گدھوں کا جوٹھا

حدیث نمبر :458

روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کیا ہم گدھوں کے جوٹھے سے وضو کرلیں فرمایا ہاں اور اس سے بھی جنہیں تمامی درندوں نے بھی جوٹھا کیا ۱؎(شرح سنہ)

شرح

۱؎ اس حدیث کی بناء پر امام شافعی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں کہ تمام درندوں کا جوٹھا پاک ہے۔امام اعظم و امام احمد کے ہاں نجس۔امام اعظم کا قول قوی ہے،اور اس حدیث میں تالابوں کاپانی یابہتا ہوا پانی مرادہے جو نجاست پڑجانے سے ناپاک نہیں ہوتا۔جیسا کہ تیسری فصل میں آرہا ہے۔ورنہ یہ حدیث امام شافعی کے بھی خلاف ہوگی کیونکہ کتا و سور بھی درندے ہیں تو چاہیئے کہ ان کا جوٹھا بھی پاک ہو،جب درندوں کے گوشت نجس ہیں تو ان کا جوٹھا بھی نجس ہونا چاہیئے کیونکہ لعاب گوشت سے پیدا ہوتا ہے۔خیال رہے کہ گدھے کا جوٹھا پاک تو ہے مگر اس کی مطہریت میں شک ہے کیونکہ اس میں صحابہ کرام کا بہت اختلاف ہے۔بلا ضرورت اس سے وضو نہ کرے۔اگر دوسراپانی نہ ملے تو وضو بھی کرے،اس کے ساتھ تیمم بھی۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.