وَلۡيَحۡكُمۡ اَهۡلُ الۡاِنۡجِيۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ‏ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 47

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلۡيَحۡكُمۡ اَهۡلُ الۡاِنۡجِيۡلِ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فِيۡهِ‌ؕ وَمَنۡ لَّمۡ يَحۡكُمۡ بِمَاۤ اَنۡزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور اہل انجیل اس کے مطابق فیصلہ کریں ‘ جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے ‘ اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے کے مطابق فیصلہ نہ کریں سو وہی لوگ فاسق ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اہل انجیل اس کے مطابق فیصلہ کریں ‘ جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے ‘ اور جو لوگ اللہ کے نازل کیے ہوئے کے مطابق فیصلہ نہ کریں سو وہی لوگ فاسق ہیں۔ (المائدہ : ٤٧) 

نزول قرآن کے بعد انجیل پر عمل کے حکم توجیہ : 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جب ہم نے عیسائیوں کو انجیل عطا کی اس وقت ان کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ ان احکام پر عمل کریں جو انجیل میں مذکور ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید کے نزول کے بعد انجیل پر عمل کرنے کے حکم کی کیا توجیہ ہوگی ؟ اس کے چند جوابات ہیں۔ اول یہ کہ انجیل میں سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت پر جو دلائل موجود ہیں ‘ اہل انجیل کو چاہیے کہ ان دلائل کے مطابق آپ پر ایمان لے آئیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اہل انجیل ان احکام پر عمل کریں جن کو قرآن منسوخ نہیں کیا۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ انجیل کے احکام پر عمل کرنے مراد یہ ہے کہ انجیل میں تحریف نہ کریں ‘ جس طرح یہود نے تورات میں تحریف کردی ہے۔ لیکن تحقیق یہی ہے کہ یہ حکم اس وقت دیا گیا تھا ‘ جب اللہ تعالیٰ نے انجیل کو نازل کیا تھا اور نزول قرآن کے بعد قرآن مجید کے علاوہ کسی آسمانی کتاب پر عمل کرنا جائز نہیں ہے ‘ اور اسلام کے علاوہ اور کوئی دین مقبول نہیں ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 47

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.