الحمد للہ رب العالمین ، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء وأفضل المرسلين وأكرم العباد ، وعلى آله وصحبه ومن تبعهم بإحسان إلى يوم الدين ، وبعد:

یہ بات شریعت إسلامیہ کے مسلمات میں سے ہے کہ اللہ رب العزت نے بعض أیام کو بعض پر ، أور بعض راتوں کو بعض پر ، إسی طرح بعض مہینوں کو بعض ماہ پر فضیلت دی ہے جس سے کسی کو بھی إنکار نہیں .

15 شعبان کی رات کی عظمت کو دیکھتے ہوئے أور بعض لوگوں کے اعتراضات کی وجہ سے ہمارے کسی دوست نے درج ذیل أہم 12 سؤالات پر مشتمل مراسلہ إرسال کیا ہے ، ہم بفضل اللہ تعالیٰ و منتہ إن میں سے ہر إیک سؤال کا جواب أحادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں تحریر کررہے ہیں .

اللہ کے حضور دست دراز ہیں کہ وہ خالق کریم ہمارے إن جوابات کو دنیاء و آخرت میں ہماری کامیابی کا ذریعہ بنایا ، أور حضور صلی الله علیہ وسلم و صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین و أہل بیت علیہم السلام کی محبت و احترام عطاء فرمائے ، أور علمائے کرام رحمہم اللہ جمیعا کے علوم سے مستفید فرمائے.

ابن طفیل الأزہری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلا سؤال:

کیا پندرہ شعبان کی رات کی فضیلت احادیث سے ثابت ہے؟

جواب:

پندرہ شعبان کی فضیلت میں کثیر أحادیث وارد ہیں جن میں سے صحیح لغیرہ بھی ہیں أور ضعیف و موضوعات بھی ہیں ،

درج ذیل جو مجموع طرق سے حدیث صحیح ہے أس سے إس رات کی فضیلت ثابت ہے :

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا :

” یطلع الله عز وجل إلى خلقه ليلة النصف من شعبان فيغفر لعباده إلا لإثنين ؛ مشاحن ، وقاتل نفس “

( مسند أحمد بن حنبل ، حديث نمبر: 6642 ، جلد : 11 ، ص : 217، طبعہ : مؤسسۃ الرسالہ )

ترجمہ:

اللہ عز و جل پندرہ شعبان کی رات أپنی مخلوق کی طرف توجہ فرماتا ہے ، پس وہ أپنے سب بندوں کو معاف فرمادیتا ہے سوائے دو قسم کے لوگوں کے ؛ کسی سے دشمنی رکھنے والا ، أور قاتل ( إنکو معاف نہیں فرماتا).

یہ حدیث صحیح صریح دلالت کررہی ہے کہ پندرہ شعبان کی رات کو خاص قسم کی فضیلت کی حاصل ہے کیونکہ اللہ رب العزت إس رات أپنی شان کے لائق خاص توجہ فرماتا ہے.

حدیث کا حکم :

مذکورہ بالا حدیث کو مسند أحمد بن حنبل کے محقیقین نے کہا ہے:

یہ حدیث شواہد کے ساتھ صحیح ہے .

پھر محققین نے طرق بھی بیان کیے جس میں تقریباً سات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین نے إس حدیث کو بیان کیا ہے تقارب ألفاظ کے ساتھ ، أور عبد عاجز کہتا ہے: یہ أور بھی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین سے مروی ہے.

علامہ ناصر الدین البانی فرماتے ہیں:

یہ حدیث صحیح ہے.

پھر أنہوں نے دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم أجمعین کے طرق بھی بیان کیے جنہوں نے إس حدیث کو روایت کیا ہے .

( سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ وشیء من فقهها وفوائدها ، حدیث نمبر: 1144 ، جلد: 3 ، ص : 135 )

أہل حدیث کے معروف عالم علامہ مبارکپوری صاحب تحفۃ الأحوذی فرماتے ہیں:

فهذه الأحاديث بمجموعها حجة على من زعم أنه لم يثبت في فضيلة ليلة النصف من شعبان .

