فضائلِ ماہِ رمضان بزبانِ شاہِ زمین و زمان ﷺ

فضائلِ ماہِ رمضان بزبانِ شاہِ زمین و زمان 

جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں۔ (بخاری شریف)

شیطان قید میں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جب ماہِ رمضان آتا ہے تو آسمان کے دروازے کھول دئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئے جاتے ہیں اور شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے۔ (بخاری شریف،ص:۲۵۵)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ حدیث میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ شیطانوں کو رمضان کے مہینہ میں قید کر دیا جاتا ہے، اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب شیطانوں کو قید کر دیا جاتا ہے تو پھر کیوں لوگ رمضان کے مہینے میں گناہ کرتے ہیں؟

اس سوال کے متعدد جوابات دئے گئے ہیں:

(۱) بڑے بڑے شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے اور چھوٹے چھوٹے شیطان کھلے پھرتے ہیں، جن کی وجہ سے لوگ گناہ کرتے ہیں۔ جیسا کہ دوسری حدیث میں ارشاد ہوا ’’صُفِّدَتْ مَرَدَّۃُ الشَّیَاطِیْنِ‘‘ یعنی سرکش اور بڑے بڑے شیاطین قید کر دئے جاتے ہیں۔

(۲) گمراہ کرنے والا ایک خارجی شیطان ہے اور ایک داخلی شیطان ہے جس کو ’’لُمَّۃُ شَیْطَانَ قَرِیْنٌ مِّنَ الْجِنِّ‘‘ اور اردو میں ہمزاد کہتے ہیں، خارجی شیاطین کو قید کر دیا جاتا ہے، داخلی شیطان کو قید نہیں کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں۔

(۳) شیطان کے گیارہ ماہ بہکانے اور وساوس کا اثر اس قدر راسخ ہوجاتا ہے کہ اس کی ایک ماہ کی غیر حاضری سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور لوگ بدستور برائی اور گناہوں میں مبتلا رہتے ہیں۔ اِلا ماشاء اللہ

(۴) برائی میں مشغول لوگوں کو کم از کم اس ماہ میں تویہ تسلیم کرلینا چاہئے کہ ان کی غلط کاریوں اور بے راہ رویوں میں شیطان کے وسوسہ سے زیادہ خود ان کی ذات اور برے ارادوں کا دخل ہے، کیوں کہ اس ماہ میں جب شیاطین مقید کر دئے جاتے ہیں اور وہ لوگ پھر بھی برائیوں اور برے کاموں سے باز نہیں آتے، حد تو یہ ہے کہ بعض جگہوں پر رات بھر جوئے اور لہو و لعب کا بازار گرم ہوتا ہے (جیسے کہ رمضان اسی لئے آیا ہو) اور سحری کے فوراً بعد لوگ خوابِ غفلت کا شکار ہو کر نمازِ فجر کو بھی ترک کر دیتے ہیں، لہٰذا ان کی برائی اور برے کاموں کے وہ خود ذمہ دار ہیں۔

رحمت، مغفرت اور آگ سے آزادی: حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم نے ارشاد فرمایا رمضان ایسا مہینہ ہے جس کا اول رحمت ہے، اس کے درمیان میں بخشش ہے اور اس کے آخر میں آگ سے آزادی ہے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مذکورہ حدیث شریف میں رمضان المبارک کی برکت اور بزرگی کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے رمضان المبارک کی اہمیت اور فضیلت ظاہر ہوتی ہے، ماہِ رمضان میں روزہ رکھنا، افطاری کرنا اور کروانا، قیام اللیل کرنا اور دن کے وقت بھوک اور پیاس سے صبر و ضبط اور ہر بری چیز سے پرہیز کرنا، یہ تمام ایسے مواقع ہیں جو ہم گنہگار مسلمانوں کی بخشش اور نجات کا وسیلہ ہیں۔

اگر چہ انسان کی حیات بے شمار مراحل سے گزر کر ارتقائی مراحل طے کرتی ہوئی اپنی انتہا کو پہونچتی ہے لیکن حیات کے تین دور قابلِ ذکر ہیں۔

پہلا دور دنیا کی زندگی ہے جس کا تعلق روح اور جسم سے وابستہ ہے اور زندگی کا یہ دور پیدائش سے لے کر موت تک ہے، اس دور میں ہر انسان اپنی روح اور جسم دونوں کو پر سکون طریقے سے مادی آسائش پہنچانا چاہتا ہے اور مصائب و آلام سے نجات چاہتا ہے۔

حیات کا دوسرا مرحلہ موت سے لے کر قیامت تک کا ہے جسے عالمِ برزخ کہا جاتا ہے، زندگی کے اسی مرحلے کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے، سوائے اس کے کہ جتنا علم اللہ تعالیٰ نے انسان کو دیا ہے، صرف اسی حد تک انسان اس مرحلے کے بارے میں جانتا ہے۔

تیسرا مرحلہ قیامت کے بعد نہ ختم ہونے والی زندگی ہے، یہ زندگی حساب و کتاب کے بعد جزاء کے طور پر جنت کی صورت میں یا سزا کے طور پر دوزخ کی صورت میں ہوگی۔

روزہ ایسی عبادت ہے کہ نبی کریم کے ارشاد کے مطابق زندگی کے ان تمام مراحل میں کار آمد ثابت ہوتا ہے۔ رمضان کا پہلا عشرہ رحمت کا ہے جو زندگی کے خصوصاً پہلے مرحلے میں اشد ضروری ہے۔

دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے جو زندگی کے دوسرے مرحلے کے لئے کار آمد ہے کہ اس کی وجہ سے قبر میں راحت ملے گی اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے جو زندگی کے تیسرے مرحلے میں کار آمد ہے۔ تو گویا جس نے رمضان کے پورے ماہ کے روزے رکھے اسے زندگی کے تمام مراحل میں راحت و سکون میسر آئے گا۔

آنکھوں کی تکلیف دور: جو شخص ماہِ رمضان المبارک کا چاند دیکھ کر حمد و ثناء بجا لائے اور سات مرتبہ سورۂ فاتحہ پڑھ لے تو اسے مہینہ بھر آنکھوں میں کسی بھی قسم کی شکایت نہیں ہوگی۔

فرشتوں میں فخر: حضرت علی مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم  ارشاد فرماتے ہیں کہ جب تم مہینہ کے آغاز پر چاند دیکھو تو یہ دعاء پڑھ لیا کرو ’’وَ الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ خَلَقَکَ وَ قَدَرَلَکَ مَنَازِلَ وَ جَعَلَکَ آیَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘ تو اللہ تعالیٰ فرشتوں میں اظہارِ فخر فرمائے گا اور کہے گا میرے فرشتو! گواہ رہوں میں نے اپنے بندے کو دوزخ سے آزاد کردیا۔

نور کا شہر: نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاجو شخص ماہِ رمضان المبارک میں عبادت پر استقامت اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے ہر رکعت پر نور کا ایک شہر انعام دے گا۔

بخشش کا ذمہ: نبی کریم نے ارشاد فرمایا جو شخص ماہِ رمضان المبارک میں اپنے والدین کی خدمت اپنی استطاعت کے مطابق سر انجام دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر خصوصی نظر رحمت فرماتا ہے اور اس کی بخشش کا میں ذمہ لیتا ہوں۔اور جو عورت ماہِ رمضان المبارک میں اپنے خاوند کی رضا جوئی میں مصروف رہتی ہے اللہ تعالیٰ اسے جنت میں حضرت مریم و حضرت آسیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی معیت عطا فرمائے گا۔

سال کا دل: حضور نبی اکرم نے ارشاد فرمایا ماہِ رمضان المبارک سال کا دل ہے، جب یہ درست رہا تو پورا سال درست رہے گا۔

آفات سے محفوظ: کتاب البرکت میں حضرت مسعودی سے مروی ہے کہ جو ماہِ رمضان المبارک کی پہلی شب سورۂ فتح پڑھتا ہے وہ سال بھر ہر قسم کی آفات و بلیات سے محفوظ رہتا ہے۔

عذاب سے چھٹکارا: حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کو امت محمدیہ کو عذاب سے دوچار کرنا ہوتا تو اسے ماہِ رمضان اور سورۂ اخلاص کبھی عطا نہ فرماتا۔

امت کے لئے امام: بعض بزرگانِ دین سے منقول ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آسمان والوں کے لئے امان ہیں، سید عالم ا زمین والوں کے لئے اور ماہِ رمضان المبارک نبی کریم ا کی امت کے لئے امان ہے۔

رمضان کے احترام کا انعام: بخارا کے شہر میں ایک مجوسی (آگ کی پوجا کرنے والے) کا لڑکا مسلمانوں کے بازار میں رمضان کے مہینے میں کھانا کھا رہا تھا، یہ دیکھ کر اس کے باپ نے اپنے لڑکے کے منہ پر طمانچہ مارا اور سخت ناراض ہوا، لڑکے نے کہا ابا جان! تم بھی تو رمضان میں ہر روز دن کے وقت کھاتے رہتے ہو، باپ نے کہا میں واقعہ میں روزہ نہیں رکھتا اور کھانا بھی کھاتا ہوں مگر خفیہ طور پر گھر بیٹھ کر کھاتا ہوں، مسلمانوں کے سامنے نہیں کھاتا ہوں، اس ماہِ مبارک کا احترام کرتا ہوں۔

کچھ عرصہ کے بعد اس مجوسی کا انتقال ہو گیا تو بخارا کے کسی نیک آدمی نے اسے خواب میں دیکھا کہ وہ جنت میں ٹہل رہا ہے، انہوں نے مجوسی سے پوچھا تو جنت میں کیسے داخل ہو گیا؟ تو تو مجوس تھا۔ اس نے کہا واقعی میں مجوسی تھا مگر موت کا وقت قریب آیا تو ماہِ رمضان کے احترام کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام لانے کی توفیق دی اور میں مسلمان ہر کر مرا اور یہ جنت رمضان کے احترام میں اسلام ملنے پر اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی۔ (نزہۃ المجالس)

رمضان کی بے حرمتی کی سزا: قیامت کے دن ایک شخص کو ایسی حالت میں لایا جائے گا کہ فرشتے اس کو خوب مار پیٹ رہے ہوں گے، رحمت عالم ا سے وہ سہارا تلاش کرے گا، آپ ان سے دریافت فرمائیں گے اس کا کیا گناہ ہے کہ اتنا مار رہے ہو؟ وہ کہیں گے اس نے ماہِ رمضان المبارک کو پایا مگر پھر بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر ڈٹا رہا، حضور سفارش کرنا چاہیں گے تو حکم ہوگا میرے حبیب () اس کا دعویٰ تو ماہِ رمضان نے کیا ہے، آپ () فرمائیں گے جس کا دعویدار ماہِ رمضان ہے میں اس سے بیزار ہوں۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.