يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ ‌ؔۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 51

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَتَّخِذُوا الۡيَهُوۡدَ وَالنَّصٰرٰۤى اَوۡلِيَآءَ ‌ؔۘ بَعۡضُهُمۡ اَوۡلِيَآءُ بَعۡضٍ‌ؕ وَمَنۡ يَّتَوَلَّهُمۡ مِّنۡكُمۡ فَاِنَّهٗ مِنۡهُمۡ‌ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو : یہود اور نصاری کو دوست نہ بناؤ‘ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘ تم میں سے جو انکو دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے (شمار) ہوگا، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو : یہود اور نصاری کو دوست نہ بناؤ‘ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘ تم میں سے جو انکو دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے (شمار) ہوگا، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ سو آپ دیکھیں گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں (نفاق کی) بیماری ہے وہ ان کی طرف یہ کہتے ہوئے دوڑیں گے ہمیں یہ خدشہ ہے کہ ہم پر کوئی گردش نہ آجائے پس قریب ہے کہ اللہ فتح لے آئے یا اپنی طرف سے (فتح کی) کوئی علامت تو انہوں نے جو کچھ اپنے دلوں میں چھپایا ہے وہ اس پر بچھتانے والے ہوجائیں اور ایمان والے یہ کہیں کہ کیا یہ وہی ہیں، جنہوں نے اللہ کی پکی قسمیں کھا کر یہ کہا تھا کہ بیشک ہم ضرور تمہارے ساتھ ہیں ‘ ان کے سب عمل ضائع ہوگئے اور وہ نقصان اٹھانے والے ہوگئے۔ (المائدہ : ٥٣۔ ١٥) 

شان نزول : 

امام ابو محمد عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ اپنی سند کے ساتھ روایت کرتے ہیں : 

ولید بن عبادہ بن الصامت نے بیان کیا کہ جب بنو قینقاع نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی تو عبداللہ بن ابی ابن سلول نے بنو قینقاع کا ساتھ دیا اور ان کی حمایت میں کھڑا ہوا۔ حضرت عبادہ بن الصامت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور وہ بھی بنو عوف کے ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے عبداللہ بن ابی کی طرف سے ان کی حمایت کرنے کا حلف اٹھایا ہوا تھا۔ انہوں نے اس حلف کو توڑ دیا اور اللہ عزوجل اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خاطر انکے حلف سے بری ہوگئے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اللہ ‘ اس کے رسول اور مومنوں سے دوستی رکھتا ہوں اور ان کافروں کے حلف اور ان کی دوستی سے بری ہوتا ہوں۔ سو حضرت عبادہ بن الصامت اور عبداللہ بن ابی کے متعلق سورة المائدہ : ٥٣۔ ٥١ کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ (السیرۃ النبویہ ‘ ج ٣‘ ص ٥٥‘ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٣٧٣ دارالفکر ‘ بیروت ‘ اسباب النزول القرآن اللواحدی ‘ ص ٢٠١۔ ٢٠٠‘ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

کفار کے ساتھ دوستی کی ممانعت میں قرآن مجید کی آیات : 

ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے قطعی طور پر مسلمانوں کو کفار کے ساتھ دوستی رکھنے سے منع فرما دیا ہے اور حسب ذیل آیتوں میں بھی اس پر دلیل ہے : 

(آیت) ” ولا ترکنوا الی الذین ظلموا فتمسکم النار “۔ (ھود : ١١٣) 

ترجمہ : ظالم لوگوں سے میل جول نہ رکھو ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ پہنچے گی۔ 

(آیت) ” لا یتخذالمؤمنون الکافرین اولیآء من دون المؤمنین “۔ (آل عمران : ٢٨) 

ترجمہ : ایمان والے مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں۔ 

(آیت) ” لا تتخذوا بطانۃ من دونکم “۔ (آل عمران : ١١٨) 

ترجمہ : اپنے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ 

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا عدوی وعدوکم اولیآء تلقون الیھم بالمودۃ وقد کفروا بماجآء کم من الحق “۔ (الممتحنہ : ١) 

