برتن میں کتا پی جائے تو

باب تطھیر النجاسات

نجاستوں کے پاک کرنے کاباب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یہاں نجاستوں سے حقیقی ناپاکیاں مراد ہیں نہ کہ حکمی کیونکہ انکا ذکر تو پہلے ہوچکا وضو اور غسل کی بحث میں۔چونکہ حقیقی نجاستیں بہت سی قسم کی ہیں۔خفیفہ،غلیظہ وغیرہ اس لئے نجاست جمع فرمایا گیا۔

حدیث نمبر :462

روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا پی جائے تو اسے سات بار دھوؤ (مسلم،بخاری)اورمسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا تم میں سے کسی کے برتن کی پاکی جب اس میں کتا چاٹ جائے تو اسے ساتھ بار دھوئے پہلی بار مٹی سے ۱؎

شرح

۱؎ یہی مذہب ہےامام شافعی وغیرہ فقہاء و اکثر محدثین کا کہ کتے کے چاٹنے پر برتن کا سات بار دھونا اور مٹی سے مانجنا ان کے ہاں فرض ہے۔ہمارے امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کا حکم بھی دوسری نجاستوں کی طرح ہے کہ اس کے دھونے میں نہ تعداد مقرر ہے نہ مٹی سے صاف کرنا لازم،بلکہ گندگی کا اثر دور کرنا ضروری ہے کہ مٹی وغیرہ کا برتن جس میں مسام ہوں تین بار دھویا جائے۔تانبہ،شیشہ وغیرہ جس میں مسام نہ ہوں اس کا ایک بار دھونا یا پونچھ دینا کافی ہے۔اس لئے کہ دار قطنی نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعًا روایت کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جب کتاب برتن چاٹ جائے تو اسے تین بار،پانچ بار،یا سات بار دھوؤ۔نیز ابن عربی نے مرفوعًا روایت کی کہ جب کتا برتن چاٹ جائے تو پانی پھینک دو اور برتن تین بار دھو لو۔نیز دار قطنی نے بسند صحیح حضرت عطاء سے روایت کی کہ خود حضرت ابوہریرہ کا یہ عمل تھا جب ان کا برتن کتا چاٹ جا تا تو پانی گرادیتے اور برتن تین بار دھو ڈالتے،لہذا سات بار کی حدیث منسوخ ہے اور یہ احادیث مذکورہ ناسخ۔اولًا کتوں کا پالنا ممنوع اور ان کا قتل کرنا واجب تھا،اس ہی زمانہ میں یہ پابندیاں بھی تھیں۔جب ضرورۃً کتا پالنا جائز قرار دیا گیا اور اس کا قتل واجب نہ رہا تو سات بار کا حکم بھی منسوخ ہوگیا،نیز اگر کتا یا سور برتن میں پیشاب کردے تو تین بار دھونا کافی۔کتے کا لعاب تو پیشاب سے بدتر نہیں،لہذا اس میں بھی تین بار دھونا کافی ہونا چاہیئے۔یہ سات کا حکم ایسا ہی ہے جیسے شروع میں شراب کے برتنوں کا توڑ دینا فرض تھا،پھر وہ حکم نہ رہا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.