أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوا الَّذِيۡنَ يُقِيۡمُوۡنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤۡتُوۡنَ الزَّكٰوةَ وَهُمۡ رَاكِعُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

تمہارا دوست صرف اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور وہ اللہ کے سامنے (عاجزی سے) جھکنے والے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تمہارا دوست صرف اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ دیتے ہیں اور وہ اللہ کے سامنے (عاجزی سے) جھکنے والے ہیں۔ (المائدہ : ٥٥) 

آیت مذکورہ کے شان نزول میں متعدد اقوال : 

امام ابو محمد عبدالمالک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ لکھتے ہیں : 

جب بنو قینقاع نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ جنگ کی تو عبداللہ بن ابی ابن سلول نے ان کا ساتھ دیا۔ حضرت عبادہ بن الصامت (رض) بنو عوف سے تھے اور انہوں نے بھی عبداللہ بن ابی کی طرح قینقاع کا ساتھ دینے کا حلف اٹھایا ہوا تھا۔ حضرت عبادہ نے یہ حلف توڑ دیا اور بنو قینقاع سے بری ہوگئے اور کہا میں میں اللہ ‘ اس کے رسول اور مسلمانوں کو دوست بناتا ہوں ‘ تو ان کے متعلق سورة مائدہ کی آیت ٥١‘ اور آیت ٥٥ نازل ہوئی تمہارا دوست صرف اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں الایہ (السیرۃ النبویہ ‘ ج ٣ ص ٥٦۔ ٥٥‘ جامع البیان ‘ جز ٦‘ ص ٣٨٩۔ ٣٨٨) 

امام ابو الحسن علی بن احمد واحدی متوفی ٤٦٨ لکھتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن سلام نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قریظہ اور نضیر نے ہمیں چھوڑ دیا اور ہم سے الگ ہوگئے اور انہوں نے قسم کھائی ہے کہ وہ ہمارے ساتھ نہیں بیٹھا کریں گے اور ہم آپ کے اصحاب کے ساتھ مجلس کی استطاعت نہیں رکھتے ‘ کیونکہ ان کے گھر ہم سے دور ہیں۔ اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی تمہارا دوست صرف اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر یہ آیت تلاوت کی تو انہوں نے کہا ہم اللہ ‘ اس کے رسول اور مسلمانوں کو دوست بنانے پر راضی ہوگئے۔ (اسباب نزول القرآن ‘ ص ٢٠١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

نیز واحدی لکھتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن سلام اپنی قوم کی ایک جماعت کے ساتھ آئے جو اسی دوران ایمان لائی تھی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے گھر دور ہیں اور ہماری کوئی مجلس اور بات کرنے کی جگہ نہیں ہے اور ہماری قوم جب یہ دیکھے گی کہ ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لا چکے ہیں اور ان کی تصدیق کرچکے ہیں تو وہ ہم کو چھوڑ دیں گے اور ہمارے ساتھ نشست ‘ برخواست ‘ شادی بیاہ اور کھانے پینے کو ترک کرنے کی قسم کھا لیں گے اور یہ ہم پر بہت دشوار ہوگا ‘ تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان پر یہ آیت پڑھی تمہارا دوست صرف اللہ ہے ‘ اس کا رسول ہے اور ایمان والے ہیں پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسجد میں تشریف لے گئے وہاں مسلماں قیام اور رکوع میں تھے۔ آپ نے ایک سائل کو دیکھ کر پوچھا کیا کسی نے تم کو کچھ دیا ہے ‘ اس نے کہا ہاں سونے ایک انگوٹھی۔ آپ نے پوچھا تم کو وہ انگوٹھی کس نے دی ہے ؟ اس نے حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ جو نماز پڑھ رہے ہیں۔ آپ نے پوچھا انہوں نے تم کو یہ کس حال میں دی ہے ؟ اس نے کہا انہوں نے حالت رکوع میں مجھ کو یہ انگوٹھی دی ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ اکبر پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اور جو اللہ اور اس کے رسول اور ایمان والوں کو دوست بنائے تو بیشک اللہ کی جماعت ہی غالب ہے۔ (المائدہ : ٥٦‘ اسباب نزول القرآن ‘ ص ٢٠٢‘ جامع البیان ‘ جز ٦‘ ص ٣٩) 

امام طبرانی نے سائل کو حضرت علی (رض) کی انگوٹھی دینے کا واقعہ حضرت عمار بن یاسر سے روایت کیا ہے۔ (المعجم الاوسط ‘ ج ٧‘ رقم الحدیث : ٦٢٢٨) 

حضرت علی (رض) کے مستحق خلافت ہونے پر علماء شیعہ کی دلیل : 