ترجمہ : اے ایمان والو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوستت نہ بناؤ تم انہیں دوستی کے پیغام بھیجتے ہو حالانکہ انہوں نے اس حق کے ساتھ کفر کیا ہے جو تمہارے پاس آچکا ہے۔ 

(آیت) ” لا تحد قوما یؤمنون باللہ والیوم الاخر یوآدون من حآد اللہ ورسولہ ولو کانوا ابآء ھم اوابنآء ھم اواخوانھم اوعشیرتھم “۔ (المجادلۃ : ٢٢) 

ترجمہ : جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں ‘ آپ انہیں اللہ اور اس کے رسول سے عداوت رکھنے والوں کے ساتھ محبت کرنے والا نہ پائیں گے ‘ خواہ وہ ان کے باپ ہوں یا بیٹے ‘ یا ان کے بھائی ہوں یا قریبی رشتہ دار۔ 

کفار کے ساتھ دوستی کی ممانعت میں احادیث اور آثار : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہود اور نصاری کو ابتداء سلام نہ کرو ‘ جب تم ان میں سے کسی سے راستہ میں ملو تو اسے تنگ راستے پر چلنے میں مجبور کرو۔ (صحیح مسلم ‘ السلام ‘ ١٣‘ (٢١٦٧) ٥٥٥٧) سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٠٨‘ صحیح ابن حبان ٥٠٠‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٧٦٢١‘ مصنف عبدالرزاق ‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٤٥٧‘ الادب المفرد ‘ رقم الحدیث :‘ ١١١‘ سنن کبری للبیہقی ج ٩‘ ص ٢٠٣) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو سعید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن کے سوا کسی کو ساتھ نہ بناؤ اور متقی کے علاوہ اور کوئی تمہارا کھانا نہ کھائے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٠٣‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٣٢‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١١٣٣٦‘ شعب الایمان ‘ رقم الحدیث :‘ ٩٣٨٢) 

امام ابوبکراحمد بن حسین بیہقی متوفی ٤٥٨‘ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جریر بن عبداللہ بجلی (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص مشرکین کے ساتھ ٹھہرا ‘ اس کی ذمہ داری نہیں ہے۔ (شعب الایمان ج ٧ ص رقم الحدیث : ٩٣٧٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ١٤١٠) 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اپنی انگوٹھیوں میں عربی کو نقش نہ کرو ‘ اور مشرکین کی آگ سے روشنی حاصل نہ کرو۔ حضرت انس (رض) نے اس کی تفسیر میں فرمایا یعنی تم اپنی انگوٹھیوں میں محمد نہ لکھواؤ اور اپنے معاملات میں مشرکین سے مشورہ نہ کرو۔ (شعب الایمان ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٩٣٧٥) 

عیاض اشعری بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کے پاس ایک نصرانی کاتب تھا۔ حضرت عمر (رض) اس کی کتابت سے بہت خوش ہوئے۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا حضرت عمر (رض) نے مجھے ڈانٹا اور میری ران پر ضرب لگائی اور فرمایا : اس کو نکال دو اور یہ آیت پڑھی اے ایمان والو ! اپنے اور میرے دشمن کو دوست نہ بناؤ (الممتحنہ : ١) اور یہ آیت پڑھی :

اے ایمان والو : یہود اور نصاری کو دوست نہ بناؤ‘ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ‘ تم میں سے جو انکو دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے (شمار) ہوگا، بیشک اللہ ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدہ : ٥١) 

حضرت ابو موسیٰ نے کہا بخدا میں اس سے دوستی نہیں رکھتا ‘ یہ صرف کتابت کرتا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا کیا تمہیں مسلمانوں میں کوئی کاتب نہیں ملا تھا ؟ جب اللہ نے ان کو دور کردیا ہے تو تم ان کو قریب نہ کرو ‘ اور جب اللہ نے ان کو خائن قرار دیا ہے تو تم ان کو امین نہ بناؤ ؟ اور جب اللہ نے ان کو ذلیل کیا ہے تو تم ان کو عزت مت دو ۔ سنن کبری کی آداب القضاء میں ہم نے اس حدیث کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔ (شعب الایمان ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٩٣٨٤) 

ابو سلمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے فرمایا اللہ کے دشمنوں یہود اور نصاری سے ان کی عید اور ان کے اجتماع کے دنوں میں ان سے اجتناب کرو ‘ کیونکہ ان پر اللہ کا غضب نازل ہوتا ہے ‘ مجھے خدشہ ہے کہ تم پر بھی وہ غضب نہ آجائے ‘ اور ان کو اپنے راز نہ بتاؤ۔ ورنہ تم بھی ان کے اخلاق اختیار کرلو گے۔ (شعب الایمان ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٩٣٨٥) 

حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) نے فرمایا جس شخص نے عجمیوں کے ملک میں نشو و نما پائی ‘ اور ان کے نو روز اور مہرجان کو منایا اور ان کی مشابہت اختیار کی اور اسی طریقہ پر مرگیا تو وہ قیامت کے دن اسی طرح اٹھایا جائے گا۔ (شعب الایمان ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٩٣٨٧) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جریر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خشعم کی طرف ایک لشکر بھیجا ‘ وہاں کے لوگوں نے مسجدوں میں پناہ لینی شروع کردی ‘ لشکر نے ان کو جلدی جلدی قتل کرنا شروع کردیا ‘ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک یہ خبر پہنچی تو آپ نے ان کے لیے آدھی دیت کا حکم فرمایا اور فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہے ‘ صحابہ نے پوچھا یا رسول اللہ ! کس لیے ؟ آپ نے فرمایا ان دونوں کے (چولہوں کی) آگ اکٹھی نہ دکھائی دے۔ 

حضرت سمرۃ بن جندب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مشرکین کے ساتھ سکونت نہ کرو ‘ نہ ان کے ساتھ جمع ہو ‘ جس نے ان کے ساتھ سکونت رکھی یا ان کے ساتھ جمع ہوا وہ ان کی مثل ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٦١١‘ ١٦١٠‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٦٤٥‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٧٩٤) 

علامہ تفتازانی نے اس حدیث کی شرح میں کہا ہے کہ فتح مکہ سے پہلے ایک قوم اسلام لانے کے بعد مکہ میں مشرکین کے ساتھ رہتی تھی۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرک کے ساتھ رہتا ہو۔ پوچھا گیا ‘ کیوں ؟ تو آپ نے فرمایا : ان دونوں کی آگ ایک ساتھ دکھائی نہ دے ‘ یعنی یہ واجب ہے کہ جب ایک آگ جلائے تو دوسرا نظر نہ آئے ‘ وہ دونوں ایک دوسرے سے اتنی دور رہیں۔ علامہ ابن اثیر جزری نے کہا ہے کہ واجب ہے کہ مسلمان کا گھر مشرک کے گھر سے دور ہو ‘ اور جب اس کے گھر جلے تو اس سے مشرک کا گھر نظر نہ آئے ‘ مسلمان پر لازم ہے کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ رہے۔ 

کفار سے دوستی کے حق میں منافقوں کے بہانوں کا بطلان : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :‘ تم میں سے جو انکو دوست بنائے گا وہ ان ہی میں سے (شمار) ہوگا۔ (المائدہ : ٥١) 

اس آیت میں یہود و نصاری سے دور اور الگ رہنے پر تشدید کی گئی ہے اور اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے منع کرنے کے باوجود جو شخص کافروں سے دوستی رکھے گا ‘ وہ کافروں کی طرح اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مخالفت کرے گا۔ لہذا کافروں کی طرح اس سے عداوت رکھنا بھی واجب ہے اور وہ بھی دوزخ کا مستحق ہوگا جیسے کافر دوزخ کے مستحق ہیں اور وہ کافروں کے اصحاب سے شمار کیا جائے گا اور یا اس لیے کہ کافروں اور یہود و نصاری سے دوستی رکھنے والے منافق تھے اور ان کا شمار بھی کافروں میں ہوتا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 51

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.