہوگیا۔

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَؕ-وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ۪-وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ (۴۴)

یہ غیب کی خبریں ہیں کہ ہم خفیہ طور پر تمہیں بتاتے ہیں (ف۹۱) اور تم اُن کے پاس نہ تھے جب وہ اپنی قلموں سے قرعہ ڈالتے تھے کہ مریم کس کی پرورش میں رہیں اور تم ان کے پاس نہ تھے جب وہ جھگڑرہے تھے (ف۹۲)

(ف91)

اس آیت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو غیب کے علوم عطا فرمائے۔

(ف92)

باوجود اس کے آپ کا ان واقعات کی اطلاع دینا دلیل قوی ہے اس کی کہ آپ کو غیبی علوم عطا فرمائے گئے۔

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓىٕكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُۙ-اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ(۴۵)

اور یاد کرو جب فرشتوں نے مریم سے کہا اے مریم اللہ تجھے بشارت دیتا ہے اپنے پاس سے ایک کلمہ کی (ف۹۳) جس کا نام ہے مسیح عیسٰی مریم کا بیٹا رو دار ہوگا (ف۹۴) دنیا اور آخرت میں اور قرب والا (ف۹۵)

(ف93)

یعنی ایک فرزند کی ۔

(ف94)

صاحبِ جاہ و منزلت ۔

(ف95)

بارگاہِ الٰہی میں ۔

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ(۴۶)

اور لوگوں سے بات کرے گا پالنے(جھولنے) میں (ف۹۶) اورپکی عمر میں (ف۹۷) اور خاصوں میں ہوگا

(ف96)

بات کرنے کی عمر سے قبل۔

(ف97)

آسمان سے نزول کے بعد اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان سے زمین کی طرف اتریں گے جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے اور دجّال کو قتل کریں گے۔

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌؕ-قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُؕ-اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ (۴۷)

بولی اے میرے رب میرے بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ نہ لگایا (ف۹۸) فرمایا اللہ یوں ہی پیدا کرتا ہے جو چاہے جب کسی کام کا حکم فرمائے تو اس سے یہی کہتا ہے کہ ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے

(ف98)

اور دستور یہ ہے کہ بچہ عورت و مرد کے اختلاط سے ہوتا ہے تو مجھے بچہ کس طرح عطا ہوگا نکاح سے یا یونہی بغیر مرد کے۔

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ(۴۸)

اور اللہ اسے سکھائے گا کتاب اور حکمت اور توریت اور انجیل

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ ﳔ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ ﳐ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْــٴَـةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَۙ-فِیْ بُیُوْتِكُمْؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ(۴۹)

اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف یہ فرماتا ہوا کہ میں تمہارے پاس ایک نشانی لایا ہوں(ف۹۹) تمہارے رب کی طرف سے کہ میں تمہارے لیے مٹی سے پرند کی سی مورت بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ فوراً پرند ہوجاتی ہے اللہ کے حکم سے (ف۱۰۰) اور میں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھے اور سپید داغ والے کو (ف۱۰۱) اور میں مُردے جلاتا ہوں اللہ کے حکم سے(ف۱۰۲) اور تمہیں بتاتا ہوں جو تم کھاتے اور جو اپنے گھروں میں جمع کررکھتے ہو (ف۱۰۳) بے شک ان باتوں میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو

(ف99)

جو میرے دعوائے نبوّت کے صدق کی دلیل ہے۔

(ف100)

جب حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃوالسلام نے نبوت کا دعوٰی کیااور معجزات دکھائے تو لوگوں نے درخواست کی کہ آپ ایک چمگادڑ پیدا کریں آپ نے مٹی سے چمگادڑ کی صورت بنائی پھر اس میں پھونک ماری تو وہ اڑنے لگی چمگادڑ کی خصوصیّت یہ ہے کہ وہ اڑنے والے جانوروں میں بہت اکمل اور عجیب تر ہے اور قدرت پر دلالت کرنے میں اوروں سے ابلغ کیونکہ وہ بغیر پروں کے تو اُڑتی ہے اور دانت رکھتی ہے اور ہنستی ہے اور اس کی مادہ کے چھاتی ہوتی ہے اور بچہ جنتی ہے باوجودیکہ اُڑنے والے جانوروں میں یہ باتیں نہیں ہیں

(ف101)