شیخ طوسی متوفی ٤٦٠ ھ نے اس آیت سے یہ استدلال کیا ہے کہ حضرت علی (رض) ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد خلافت اور امامت کے مستحق تھے ‘ کیونکہ اس آیت میں فرمایا ہے تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول ہے اور مومنین ہیں اور مومنین سے مراد اس آیت میں حضرت علی (رض) ہیں ‘ کیونکہ یہاں مومنین کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ نماز پڑھتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوۃ دیتے ہیں اور مذکورالصدر شان نزول کے مطابق حضرت علی (رض) ہی اس آیت کے مصداق ہیں ‘ کیونکہ آپ ہی نے حالت رکوع میں سائل کو سونے کی انگوٹھی دی تھی۔ لہذا حضرت علی (رض) مسلمانوں کے ولی ہوئے اور ولی کا معنی اولی اور احق ہے۔ سو حضرت علی (رض) مسلمانوں پر متصرف اور ان کے حاکم ہوئے اور یہی خلافت اور امامت کا معنی ہے۔ لہذا اس آیت سے ثابت ہوگیا کہ حضرت علی (رض) مسلمانوں کے ولی یعنی ان کے امام اور خلیفہ ہیں۔ (التبیان فی التفسیر القرآن ‘ ج ٣‘ ص ٥٥٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

علماء شیعہ کی دلیل کا جواب : 

شیخ طوسی کا یہ استدلال کئی وجوہ سے باطل ہے۔ 

(١) ولی کا معنی اولی اور احق نہیں ہے ‘ بلکہ ولی کا معنی محب اور ناصر ہے۔ 

علامہ مجد الدین محمد بن یعقوب فیروز آبادی متوفی ٨١٧ ھ لکھتے ہیں : 

ولی جب اسم ہو تو اس کا معنی محب ‘ صدیق (دوست) اور نصیر ہے اور مصدر ہو تو اس کا معنی امارۃ اور سلطان ہے۔ (القاموس المحیط ج ٤ ص ‘ ٥٨٣ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت ‘ ١٤١٢ ھ) 

(٢) اس آیت میں ولی محب ‘ دوست اور مددگار ہی کے معنی میں ہے کیونکہ اس سے پہلی آیت میں فرمایا تھا اے ایمان والو : یہود اور نصاری کو دوست نہ بناؤ ‘۔ سو اس آیت میں فرمایا تمہارا ولی یعنی دوست اللہ ہے۔ اس کا رسول ہے اور مومنین ہیں۔ 

(٣) اگر اس آیت میں ولی کا معنی اولی بالامامت ہو اور مومنین سے مراد حضرت علی ہوں تو یہ لازم آئے گا کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی تھی اس وقت مسلمانوں کی امامت کے زیادہ لائق حضرت علی (رض) ہوں ‘ حالانکہ اس وقت تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسلمانوں میں موجود اور تشریف فرما تھے اور آپ کے ہوتے ہوئے کسی اور کا امامت اور حکومت کے زیادہ لائق اور حقدار ہونا قطعا باطل اور مردود ہے۔ 

(٤) اگر یہ آیت حضرت علی (رض) کی امامت کے حقدار ہونے پر دلالت کرتی تو حضرت علی (رض) ضرور کسی نہ کسی محفل میں اس آیت سے استدلال کرتے ‘ حالانکہ آپ نے کبھی بھی اس آیت سے اپنی امامت پر استدلال نہیں کیا۔ آپ نے شوری کے دن حدیث غدیر اور آیت مباہلہ سے اپنے فضائل پر استدلال کیا ‘ لیکن اس آیت کو آپ نے کبھی پیش نہیں کیا۔ 

(٥) شیخ طوسی اور دیگر علماء شیعہ کا استدلال اس پر موقوف ہے کہ اس آیت میں مومنین سے مراد حضرت علی (رض) ہوں۔ ہرچند کہ تعظیما جمع کا واحد پر اطلاق جائز ہے ‘ لیکن یہ مجاز ہے ‘ اور بلاضرورت شرعی کسی آیت کو مجاز پر محمول کرنا درست نہیں ہے۔ 

(٦) نیز ! یہ استدلال اس پر موقوف ہے کہ حضرت علی (رض) نماز کی حالت میں سائل کی طرف متوجہ ہوں اور حالت رکوع میں سونے کی انگوٹھی سائل کو دینے کی نیت سے گرائیں اور نماز میں نماز کے علاوہ کوئی اور عمل کریں۔ حالانکہ حضرت علی (رض) جس طرح انہماک اور استغراق اور خضوع وخشوع کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ‘ یہ کہانی اس کے سراسر خلاف ہے۔ 

(٧) عہد رسالت میں حضرت علی (رض) بہت تنگ دست تھے ‘ بعض اوقات آپ اپنے حصہ کی روٹی سائل کو دے کر خود بھوکے رات گزارتے تھے۔ ایسے شخص کے متعلق یہ فرض کرنا کہ وہ صاحب زکوۃ تھے اور ان کے پاس سونے کی انگوٹھی تھی۔ یہ بہت بعید معلوم ہوتا ہے بلکہ اس روایت کے ساقط الاعتبار ہونے کے لیے یہی کافی ہے۔ 

(٨) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردوں پر سونا حرام کردیا تھا اور سورة مائدہ احکام سے متعلق آخری سورت ہے۔ اس لیے حضرت علی (رض) کا سونے کی انگوٹھی پہننا بھی اس روایت کے غیر معتبر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ 

ہمارے نزدیک اس آیت میں ” راکعون “ اپنے ظاہری معنی میں نہیں ہے ‘ اس کا معنی ہے جھکنے والے ‘ یعنی ایمان والے نماز قائم کرتے ہیں اور زکوۃ ادا کرتے ہیں اور وہ اللہ کے سامنے (عاجزی سے) جھکنے والے ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 55