فَتَـرَى الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوۡنَ فِيۡهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰٓى اَنۡ تُصِيۡبَـنَا دَآئِرَةٌ‌ ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 52

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَتَـرَى الَّذِيۡنَ فِىۡ قُلُوۡبِهِمۡ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوۡنَ فِيۡهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ نَخۡشٰٓى اَنۡ تُصِيۡبَـنَا دَآئِرَةٌ‌ ؕ فَعَسَى اللّٰهُ اَنۡ يَّاۡتِىَ بِالۡفَتۡحِ اَوۡ اَمۡرٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖ فَيُصۡبِحُوۡا عَلٰى مَاۤ اَسَرُّوۡا فِىۡۤ اَنۡفُسِهِمۡ نٰدِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

سو آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے وہ ان کی طرف یہ کہتے ہوئے دوڑیں گے ہمیں یہ خدشہ ہے کہ ہم پر کوئی گردش نہ آجائے پس قریب ہے کہ اللہ فتح لے آئے یا اپنی طرف سے (فتح کی) کوئی علامت تو انہوں نے جو کچھ اپنے دلوں میں چھپایا ہے وہ اس پر پچھتانے والے ہوجائیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جن کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے وہ ان کی طرف یہ کہتے ہوئے دوڑیں گے ہمیں یہ خدشہ ہے کہ ہم پر کوئی گردش نہ آجائے۔ (المائدہ : ٥٢) 

منافق یہ کہتے تھے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ساتھ دینے کی وجہ سے کہیں ان پر قحط نہ طاری ہوجائے۔ اور کہیں حالات بدل گئے اور یہود غالب آگئے اور (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حکومت نہ رہی تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ حضرت عبادہ بن صامت (رض) نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا ‘ میں نے بکثرت یہودیوں سے دوستی اور حمایت کا عہد کیا ہوا تھا ‘ لیکن میں اللہ اور رسول کی خاطر اس عہد کو توڑتا ہوں ‘ عبداللہ بن ابی نے کہا میں گردش ایام سے ڈرتا ہوں اور اپنے دوستوں سے کیے ہوئے عہد کو نہیں توڑ سکتا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پس قریب ہے کہ اللہ فتح لے آئے یا اپنی طرف سے (فتح کی) کوئی علامت تو انہوں نے جو کچھ اپنے دلوں میں چھپایا ہے وہ اس پر بچھتانے والے ہوجائیں۔ (المائدہ : ٥٢) 

اللہ تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اپنے دشمنوں پر فتح عطا فرمائے اور مسلمانوں کو غلبہ عطا فرمائے۔ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو منافقوں کی سازشوں سے مطلع فرما دے۔ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا فتح یہ تھی کہ بنو قریظہ کے جوانوں کو قتل کیا گیا اور ان کے بچوں کو قید کرلیا گیا اور بنو نضیر کو جلا وطن کردیا گیا۔ ایک قول یہ ہے مشرکین کے شہروں پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور فتح کی علامت سے مراد یہ ہے کہ اہل کتاب پر جزیہ کیا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ منافقوں کی سازشوں سے مطلع کیا گیا ‘ ان کے نام بتائے گئے اور ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ مسلمانوں کی فصل بہت اچھی ہوئی تھی اور مال غنیمت کی کثرت سے وہ خوش حال ہوگئے اور جب منافقوں نے مسلمانوں کا غلبہ ‘ خوش حالی اور ان پر اللہ کی نصرت دیکھی ‘ تب وہ کفار سے دوستی رکھنے پر نادم ہوئے اور اس وقت نادم ہوئے جب انہوں موت کے وقت عذاب دکھایا گیا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 52

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.