جس کا برص عام ہوگیا ہو اور اطبا اس کے علاج سے عاجز ہوں چونکہ حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کے زمانہ میں طب انتہاۓ عروج پر تھی اور اس کے ماہرین امر علاج میں یدطولٰے رکھتے تھے اس لئے ان کو اسی قسم کے معجزے دکھائے گئے تاکہ معلوم ہو کہ طب کے طریقہ سے جس کا علاج ممکن نہیں ہے اس کو تندرست کردینا یقیناً معجزہ اور نبی کے صدق نبوّت کی دلیل ہے وہب کا قول ہے کہ اکثر حضرت عیسٰی علیہ السلام کے پاس ایک ایک دن میں پچاس پچاس ہزار مریضوں کا اجتماع ہوجاتا تھا ان میں جو چل سکتا تھا وہ حاضر خدمت ہوتا تھا اور جسے چلنے کی طاقت نہ ہوتی اس کے پاس خود حضرت تشریف لے جاتے اور دعا فرما کر اس کو تندرست کرتے اور اپنی رسالت پر ایمان لانے کی شرط کرلیتے۔

(ف102)

حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام نے چار شخصوں کو زندہ کیا ایک عازر جس کو آپ کے ساتھ اخلاص تھا جب اس کی حالت نازک ہوئی تو اس کی بہن نے آپ کو اطلاع دی مگر وہ آپ سے تین روز کی مسافت کے فاصلہ پر تھا جب آپ تین روز میں وہاں پہنچے تو معلوم ہوا کہ اس کے انتقال کو تین روز ہوچکے آپ نے اس کی بہن سے فرمایا ہمیں اس کی قبر پر لے چل وہ لے گئی آپ نے اللہ تعالٰے سے دعا فرمائی عاز ر باذن الہٰی زندہ ہو کر قبر سے باہر آیا اور مدّت تک زندہ رہا اور اس کے اولاد ہوئی ایک بڑھیا کا لڑکا جس کا جنازہ حضرت کے سامنے جارہا تھا آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی وہ زندہ ہو کر نعش برداروں کے کندھوں سے اتر پڑا کپڑے پہنے گھر آیا زندہ رہا اولاد ہوئی ایک عاشر کی لڑکی شام کو مری اللہ تعالٰی نے حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کی دعا سے اس کو زندہ کیا ایک سام بن نوح جن کی وفات کو ہزاروں برس گزر چکے تھے لوگوں نے خواہش کی کہ آپ ان کو زندہ کریں آپ ان کی نشاندہی سے قبر پر پہنچے اور اللہ تعالٰی سے دعا کی سام نے سنا کوئی کہنے والا کہتا ہے اَجِبْ رُوْحَ اللہ یہ سنتے ہی وہ مرعوب اور خوف زدہ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہیں گمان ہوا کہ قیامت قائم ہوگئی اس ہول سے ان کا نصف سر سفید ہوگیا، پھر وہ حضرت عیسٰی علیہ السلام پر ایمان لائے اور انہوں نے حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام سے درخواست کی کہ دوبارہ انہیں سکرات موت کی تکلیف نہ ہو بغیر اس کے واپس کیا جائے چنانچہ اسی وقت ان کا انتقال ہوگیا اور باذنِ اللہ فرمانے میں رد ہے نصارٰی کا جو حضرت مسیح کی الوہیت کے قائل تھے

(ف103)

جب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والتسلیمات نے بیماروں کو اچھا کیا اور مردوں کو زندہ کیا تو بعض لوگوں نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور کوئی معجزہ دکھائیے تو آپ نے فرمایا کہ جو تم کھاتے ہو اور جو جمع کررکھتے ہو میں اس کی تمہیں خبر دیتا ہوں اسی سے ثابت ہوا کہ غیب کے علوم انبیاء کا معجزہ ہیں اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دستِ مبارک پر یہ معجزہ بھی ظاہر ہوا آپ آدمی کو بتادیتے تھے جو وہ کل کھاچکا اور آج کھائے گا اور جو اگلے وقت کے لئے تیار کررکھاہے۔ آپ کے پاس بچے بہت سے جمع ہوجاتے تھے آپ انہیں بتاتے تھے کہ تمہارے گھر فلاں چیز تیار ہوئی ہے تمہارے گھر والوں نے فلاں فلاں چیز کھائی ہے فلاں چیز تمہارے لئے اٹھا رکھی ہے بچے گھر جاتے روتے گھر والوں سے وہ چیز مانگتے گھر والے وہ چیز دیتے۔ اور ان سے کہتے کہ تمہیں کس نے بتایا بچے کہتے حضرت عیسٰی علیہ السلام نے تو لوگوں نے اپنے بچوں کو آپ کے پاس آنے سے روکا اور کہا وہ جادو گر ہیں ان کے پاس نہ بیٹھو اور ایک مکان میں سب بچوں کو جمع کردیا حضرت عیسٰی علیہ السلام بچوں کو تلاش کرتے تشریف لائے تو لوگوں نے کہا وہ یہاں نہیں ہیں آپ نے فرمایا کہ پھر اس مکان میں کون ہے انہوں نے کہا سور ہیں فرمایا ایسا ہی ہوگا اب جو دروازہ کھولتے ہیں تو سب سور ہی سور تھے۔ الحاصل غیب کی خبریں دینا انبیاء کا معجزہ ہے اور بے وساطت انبیاء کوئی بشر امور غیب پر مطلع نہیں ہوسکتا