( تحفة الأحوذي ، باب ماجاء في ليلة النصف من شعبان ، جلد: 3 ، ص: 367 )

ترجمہ:

یہ ساری أحادیث ( جو پندرہ شعبان کی رات کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں) جمیع طرق کے ساتھ أس شخص کا رد کرتی ہیں جو کہتا ہے کہ إس رات کی فضیلت میں کوئی حدیث ثابت نہیں.

لہذا إن محدثین کے أقوال کی روشنی میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پندرہ شعبان کی رات خاص فضیلت صحیح حدیث سے ثابت ہے ، إنکے علاوہ بھی بعض محدثین نے إس حدیث کو صحیح یا حسن کہا ہے لہذا جو شخص کہتا ہے کہ إس رات کی کوئی خاص فضیلت میں صحیح حدیث نہیں ہے وہ صرف تقلید کی بنیاد پہ أیسا قول کرتا ہے جس کا حقیقت سے کوئی سروکار نہیں.

اعتراض:

إس حدیث میں لفظ ” عباد” ہے تو مطلب کفار کی بھی بخشش ہوجاتی ہے؟

جواب:

قطعیات سے ثابت ہے کہ کفار کی بخشش نہیں ہوگی یہاں پہ جو عباد کا لفظ ہے أس سے مراد مسلمان ہیں جیسے کہ إسی حدیث کے بعض طرق میں لفظ” مؤمنین ” ہے , جیسے أبی ثعلبہ کے طریق میں ہے۔

( مجمع الزوائد و منبع الفوائد للہیثمی ، حدیث نمبر: 12962 ، جلد:8 ، ص : 65 )

دوسرا سؤال:

سورہ دخان کی آیت نمبر 3 میں جس رات کا ذکر ہے ، کیا أس سے پندرہ شعبان کی رات مراد ہے؟

جواب:

أس آیت میں جس رات کا ذکر ہے أس میں مفسرین میں اختلاف ہے جمہور نے کہا: شب قدر مراد ہے ، أور بعض نے کہا: پندرہ شعبان کی رات مراد ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ أس رات سے مراد شب قدر ہے نہ کہ پندرہ شعبان کی رات .

( حوالہ کے لیے إسی آیت کی تفاسیر دیکھیں جیسے تفسیر طبری و رازی ہے وغیرہ ، مرقاۃ المفاتیح للملا علی قاری ، باب قیام شھر رمضان ، حدیث نمبر: 1299 ، جلد: 3 ، ص : 968 )

تیسرا سؤال:

أگر شب براءت قدر کی رات ہے تو کیا ہم پندرہ شعبان کی رات کو بھی شب براءت کہ سکتے ہیں؟

جواب:

أئمہ کرام پندرہ شعبان کی رات کو بھی شب براءت کہتے رہے ہیں کیونکہ براءت کا معنی گنہگاروں کو دوزخ سے آزاد کرنا یا گناہوں کو معاف فرمانا أور بخشش عطاء کرنا جیسا کہ پہلے سؤال کے جواب میں بیان کردہ صحیح حدیث سے بھی ثابت ہے کہ إس رات اللہ رب العزت أپنے بندوں کی بخشش فرماتا ہے ،

أور حدیث عائشہ جو سنن ترمذی میں ہے جسکا نمبر : 739 ہے أس میں ذکر ہے کہ اللہ رب العزت کلب قبیلہ کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ إس رات لوگوں کی بخشش فرماتا ہے ، أور یہ حدیث انقطاع سند کی وجہ سے ضعیف ہے ، لیکن أیسا ضعف فضائل میں قبول ہے لہذا پندرہ شعبان کی رات کو بھی شب براءت کہ سکتے ہیں .

