رمضان کا استقبال کس طرح کریں

چاند دیکھو پھر روزہ رکھو: مسنون ہے کہ ۲۹؍شعبان المعظم کو بعد نمازِ مغرب چاند دیکھا جائے، چاند نظر آجائے تو دوسرے دن سے روزہ رکھا جائے اور اگر نظر نہ آئے تو دوسرے دن پھر چاند دیکھے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ’’وَ یَسْئَلُوْنَکَ عَنِ الْاَہِلَّۃِ قُلْ ہِیَ مَوَاقِیْتُ لِلنَّاسِ وَ الْحَجِّ‘‘ اے محبوب! لوگ آپ سے چاند کے بارے میں پوچھتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ وہ لوگوں اور حج کے لئے وقت کی علامت ہے۔ لہٰذا چاند ہی کے ذریعہ ہمیں رمضان کی شروعات اور اختتام کا علم ہو سکتا ہے۔لہٰذا ہمیں چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھنا چاہئے۔

جیسا کہ نبی کریمﷺ نے رمضان کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ’’لاَ تَصُوْمُوْا حَتّٰی تَرَوُوْا الْہِلاَلَ وَ لاَ تُفْطِرُوْا حَتّٰی تَرَوُوْا الْہِلاَلَ فَاِنْ اُغْمِیَ عَلَیْکُمْ فَاَقْدِرُوْا لَہٗ‘‘ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر افطار کرو، اگر چاند نظر نہ آئے تو تیس دن پورے کرو۔

چاند نظر آجائے تو یہ دعاء پڑھے ’’اَللّٰہُ اَکْبَرُ اَللّٰہُمَّ اَہِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْاَمْنِ وَ الْاِیْمَانِ وَ السَّلاَمَۃِ وَ الْاِسْلاَمِ وَ التَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی رَبِّیْ وَ رَبُّکَ اللّٰہُ‘‘ اللہ اکبر، اے اللہ! ہم پر یہ چاند امن و ایمان اور سلامتی و اسلام کے ساتھ گزار اور اس چیز کی توفیق کے ساتھ جو تجھ کو پسند ہو اور جس پر تو راضی ہو، میرا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔

روزہ کب فرض ہوا: میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو ! روزہ اعلان نبوت کے پندرہویں سال یعنی دس شوال ۲ ھ ؁ میں فرض ہوا۔

اللہ کا فرمان ہے: ’’ یٰاَ یُّہَا الَّذِ یْنَ اٰمَنُوْاکُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْن‘‘ (سورئہ بقرہ، پ۲، آیت ۱۸۳)

ترجمہ : اے ایمان والو ! تم پر روزے فرض کئے گئے جیسے کہ اگلوں پر فرض ہوئے کہ کہیں تمہیں پرہیزگاری ملے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بطور خاص ذکر فرمایا کہ یہ عبادت صرف تم ہی پر فرض نہیں کی جا رہی ہے بلکہ تم سے پہلے لوگوں پر بھی فرض ہو چکی ہے۔

چنانچہ تفسیر کبیر وتفسیر احمدی میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ہر امت پر روزے فرض رہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام پر ہر قمری مہینے کی تیرہویں، چودہویں، اورپندرہویں تاریخ کے روزے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم پر عاشورہ کاروزہ فرض رہا۔ بعض روایتوں میں ہے کہ سب سے پہلے حضرت نوح علیہ السلام نے روزے رکھے۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری