کپڑے پر پیشاب کردیا

حدیث نمبر :468

روایت ہے ام قیس بنت محصن سے ۱؎ کہ وہ اپنے چھوٹے بیٹے کو جو کھانا نہ کھاتا تھا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائیں حضور نے اسے اپنی گود میں بٹھالیا اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیا حضور نے پانی منگایا اس پر پانی بہادیا خوب نہ دھویا ۲؎(مسلم،بخاری)

شرح

۱؎ آپ حضرت عکاشہ ابن محصن کی بہن ہیں،قبیلہ بنی اسد سے ہیں،مکہ معظمہ میں اسلام لائیں،پھر ہجرت کی۔

۲؎ اس حدیث کی بناءپربعض لوگوں نے کہا کہ شیرخوارلڑکے کا پیشاب پاک ہے۔امام شافعی فرماتے ہیں کہ ناپاک تو ہے لیکن صرف پانی کے چھینٹے سے پاک ہوجاتا ہے،دھونے کی ضرورت نہیں۔ہمارے امام صاحب کے نزدیک نجاست غلیظہ ہے،دھونا فرض۔یہاں نَضْحٌ کے معنی پانی بہاناہے نہ کہ چھینٹا دینا اور لَمْ یَغْسِلْ کے معنی ہیں بہت مبالغہ سے نہ دھویا کیونکہ ایسے لڑکے کا پیشاب پتلا اورکم بدبودارہوتاہے،ورنہ یہی نَضْحٌ حضرت اسماء کی حدیث میں حیض کے خون کے بارے میں آچکا ہے اگر یہاں اس لفظ سےشیرخوارلڑکے کا پیشاب پاک مانا جائے یا وہاں چھینٹا مانا جائے تو حیض کا خون بھی پاک ماننا پڑے گا اور وہاں چھینٹا کافی ماننا پڑے گا۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.