اگر کوئی حدیث عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا إنکار کرے ضعف کی وجہ سے تو ہم نے صحیح حدیث بھی ذکر کردی ہے پھر بھی أگر کوئی إس فعل کو بدعت کہتا تو وہ صرف تقلید کی بنیاد پہ أیسا کررہا ہے ہم أسکے لیے منہج مستقیم کی دعاء ہی کرسکتے ہیں.

إمام عینی جو شارح صحیح بخاری ہیں أنہوں نے فرمایا:

وليلة الصك : ليلة البراءة ، وهي ليلة النصف من شعبان لأنه يكتب فيها من صكاك الأوراق.

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری للعینی ، باب القراءة والعرض على المحدث ، جلد: 2 ، ص : 17 )

ترجمہ:

لکھائی کی رات شب براءت ہے ، أور وہ پندرہ شعبان کی رات ہے کیونکہ إس رات میں (تقدیر) کے أوراق لکھے جاتے ہیں.

لہذا حدیث صحیح سے بھی ثابت ہے کہ یہ براءت کی رات ہے أور أئمہ بھی إسکو شب براءت کہتے آئے ہیں لہذا پندرہ شعبان کی رات کو شب براءت کہنا جائز ہے.

إمام مناوی نے إس رات کے تین أور أسماء بیان کیے ہیں:

بابرکت رات ، تقدیر کی کتابت کی رات ( لیلۃ الصک) ، رحمت کی رات.

( فیض القدیر للمناوی ، حدیث نمبر: 1798 ، جلد: 2 ، ص: 263 )

چوتھا سؤال:

جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ کی کتاب میں ہے:

أہل جرح و تعدیل نے فرمایا:

إس رات کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں بلکہ لوگوں نے أحادیث موضوع و من گھڑت بیان کی ہیں.

جب أہل جرح و تعدیل یہ بیان فرمارہے ہیں تو پھر أنکے قول کا مطلب کیا ہے؟

جواب:

پہلی بات تو یہ ہے کہ دعوی دلائل سے پرکھا جاتا ہے شخصیات سے نہیں ،

جو لوگ کہتے ہیں کہ إس رات کی فضیلت میں کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں وہ إسی قول کے مقلد ہیں لیکن حقیقت میں جیسے ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ صحیح حدیث موجود ہے تو حدیث کے مقابلے میں أیسا قول پیش کرنا تقلید کے سوا کچھ نہیں، جو لوگ دوسروں کو تقلید کا طعنہ دیتے ہیں وہ خود سب سے بڑے مقلد ہیں ،

پھر إسی قول پہ علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے تعلیق لگاتے ہوئے فرمایا جسکا خلاصہ ہے کہ حدیث صحیح موجود ہے ، أور أسکے کافی طرق و شواہد ہیں .

( إصلاح المساجد لجمال الدین قاسمی تحقیق ناصر الدین البانی ، ص : 99 ، طبعہ: المکتب الإسلامی )

پھر علامہ ألبانی صاحب أپنی دوسری کتاب ” سلسلۃ الأحادیث الصحیحۃ۔۔ ” میں فرماتے ہیں:

فما نقله الشيخ القاسمي رحمه الله تعالى في ” إصلاح المساجد” ( ص 107 ) عن أهل التعديل والتجريح أنه ليس في فضل ليلة النصف من شعبان حديث صحيح ، فليس مما ينبغي الاعتماد عليه ، ولئن كان أحد منهم أطلق مثل هذا القول فإنما أوتي من قبل التسرع ، وعدم وسع الجهد لتتبع الطرق على هذا النحو الذي بين يديك والله تعالى هو الموفق.

