وَكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰٮةُ فِيۡهَا حُكۡمُ اللّٰهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ‌ ؕ وَمَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 43

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَكَيۡفَ يُحَكِّمُوۡنَكَ وَعِنۡدَهُمُ التَّوۡرٰٮةُ فِيۡهَا حُكۡمُ اللّٰهِ ثُمَّ يَتَوَلَّوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ‌ ؕ وَمَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالۡمُؤۡمِنِيۡنَ۞

ترجمہ:

اور وہ آپ کو کیسے منصف بنائیں گے حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے ‘ پھر اس کے باوجود وہ روگردانی کرتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور وہ آپ کو کیسے منصف بنائیں گے حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم ہے ‘ پھر اس کے باوجود وہ روگردانی کرتے ہیں اور وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ (المائدہ : ٤٣) 

موجودہ تورات میں آیت رجم :

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ زنا کرنے والوں کے لیے رجم (سنگسار) کرنے کا حکم تورات میں موجود ہے اور اس سے پہلے ہم صحیح مسلم حدیث نمبر (١٦٩٩) ٤٣٧٥ کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہودی دو زانیوں (مرد اور عورت) کا مقدمہ لے کر آئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تورات کو پڑھو ‘ جب یہودی عالم نے تورات کو پڑھنا شروع کیا تو اس نے رجم کی آیت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ حضرت عبداللہ بن سلام (رض) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا ‘ اس سے فرمائیں یہ اپنا ہاتھ ہٹائے ‘ ہاتھ ہٹایا تو اس کے نیچے رجم کی آیت تھی۔ اس موقعہ پر یہ آیت نازل ہوئی ‘ اور اب ١٤١٧ سال گزر گئے ‘ اس عرصہ میں تورات میں بہت تحریفات کی گئیں ‘ لیکن یہ قرآن کا معجزہ ہے کہ تورات میں آج بھی یہ آیت اسی طرح موجود ہے۔ 

پھر اگر یہ بات سچ ہو کہ لڑکی میں کنوارے پن کے نشان نہیں پائے گئے تو وہ اس لڑکی کو اس کے باپ کے گھر کے دروازہ پر نکال لائیں ‘ اور اس کے شہر کے لوگ اسے سنگسار کریں کہ وہ مرجائے ‘ کیونکہ اس نے اسرائیل کے درمیان شرارت کی ‘ کہ اپنے باپ کے گھر میں فاحشہ پن کیا۔ یوں تو ایسی برائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا ‘ اگر کوئی مرد کسی شوہر والی عورت سے زنا کرتے پکڑا جائے ‘ تو وہ دونوں مار ڈالے جائیں ‘ یعنی وہ مرد بھی جس نے اس عورت سے صحبت کی اور وہ عورت بھی۔ یوں تو اسرائیل میں سے ایسی برائی دفع کرنا۔ 

اگر کوئی کنواری لڑکی کسی شخص سے منسوب ہوگئی ہو اور کوئی دوسرا اسے شہر میں پاکر اس سے صحبت کرے تو تم ان دونوں کو اس شہر کے پھاٹک پر نکال لانا ‘ اور ان کو تم سنگسار کردینا کہ وہ مرجائیں ‘ لڑکی کو اس لیے کہ وہ شہر میں ہوتے ہوئے نہ چلائی اور مرد کو اس لیے کہ اس نے اپن ہمسایہ کی بیوی کو بےحرمت کیا ‘ یوں تو ایسی برائی کو اپنے درمیان سے دفع کرنا۔ 

(کتاب مقدس) (پرانا عہد نامہ ‘) باب : ٢٢ آیت ٢٤۔ ٢١‘ مطبوعہ بائبل سوسائٹی ‘ لاہور)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 43

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.