منی جو کپڑے کو لگ جائے

حدیث نمبر :466

روایت ہے حضرت سلیمان ابن یسار سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ سے منی کے بارے میں پوچھا جو کپڑے کو لگ جائے فرمانے لگیں کہ میں اسے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے دھوتی تھی پس آپ نماز کو تشریف لے جاتے تھے حالانکہ دھونے کا اثر آپ کے کپڑے میں ہوتا۲؎ (مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ ام المؤمنین حضرت میمونہ کے آزاد کردہ غلام ہیں،فقیہ،تابعی ہیں،عطاء بن یسار کے بھائی ہیں،۷۳ سال کی عمر پائی ۱۰۷ھ؁ میں وفات پائی۔

۲؎ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ منی نجس ہے،رینٹ یا تھوک کی طرح پاک نہیں،جیسا کہ شوافع کا خیال ہے ورنہ دھونے کی ضرورت نہ پڑتی۔دوسرے یہ کہ اپنی بیوی سے منی کا کپڑا دھلوانا جائز ہے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کی خدمت ہے۔تیسرے یہ کہ نجس کپڑا دھونے کے بعد ہی پاک ہوجاتا ہے۔چوتھے یہ کہ گیلے کپڑے میں نماز جائز ہے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.