( سلسلة الأحاديث الصحيحة ، حدیث نمبر: 1144 ، جلد: 3 ، ص : 138 )

ترجمہ:

شیخ قاسمی رحمہ اللہ تعالیٰ نے أہل تجریح و تعدیل سے جو ” إصلاح المساجد” کے ص: 107 پہ نقل کیا : “نصف( پندرہ) شعبان کی رات کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں” یہ قول أن ( أقوال ) میں سے ہے جن پہ اعتماد نہیں کرنا چاہیے ، أگر أن ( أہل تجریح و تعدیل) میں سے کسی نے أیسا مطلق قول کیا ہے تو وہ بے شک جلد بازی أور طرق کو جمع کرنے کی جہد کے بغیر کہا جیسے ہم نے آپ کے سامنے طرق بیان کیے ( ویسے انہوں نے أیسا نہیں کیا) یہ توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے.

إس قول میں علامہ ألبانی واضح فرمارہے ہیں کہ جنہوں نے بھی یہ کہا کہ پندرہ شعبان کی فضیلت میں کوئی حدیث صحیح نہیں أنہوں نے أیسا قول بغیر تحقیق کے کیا ہے أور ہم نے تحقیق طرق کے ساتھ صحیح حدیث ثابت کردی.

لہذا شیخ جمال الدین قاسمی رحمہ اللہ کا قول صرف تقلید پر مبنی ہے تحقیق پر نہیں ، تحقیق یہی ہے کہ پندرہ شعبان کی رات کی فضیلت میں صحیح حدیث ثابت ہے جیسے ہم بیان کرچکے ہیں.

پانچواں سؤال:

کیا إس رات کے کوئی خاص نفل ہوتے ہیں جیسے ہم پفلٹ وغیرہ میں دیکھتے ہیں؟

أور إس رات کھانا وغیرہ جو بناکر تقسیم کیا جاتا ہے وہ حدیث سے ثابت ہے؟

جواب:

پندرہ شعبان کی رات کے متعلق جو خاص قسم کے نوافل کے نام سے پفلٹ وغیرہ تقسیم کیے جاتے ہیں ، أور أنکو پندرہ شعبان کے نوافل کہا جاتا ہے ، پھر أنکا طریقہ بھی لکھا ہوتا ہے أور أسکے بعد وظائف بھی إن سب نوافل کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ موضوع و من گھڑت أحادیث میں بیان ہوئے ہیں ، أور موضوع أحادیث پہ عمل کرنا حرام ہے ، أور معلوم ہونے کے بعد پھر بھی مصر رہنا تو یہ حضور صلی الله علیہ وسلم پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے ، أور صحیح حدیث میں ہے کہ جس نے بھی میری طرف أیسی بات منسوب کی جو مینے کی نہیں وہ أپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے لہذا أیسے لوگوں کو منع کرنا چاہیے ، کیونکہ إن نوافل کو پندرہ شعبان کی رات کے خاص نوافل کہنا شریعت پہ افتراء و جھوٹ ہے ،

أور محدثین کرام نے بھی یہی فرمایا۔

أیسے نوافل میں درج ذیل موضوع و من گھڑت أحادیث مروی ہیں:

حدیث جعفر بن محمد جس میں دس نوافل کا ذکر ہے بأور أسکا خاص طریقہ ، حدیث أبی ہریرہ رضی اللہ عنہ جس میں بارہ نوافل أور أنکا خاص طریقہ مروی ہے ،

حدیث مولا علی رضی اللہ عنہ جس میں چودہ رکعت پڑھنے کے بعد خاص وظیفہ کرنے کا طریقہ مروی ہے وغیرہ إنکے سب أحادیث کے متعلق محدثین نے فرمایا:

یہ موضوع و من گھڑت ہیں .

( الآلی المصنوعہ فی معرفۃ الأحادیث الموضوعۃ للسیوطی ، جلد: 2 ، ص: 48 )

إمام عراقی فرماتے ہیں:

پندرہ شعبان کی رات میں جو نماز کا ذکر ہے وہ حدیث باطل ہے

( المغنی عن حمل الأسفار للعراقی ، الباب السابع ، حدیث نمبر 1 ، جلد: 1 ، ص : 240 )

علامہ عبد الحی لکھنوی کا إن أحادیث کے بارے میں بہت خوبصورت و علمی کلام ہے .

