حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کہنے کا سبب

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو کَرَّمَ اللہُ وَجْہَہُ الْکَرِیْم کہنے کا سبب

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

محترم قارئین : جب قُریش مبتَلائے قَحْط ہوئے تھے تو نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت ابوطالِب پرتخفیفِ عِیال (یعنی بال بچّوں کا بوجھ ہلکا کرنے) کے لئے حضرت مولا علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو اپنی بارگاہِ ایمان پناہ میں لے آئے ، حضرت مولیٰ علی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے کِنارِ اقدس (یعنی آغوش مبارَک) میں پَروَرِش پائی ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی گود میں ہوش سنبھالا ، آنکھ کُھلتے ہی نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا جمالِ جہاں آرا دیکھا ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کی باتیں سنیں ، عادتیں سیکھیں ۔ تو جب سے اِس جنابِ عِرفان مآب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ہوش آیا قَطْعًا یقیناً ربّ عَزَّوَجَلَّ کو ایک ہی جانا ، ایک ہی مانا ۔ ہرگز ہرگز بُتوں کی نَجاست سے ان کا دامنِ پاک کبھی آلودہ نہ ہوا ۔ اسی لئے لَقَبِ کریم ’’کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ ‘‘ ملا ۔ (فتاوی رضویہ ج ۲۸ ص۴۳۶)

حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کے نام کے ساتھ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کہنے کی وجہ علماء نے یہ تحریر فرمائی ہے کہ خوارج اپنی خباثت سے حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ کو سود اللہ وجہہ سے یاد کرتے تھے اسی لیئے اہل سنت و جماعت نے کرم اللہ وجہہ مقرر کیا ۔ (فتاوی رشیدیہ صفحہ ۱۰۹ علامہ رشید احمد گنگوہی)

علامہ سخاوی رحمۃ اللہ علیہ نے فتح المغیث میں ایک دوسری وجہ لکھی ہے کہ : حضرت مولا علی رضی اللہ عنہ نے کبھی بت کو سجدہ نہیں کیا اس لیئے ان کے نام کے ساتھ کرم اللہ وجہہ لکھتے ہیں : وفی ”تاریخ إربل“ لابن المستوفی عن بعضہم أنہ کان یسأل عن تخصیصہم علیا ب ” کرم اللہ وجہہ ” فرأی فی المنام من قال لہ: لأنہ لم یسجد لصنم قط․ (فتح المغیث: ۲/۱۶۴ بحوالہ الیواقیت الغالیہ: ۲/ ۲۴۴،چشتی)

دس سال کی عمر میں شجرِ اسلام کے سائے میں آ گئے ، نبیِّ کریم ، رء ُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سب سے لاڈلی شہزادی حضرتِ سیِّدَتُنا فاطِمَۃُ الزَّھرَاء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کی زَوجِیّت میں آئیں ۔ بڑے شہزادے حضرتِ سیِّدنا امام حَسَن مُجتَبیٰ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نسبت سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کُنْیَت ’’اَبُوالحَسَن‘‘ ہے اور مدینے کے سلطان ، سردارِ دوجہان ، رحمتِ عالمیان، سرورِ ذیشان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے آپ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو ’’ابُو تُراب ‘‘ کُنیْت عطا فرمائی ۔ (تاریخ الخلفاء ص۱۳۲)

حضرتِ سیِّدُنا علیُّ المُرتَضٰی ، شیرِخدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کو یہ کُنْیَت اپنے اصلی نام سے بھی زیادہ پیاری تھی ۔ (بُخاری ج۲ ص ۵۳۵حدیث۳۷۰۳)

حضرات اہل بیت کرام وصحابۂ عظام رضی اللہ عنہم کا نام ذکر کرتے وقت بطور اکرام رضی اللہ تعالی عنہ کہا جاتا ہے ، حضرت مولائے کائنات رضی اللہ تعالی عنہ کے نام مبارک کے ساتھ اس عمومی کلمات کے علاوہ بطور خاص کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کہا جاتا ہے ،ا س کی وجہ نور الابصار میں اس طرح بیان کی گئی ہے : (وامہ) فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف (رضی اللہ عنہم) ۔۔۔۔ انہا کانت اذا ارادت ان تسجد لصنم وعلی رضی اللہ تعالی عنہ فی بطنہا لم یمکنہا یضع رجلہ علی بطنہا ویلصق ظہرہ بظہرہا ویمنعہا من ذلک؛ولذلک یقال عند ذکرہ’’کرم اللہ وجہہ‘‘۔

ترجمہ : سیدنا علی مرتضی رضی اللہ تعالی عنہ کی والدۂ محترمہ کا نام مبارک حضرت ’’فاطمہ بنت اسد بن ہاشم بن عبد مناف‘‘رضی اللہ عنہم ہے ۔ ۔ ۔ جب وہ کسی بت کے آگے سجدہ کرنے کا ارادہ کرتیں جبکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ آپ کے شکم میں تھے وہ سجدہ نہیں کرپاتی تھیں ، کیونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے قدم ان کے شکم مبارک سے چمٹا دیتے اور اپنی پیٹھ ان کی پیٹھ سے لگا دیتے اور انہیں سجدہ کرنے سے روک دیتے ، یہی وجہ ہے کہ جب بھی آپ کا مبارک تذکرہ کیا جاتا ہے تو کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم (اللہ تعالی آپ کے چہرۂ انور کو بزرگ و باکرامت بنایاہے)کہا جاتاہے ۔ (نورالابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،ص 85) ۔ (طالبِ دعا و دعا گو ڈاکٹر فیض احمد چشتی)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.