کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 14 سورہ آل عمران آیت نمبر55 تا 63

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِۚ-ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ(۵۵)

یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسٰی میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا-(ف۱۱۱) اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا (ف۱۱۲) اور تجھے کافروں سے پاک کردوں گا اور تیرے پیروؤں کو (ف۱۱۳) قیامت تک تیرے منکروں پر (ف۱۱۴) غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤگے تو میں تم میں فیصلہ فرمادوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو

(ف111)

یعنی تمہیں کفار قتل نہ کرسکیں گے (مدارک وغیرہ)

(ف112)

آسمان پر محل کرامت اور مَقَرِّ ملائکہ میں بغیر موت کے حدیث شریف میں ہے سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حضرت عیسٰی میری اُمت پر خلیفہ ہو کر نازل ہوں گے صلیب توڑیں گے خنازیر کو قتل کریں گے چالیس سال رہیں گے نکاح فرمائیں گے اولاد ہوگی، پھر آپ کا وصال ہوگا وہ اُمت کیسے ہلاک ہو جس کے اول میں ہوں اور آخر عیسٰی اور وسط میں میرے اہل بیت میں سے مہدی مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام مَنَارۂ شرقی دمشق پر نازل ہوں گے یہ بھی وارد ہوا کہ حجرۂ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مدفون ہوں گے

(ف113)

یعنی مسلمانوں کو جو آپ کی نبوت کی تصدیق کرنے والے ہیں

(ف114)

جو یہود ہیں۔

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ٘-وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ(۵۶)

تو وہ جو کافر ہوئے میں انہیں دنیا و آخرت میں سخت عذاب کروں گا اور ا ن کا کوئی مددگار نہ ہوگا

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْؕ-وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ(۵۷)

اور وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اللہ ان کا نیگ(اجر) انہیں بھرپور دے گا اور ظالم اللہ کو نہیں بھاتے

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ(۵۸)

یہ ہم تم پر پڑھتے ہیں کچھ آیتیں اور حکمت والی نصیحت

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَؕ-خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ(۵۹)

عیسیٰ کی کہاوت اللہ کی نزدیک آدم کی طرح ہے (ف۱۱۵) اسے مٹی سے بنایا پھر فرمایا ہوجا وہ فوراً ہوجاتا ہے

(ف115)

شانِ نزول نصارٰی نجران کا ایک وفد سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آیا اور وہ لوگ حضور سے کہنے لگے آپ گمان کرتے ہیں کہ عیسٰی اللہ کے بندے ہیں فرمایا ہاں اس کے بندے اور اس کے رسول اور اس کے کلمے جو کواری بتول عذراء کی طرف القاء کئے گئے نصارٰی یہ سن کر بہت غصہ میں آئے اور کہنے لگے یا محمد کیا تم نے کبھی بے باپ کا انسان دیکھا ہے اس سے ان کامطلب یہ تھا کہ وہ خدا کے بیٹے ہیں(معاذ اللہ )اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور یہ بتایا گیا کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام صرف بغیر باپ ہی کے ہوئے اور حضرت آدم علیہ السلام تو ماں اورباپ دونوں کے بغیر مٹی سے پیدا کئے گئے تو جب انہیں اللہ کا مخلوق اور بندہ مانتے ہو تو حضرت عیسٰی علیہ السلام کو اللہ کا مخلوق و بندہ ماننے میں کیا تعجب ہے۔

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ(۶۰)

اے سننے والے یہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے تو شک والوں میں نہ ہونا

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ- ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ(۶۱)

پھر اے محبوب جو تم سے عیسٰی کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرمادو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مُباہَلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں (ف۱۱۶)

(ف116)

جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نصارٰی نجران کو یہ آیت پڑھ کر سنائی اور مباہلہ کی دعوت دی تو کہنے لگے کہ ہم غور اور مشورہ کرلیں کل آپ کو جواب دیں گے جب وہ جمع ہوئے تو انہوں نے اپنے سب سے بڑے عالم اور صاحب رائے شخص عاقب سے کہا کہ اے عبدالمسیح آپ کی کیا رائے ہے اس نے کہا اے جماعت نصاریٰ تم پہچان چکے کہ محمدنبی مرسل تو ضرور ہیں اگر تم نے ان سے مباہلہ کیا تو سب ہلاک ہوجاؤ گے اب اگر نصرانیت پر قائم رہنا چاہتے ہو تو انہیں چھوڑ و اور گھر کو لوٹ چلو یہ مشورہ ہونے کے بعد وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے دیکھا کہ حضور کی گود میں تو امام حسین ہیں اور دست مبارک میں حسن کا ہاتھ اور فاطمہ اور علی حضور کے پیچھے ہیں(رضی اللہ تعالٰی عنہم)اور حضور ان سب سے فرمارہے ہیں کہ جب میں دعا کروں تو تم سب آمین کہنا نجران کے سب سے بڑے نصرانی عالم(پادری)نے جب ان حضرات کو دیکھا تو کہنے لگا اے جماعت نصارٰی میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں کہ اگر یہ لوگ اللہ سے پہاڑ کو ہٹادینے کی دعا کریں تو اللہ تعالٰی پہاڑ کو جگہ سے ہٹا دے ان سے مباہلہ نہ کرنا ہلاک ہوجاؤ گے اور قیامت تک روئے زمین پر کوئی نصرانی باقی نہ رہے گایہ سن کر نصارٰی نے حضور کی خدمت میں عرض کیا کہ مباہلہ کی تو ہماری رائے نہیں ہےآخر کار انہوں نے جزیہ دینا منظور کیامگر مباہلہ کے لئے تیار نہ ہوئے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے نجران والوں پر عذاب قریب آ ہی چکا تھا اگر وہ مباہلہ کرتے تو بندروں اور سوروں کی صورت میں مسخ کردیئے جاتے اور جنگل آگ سے بھڑک اٹھتا اور نجران اور وہاں کے رہنے والے پرند تک نیست و نابود ہوجاتے اور ایک سال کے عرصہ میں تمام نصارٰی ہلاک ہوجاتے۔

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّۚ-وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُؕ-وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ(۶۲)

یہی بے شک سچابیان ہے (ف۱۱۷) اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں(ف۱۱۸) اور بے شک اللہ ہی غالب ہے حکمت والا

(ف117)

کہ حضرت عیسٰی اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور ا ن کا وہ حال ہے جو اوپر مذکور ہوچکا

(ف118)

اس میں نصاریٰ کا بھی رد ہے اور تمام مشرکین کا بھی

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠(۶۳)

پھر اگر وہ منہ پھیریں تو اللہ فسادیوں کو جانتا ہے

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.