صفات میں شریک کرنا گستاخی ہے

خلاصہِ سوال:

صفات میں شریک کرنا گستاخی ہے….

تم بریلوی لوگ رسول کریم کی صفت رحمۃ للعالمین میں کسی نبی کو بھی شریک گوارا نہیں کرتے

مگر

اللہ کی صفت غوثِ اعظم میں ایک امتی کو شریک کر دیتے ہو…..کتنے عقل کے اندھے ہو تم

.

.

جواب:

قاعدہ ہی غلط و گمراہ کن ہے تمھارا…….قاعدہ دراصل قرآن، حدیث و آثار کی روشنی میں یوں صحیح بنے گا کہ:

صفاتِ مخصوصہ میں شامل کرنا گستاخی و ناحق ہے

مگر

صفاتِ غیر مخصوصہ میں مستحق کو شامل کرنا تعریف و برحق ہے

.

تفصیل:

صفت کی دو قسمیں ہیں

①”صفتِ مخصوصہ”

②صفت غیر مخصوصہ

صفت مخصوصہ میں کسی کو شامل و شریک نہیں کرسکتے

جبکہ

صفت غیر مخصوصہ میں مستحق کو شامل کرنا برحق ہے

.

.

نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی کئ صفتِ غیر مخصوصہ ہیں، مثلا "نبی ، رسول، مددگار، وغیرہ ان صفات میں مستحقین یعنی دیگر انبیاء کو بھی شامل کرسکتے ہیں بلکہ کرتے ہیں… غیر مستحق یعنی امتی کو نبی رسول صفت میں شامل نہیں کرسکتے، نہیں کرتے

مگر

رحمۃ للعالمین، خاتم النبیین، ساقیِ کوثر حضرت محمد مصطفی کی صفتِ مخصوصہ ہیں جن میں کسی نبی و امتی کو شامل نہیں کرسکتے

.

.

اسی طرح اللہ کی صفتِ مخصوصہ "معبود، رحمان” وغیرہ میں کسی نبی ولی کو شامل نہیں کرسکتے

مگر

اللہ کی صفتِ غیر مخصوصہ مثلا رحیم روف سمیع بصیر مددگار(غوث، غوث اعظم) وغیرہ صفات میں خود اللہ نے قرآن میں دوسروں کو شامل کیا ہے تو اس لیے ہم بھی مستحق کو شامل کرسکتے ہیں، کرتے ہیں… جوکہ برحق ہے

.

.

اللہ کی صفاتِ غیر مخصوصہ میں کسی مستحق مخلوق کو شامل کرنا جائز و حق ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس صفت میں خالق و مخلوق برابر ہوگئے……کیونکہ اللہ کی صفتِ غیر مخصوصہ دراصل مخصوصہ ہیں کہ اللہ ذاتی و حقیقی مددگار غوث ، سمیع و بصیر ہے

جبکہ

مخلوق عطائی مجازی مددگار غوث ، سمیع و بصیر ہیں……!!

تحریر:العاجز الحقیر علامہ عنایت اللہ حصیر

03468392475

03342451198

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.