کٹے ہوئے سرسے تلاوتِ قرآن کی آوازآتی

حکایت نمبر200: کٹے ہوئے سرسے تلاوتِ قرآن کی آوازآتی

حضرت سیدنا ابراہیم بن اسماعیل بن خلف علیہ رحمۃ الرب فرماتے ہیں،حضرت سیدنا احمد بن نصر حنبلی علیہ رحمۃ اللہ القوی جلیل القدر عالم تھے ، نیکی کی دعوت کی خوب دھومیں مچاتے۔ ” واثق باللہ” نے انہیں اس لئے اپنے ہاتھوں سے شہید کیا کہ وہ قرآن کو مخلوق نہ مانتے۔خلیفہ واثق باللہ نے انہیں شہید کر دیا اور حکم دیا کہ ان کے سر کوبغداد کی گلیوں میں پھر ایا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اس کے بعد کچھ عرصہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مبارک سر کو بغداد کی مشرقی جانب اور کچھ عرصہ مغربی جانب لٹکایا گیا اور بقیہ جسم کو ”سُرّ مَنْ رَاٰی ” میں سولی پر لٹکائے رکھا ، آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ شہید تو ہوگئے لیکن حق بات سے روگردانی نہ کی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی شہادت کے بعد مجھے خبر ملی کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے سرِ اقدس سے قرآن کی تلاوت سنائی دیتی ہے۔یہ خبر ملتے ہی میں وہاں پہنچا جہاں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا سرِ اقدس لٹکایا گیا تھا وہاں بہت سے شہسوار اور پہرے دار نگرانی پر مامور تھے۔ رات کے آخری پہر جب سب سوگئے تو میں نے ان کے سر سے قرآن کریم کی یہ آیت سنی:

الٓـمّٓ ۚ﴿1﴾اَحَسِبَ النَّاسُ اَنۡ یُّتْرَکُوۡۤا اَنۡ یَّقُوۡلُوۡۤا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوۡنَ ﴿2﴾

ترجمہ کنزالایمان: کیا لوگ اس گھمنڈ میں ہیں کہ اتنی بات پر چھوڑ دیئے جائيں گے کہ کہیں ہم ایمان لائے اوران کی آزمائش نہ ہو گی ۔ ( پ20 ،العنکبوت:1۔2)

یہ سن کر میرا جسم کانپنے لگا۔ چند دن بعد میں نے خواب دیکھا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے جسم پر ریشم کا بہترین لباس اور سر پر تاج تھا۔ میں نے پوچھا:” مَافَعَلَ اللہُ بِکَ(یعنی اللہ عزوجل نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا) ؟”آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”اللہ عزوجل نے مجھے بخش دیا اور جنت میں داخل فرمایا لیکن میں تین دن تک غمزدہ اورپریشان رہا ۔” میں نے پوچھا:”آپ پریشان کیوں ہوئے ؟” فرمایا :” میں نے دیکھا کہ حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم میرے قریب سے گزرے تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے اپنا رخِ زیبا مجھ سے پھیر لیا ۔”میں نے عرض کی:”یا رسول اللہ عزوجل و صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم !کیا مجھے حق کی خاطر قتل نہ کیا گیا؟” حضور صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:” بے شک تو حق کی خاطر شہید ہوا لیکن تجھے ایک ایسے شخص نے شہید کیا جو میرے اہل بیت سے ہے ،میں نے حیاء کی وجہ سے تجھ سے منہ پھیر لیا۔”

احمد بن علی بن ثابت فرماتے ہیں:”حضرت سیدنا احمد بن نصر حنبلی علیہ الرحمۃ اللہ القوی کاسر اقدس بغداد میں اور بقیہ جسم ”سُرَّ مَنْ رَاٰی” میں چھ سال تک لٹکا رہا۔ چھ سال بعد جسمِ مبارک اور سرِ اقدس کو ایک ساتھ دفن کیا گیا ۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزاراقدس بغداد شریف کی مغربی جانب واقع ہے ۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامين صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.