وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَهٰٓؤُلَاۤءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ‌ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ‌ ؕ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ‏ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 53

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَيَقُوۡلُ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَهٰٓؤُلَاۤءِ الَّذِيۡنَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰهِ جَهۡدَ اَيۡمَانِهِمۡ‌ۙ اِنَّهُمۡ لَمَعَكُمۡ‌ ؕ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُهُمۡ فَاَصۡبَحُوۡا خٰسِرِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ایمان والے یہ کہیں کہ کیا یہ وہی ہیں، جنہوں نے اللہ کی پکی قسمیں کھا کر یہ کہا تھا کہ بیشک ہم ضرور تمہارے ساتھ ہیں ‘ ان کے سب عمل ضائع ہوگئے اور وہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ایمان والے یہ کہیں کہ کیا یہ وہی ہیں، جنہوں نے اللہ کی پکی قسمیں کھا کر یہ کہا تھا کہ بیشک ہم ضرور تمہارے ساتھ ہیں ‘ ان کے سب عمل ضائع ہوگئے اور وہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔ (المائدہ : ٥٣) 

جب اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہودیوں پر غلبہ عطا فرمایا اور یہودیوں کو قتل کرنے اور جلاوطن کرنے کا حکم دیا گیا تو مسلمانوں نے یہودیوں کو جھڑکتے ہوئے منافقین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ‘ کہ کیا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے تمہارے لیے پختہ قسمیں کھائی تھیں کہ وہ سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خلاف تمہاری مدد کریں گے ‘ یا مسلمانوں نے ایک دوسرے سے کہا یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھا کر ہمیں یقین دلایا تھا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ حالانکہ اب اللہ تعالیٰ نے نفاق کا پردہ چاک کردیا اور یہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔ کیونکہ انہیں ثواب کے بدلہ عذاب ہوگا۔ اور دنیا میں یہودیوں کے قتل اور جلاوطن ہونے کے بعد ان کا کوئی سہارا نہ رہا ‘ اور یہودیوں کے ساتھ دوستی رکھنے سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 53

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.