کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 3 رکوع 15 سورہ آل عمران آیت نمبر64 تا 71

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْــٴًـا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ(۶۴)

تم فرماؤاے کتابیو ایسے کلمہ کی طرف آؤ جو ہم میں تم میں یکساں ہے (ف۱۱۹) یہ کہ عبادت نہ کریں مگر خدا کی اور اس کا شریک کسی کو نہ کریں (ف۱۲۰) اور ہم میں کوئی ایک دوسرے کو رب نہ بنالے اللہ کے سوا (ف۱۲۱) پھر اگر وہ نہ مانیں تو کہہ دو تم گواہ رہو کہ ہم مسلمان ہیں

(ف119)

اور قرآن اورتوریت اور انجیل اس میں مختلف نہیں

(ف120)

نہ حضرت عیسٰی کو نہ حضرت عزیر کو نہ اور کسی کو۔

(ف121)

جیسا کہ یہود و نصارٰی نے احبار و رہبان کو بنایا کہ انہیں سجدے کرتے اور ان کی عبادتیں کرتے(جمل)

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ(۶۵)

اے کتاب والو ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو توریت وانجیل تو نہ اُتری مگر ان کے بعد تو کیا تمہیں عقل نہیں (ف۱۲۲)

(ف122)

شان نزول نجران کے نصارٰی اور یہود کے احبار میں مباحثہ ہوایہودیوں کا دعوٰی تھاکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام یہودی تھے اور نصرانیوں کایہ دعوٰی تھا کہ آپ نصرانی تھے یہ نزاع بہت بڑھا تو فریقین نے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حَکَمۡ مانااور آپ سے فیصلہ چاہااس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور علماء توریت و انجیل پر ان کا کمال جہل ظاہر کردیا گیا کہ ان میں سے ہر ایک کا دعوٰی ان کے کمال جہل کی دلیل ہے۔ یہودیت و نصرانیت توریت وانجیل کے نزول کے بعد پیداہوئیں اور حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کا زمانہ جن پر توریت نازل ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلا م سے صد ہا برس بعد ہے اور حضرت عیسٰی جن پرانجیل نازل ہوئی ان کازمانہ حضرت موسٰی علیہ الصلٰوۃ والسلام کے بعد دو ہزار برس کے قریب ہواہے اور توریت و انجیل کسی میں آپ کو یہودی یا نصرانی نہیں فرمایا گیا باوجود اس کے آپ کی نسبت یہ دعوٰی جہل و حماقت کی انتہا ہے۔

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ(۶۶)

سنتے ہو یہ جو تم ہو (ف۱۲۳) اس میں جھگڑے جس کا تمہیں علم تھا (ف۱۲۴) تو اس میں (ف۱۲۵)مجھ سے کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں علم ہی نہیں اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے (ف۱۲۶)

(ف123)

اے اہلِ کتاب تم ۔

(ف124)

اور تمہاری کتابوں میں اس کی خبر دی گئی تھی یعنی نبی آخر الزماں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ظہور اور آپ کی نعت و صفت کی جب یہ سب کچھ جان پہچان کر بھی تم حضور پر ایمان نہ لائے اور تم نے اس میں جھگڑا کیا۔

(ف125)

یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کو یہودی یا نصرانی کہتے ہیں۔

(ف126)

حقیقت حال یہ ہے کہ ۔

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًاؕ-وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ(۶۷)

ابراہیم نہ یہودی تھے نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جدا مسلمان تھے اور مشرکوں سے نہ تھے (ف۱۲۷)

(ف127)

تونہ کسی یہودی یا نصرانی کا اپنے آپ کو دین میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا صحیح ہوسکتا ہے نہ کسی مشرک کا بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس میں یہود و نصارٰی پر تعریض ہے کہ وہ مشرک ہیں

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاؕ-وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ(۶۸)

بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حق دار وہ تھے جو ان کے پیرو ہوئے (ف۱۲۸ )اور یہ نبی (ف۱۲۹) اور ایمان والے (۱۳۰) اور ایمان والوں کا والی اللہ ہے

(ف128)

اور انکے عہدِ نبوت میں ان پر ایمان لائے اور انکی شریعت پر عامل رہے۔

(ف129)

سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

(ف130)

اور آپ کے اُمتی۔

وَدَّتْ طَّآىٕفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْؕ-وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ(۶۹)

کتابیوں کا ایک گروہ دل سے چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں گمراہ کردیں اور وہ اپنے ہی آپ کو گمراہ کرتے ہیں اور انہیں شعور نہیں (ف۱۳۱)

(ف131)

شا نِ نزول یہ آیت حضرت معاذ بن جبل و حذیفہ بن یمان اور عمار بن یاسر کے حق میں نازل ہوئی جن کو یہوداپنے دین میں داخل کرنے کی کوشش کرتے اور یہودیت کی دعوت دیتے تھے اس میں بتایا گیا کہ یہ ان کی ہوس خام ہے وہ ان کو گمراہ نہ کرسکیں گے۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ(۷۰)

اے کتابیو اللہ کی آیتوں سے کیوں کفر کرتے ہو حالانکہ تم خود گواہ ہو (آیت ۷۰)(ف۱۳۲)

(ف132)

اور تمہاری کتابوں میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت و صفت موجود ہے اور تم جانتے ہو کہ وہ نبی برحق ہیں اور ان کادین سچا دین ۔

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠(۷۱)

اے کتابیو حق میں باطل کیوں ملاتے ہو (ف۱۳۳) اور حق کیوں چھپاتے ہو حالانکہ تمہیں خبر ہے

(ف133)

اپنی کتابوں میں تحریف و تبدیل کرکے۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.