کپڑے سے منی مل دیتی تھی

حدیث نمبر :467

روایت ہے حضرت اسود ۱؎ اورہمام سے۲؎ وہ حضرت عائشہ سے راوی فرماتی ہیں کہ میں حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم کے کپڑے سے منی مل دیتی تھی(مسلم)اور علقمہ اسود کی ایک روایت میں حضرت عائشہ سے اسی طرح ہے اور اس میں یہ بھی ہے کہ آپ اسی میں نماز پڑھ لیتے ۳؎

شرح

۱؎ آپ کا نام اسود ابن ہلال محاربی نخعی ہے،علقمہ ابن قیس کے بھتیجے ہیں،ابراہیم نخعی کے ماموں،حضورصلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا،دیدار نہ کرسکے،خلفائے راشدین کے ساتھیوں میں سے ہیں،۸۰ حج وعمرے کئے،تاوفات ہمیشہ روزہ دار رہے اور دو شب میں ایک ختم قرآن کرتے تھے، ۸۴ھ؁ میں وصال ہوا۔(مرقاۃ و اشعہ)

۲؎ آپ نخی تابعی کوفی ہیں، ۶۵ھ؁ میں وفات پائی،حضرت عائشہ صدیقہ و ابن مسعود وغیرہم صحابہ کی زیارت کی۔۳؎ اس حدیث سے امام شافعی فرماتے ہیں کہ منی پاک ہے کیونکہ یہ انسان کا مادۂ پیدائش ہے،کیسے ہوسکتاہے کہ ایسی پاک چیز ناپاک سے پیدا ہو،ہمارے امام صاحب کے نزدیک منی نجس ہے،ورنہ اس کے نکلنے سے غسل واجب نہ ہوتا،ہاں آسانی کے لئے خشک منی کا مل کرجھاڑدینا کافی ہے،جیسے کہ کھلیان کا گندم جس پر بیل پیشاب پاخانہ کرتے ہیں تقسیم سے پاک ہوجاتاہے،اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ گوبراور پیشاب پاک ہو۔یہ بھی ضعیف ہے کہ پاک انسان ناپاک منی سے کیسے بنا،ماں کا دودھ جو انسان کی پہلی غذا ہے حیض کے خون سے بنتا ہے،بلکہ خود منی خون سے بنی ہے تو کیا خون کو بھی پاک کہو گے۔یہ تو خدا کی شان ہے کہ ناپاک کو پاک سے اورپاک کوناپاک سے بناتا ہے۔چنانچہ دارقطنی نے حضرت عمار ابن یاسر سے روایت کی کہ حضور نے فرمایا اے عمارپانچ چیزوں سے کپڑا دھوؤ:پیشاب،پاخانہ،قے،خون،اورمنی۔وہ جو حدیث ابن عباس مشہور ہے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا منی تھوک و رینٹ کی طرح ہے جس کا کپڑا یاگھاس سے پونچھ دینا کافی ہے۔اولًا تو وہ حدیث صحیح نہیں اگرصحیح مان لی جائے تو ان احادیث سے مرجوح یا منسوخ ہے کیونکہ اگر اباحت و حرمت میں تعارض ہو تو حرمت کو ترجیح ہوتی ہے۔(فتح القدیرومرقاۃ واشعہ)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.