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ۫-فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ (۵۰)

اور تصدیق کرتا آیا ہوںاپنے سے پہلی کتاب توریت کی اور اس لیے کہ حلال کروں تمہارے لیے کچھ وہ چیزیں جو تم پر حرام تھیں (ف۱۰۴) اور میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی لایا ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو

(ف104)

جوشریعت موسٰی علیہ السلام میں حرام تھیں جیسے کہ اونٹ کے گوشت مچھلی کچھ پرند

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ(۵۱)

بے شک میرا تمہارا سب کا رب اللہ ہے تو اسی کو پوجو(ف۱۰۵) یہ ہے سیدھا

(ف105)

یہ اپنی عبدیت کا اقرار اور اپنی ربوبیت کی نفی ہے اس میں نصارٰی کا رد ہے

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِؕ-قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِۚ-اٰمَنَّا بِاللّٰهِۚ-وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ (۵۲)

پھر جب عیسٰی نے اُن سے کفر پایا (ف۱۰۶) بولا کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کی طرف حواریوں نے کہا-(۱۰۷) ہم دین خدا کے مدد گار ہیں ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں (ف۱۰۸)

(ف106)

یعنی جب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نے دیکھا کہ یہود اپنے کفر پر قائم ہیں اور آ پ کے قتل کا ارادہ رکھتے ہیں اور اتنی آیات باہرات اور معجزات سے اثر پذیر نہیں ہوئے اور اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے پہچان لیا تھا کہ آپ ہی وہ مسیح ہیں جن کی توریت میں بشارت دی گئی ہے اور آپ ان کے دین کو منسوخ کریں گے تو جب حضرت عیسٰی علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوت کا اظہار فرمایا تو یہ ان پر بہت شاق گزرا اور وہ آپ کے ایذا و قتل کے درپے ہوئے اور آپ کے ساتھ انہوں نے کفر کیا۔

(ف107)

حواری وہ مخلصین ہیں جو حضرت عیسٰی علیہ السلام کے دین کے مددگار تھے اور آپ پر اوّل ایمان لائے یہ بارہ اشخاص تھے۔

(ف108)

مسئلہ : اس آیت سے ایمان و اسلام کے ایک ہونے پر استدلال کیا جاتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پہلے انبیاء کا دین اسلام تھا نہ کہ یہودیت و نصرانیت ۔

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ(۵۳)

اے رب ہمارے ہم اس پر ایمان لائے جو تو نے اتارا اور رسول کے تابع ہوئے تو ہمیں حق پر گواہی دینے والوں میں لکھ لے

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُؕ-وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠(۵۴)

اور کافروں نے مکر کیا (ف۱۰۹) ا ور اللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے (ف۱۱۰)

(ف109)

یعنی کفار بنی اسرائیل نے حضرت عیسٰی علیہ ا لصلٰوۃ والسلام کے ساتھ مَکۡر کیا کہ دھوکے کے ساتھ آپ کے قتل کا انتظام کیا اور اپنے ایک شخص کو اس کام پر مقرر کردیا۔

(ف110)

اللہ تعالٰی نے اُن کے مَکۡر کا یہ بدلہ دیا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کو آسمان پر اُٹھالیا اور حضرت عیسٰی علیہ الصلٰوۃوالسلام کی شباہت اس شخص پر ڈال دی جو اُن کے قتل کے لئے آمادہ ہوا تھا چنانچہ یہود نے اس کو اسی شبہ پر قتل کردیا۔ مسئلہ لفظ مَکۡر لُغتِ عرب میں سَتۡر یعنی پوشیدگی کے معنٰی میں ہے اسی لئے خفیہ تدبیر کو بھی مَکۡر کہتے ہیں اور وہ تدبیر اگر اچھے مقصد کے لئے ہو تو محمود اور کِسی قبیح غرض کے لئے ہو تو مذموم ہوتی ہے مگر اُردو زبان میں یہ لفظ فریب کے معنٰی میں مستعمل ہوتا ہے اس لئے ہر گز شانِ الٰہی میں نہ کہاجائے گا اور اب چونکہ عربی میں بھی بمعنی خداع کے معروف ہوگیاہے اس لئے عربی میں بھی شانِ الٰہی میں اس کا اطلاق جائز نہیں آیت میں جہاں کہیں وارد ہوا وہ خفیہ تدبیر کے معنٰی میں ہے

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.