اَفَحُكۡمَ الۡجَـاهِلِيَّةِ يَـبۡغُوۡنَ‌ؕ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّـقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 50

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَفَحُكۡمَ الۡجَـاهِلِيَّةِ يَـبۡغُوۡنَ‌ؕ وَمَنۡ اَحۡسَنُ مِنَ اللّٰهِ حُكۡمًا لِّـقَوۡمٍ يُّوۡقِنُوۡنَ۞

ترجمہ:

کیا وہ جاہلیت کا حکم طلب کرتے ہیں ‘ اور یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر اور کس کا حکم ہوسکتا ہے۔ ؏

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : کیا وہ جاہلیت کا حکم طلب کرتے ہیں ‘ اور یقین رکھنے والوں کے لیے اللہ سے بہتر اور کس کا حکم ہوسکتا ہے۔ (المائدہ : ٥٠) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ یہ یہود جنہوں نے اپنے مقدمہ میں آپ کو حاکم بنایا اور آپ نے ان کے درمیاں عدل سے فیصلہ کردیا ‘ پھر یہ آپ کے فیصلہ سے راضی نہیں ہوئے ‘ تو کیا یہ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے تھے ‘ یعنی بت پرستوں اور مشرکوں کا فیصلہ چاہتے تھے ‘ حالانکہ ان کے پاس اللہ کے پاس اللہ کی کتاب کی کتاب موجود ہے اور اس میں وہی فیصلہ مذکور ہے جو آپ نے ان کے درمیان کیا تھا ‘ اور یہی حق ہے اور اس کے خلاف کوئی اور فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان یہودیوں سے فرمایا جو شخص اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہو اور اس کی ربوبیت پر یقین رکھتا ہو ‘ اس کے نزدیک اللہ کے حکم اور اس کے فیصلہ اور کس کا فیصلہ ہوسکتا ہے ؟

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 50

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.