( الآثار المرفوعۃ فی الأخبار الموضوعۃ للکھنوی ، ص : 81 کا مطالعہ فرمائیں )

أور إسی طرح پندرہ شعبان کی رات کو کھانا إس لیے بنانا کہ یہ إس رات کا خاص کھانا بنانا مشروع ہے یہ بدعت ضلالت ہے أیسے لوگوں کو اللہ کے حضور توبہ کرنی چاہیے جو من گھڑت أحادیث سے بدعات کو پھیلا رہے ہیں جیسے کہ إمام عینی نے ابن دحیہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا یہ مجوسی جب إسلام لائے تو أنہوں نے أیسی بدعات کا آغاز کیا.

( عمدۃ القاری للعینی ، باب صوم شعبان ، جلد: 11 ، ص : 83 )

لہذا پندرہ شعبان کی رات کے نام سے کوئی خاص نوافل پھر أنکا خاص طریقہ أور خاص قسم کے وظائف ثابت نہیں ہیں بلکہ من گھڑت و موضوع ہیں جس سے ہم سب کو توبہ کرنی چاہیے ، أور پفلٹ تقسیم کرنے والوں کو أپنی آخرت کی فکر کرتے ہوئے أئندہ خاص قسم کے نوافل کے نام سے أنکو تقسیم کرنا چھوڑ دیں.

چھٹا سؤال:

کیا خاص قسم کے نوافل نہ سمجھ کر بلکہ إس رات برکت کی وجہ سے نفلی عبادات کرنا بھی بدعت ہوگی؟

جواب:

نفلی عبادات کرتے ہوئے أگر یہ نيت ہو کہ إس رات کی برکت کی وجہ سے کررہا ہوں نہ کہ إس رات نفلی عبادات مشروع ہونے کی وجہ سے تو کوئی حرج نہیں ، شب بیداری جائز ہے جیسے کہ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے فرمایا :

ومن هذا الباب ليلة النصف من شعبان ، فقد روى في فضلها من الأحاديث المرفوعة والآثار ما يقتضي أنها ليلة مفضلة ،

وأن من السلف كان يخصها بالصلاة فيها .

( اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم لابن تيمية ، فصل في الأعياد الزمانية المبتدعة ، جلد: 2 ، ص: 137 )

ترجمہ:

إسی باب میں نصف ( پندرہ) شعبان کی رات بھی ہے ، تحقیق کہ أسکی فضیلت میں مرفوع أحادیث و آثار مروی ہیں جو إس رات کی فضیلت پہ دلالت کرتے ہیں ، أور بے شک سلف ( صالح) میں سے بعض إس رات کو نوافل کے ساتھ خاص کرتے إس ( میں نوافل پڑھتے).

پھر علامہ ابن تیمیہ سلف کے دو فریق کی رائے بیان کرتے ہیں جسکا خلاصہ ہے:

بعض سلف نے إس رات کی فضیلت سے إنکار کیا ہے لیکن سلف میں سے کثیر نے أور ہمارے أصحاب ( حنابلہ) نے إس رات کی فضیلت کا إقرار کیا ہے.

( اقتضاء الصراط المستقیم ، جلد: 2 ، ص : 137 )

لہذا إس رات برکت کی وجہ سے نفلی عبادات کرنا بغیر أن نوافل کو إس رات کے مشروع ہونے کے اعتبار سے تو کوئی حرج نہیں . جو إس رات کو عبادت کرنے کو بدعت کہتے ہیں وہ خود إیک بدعت پر مبنی قول کررہے ہیں کیونکہ سلف صالح إس رات کو عبادت کرتے آئے ہیں جیسے علامہ ابن تیمیہ نے فرمایا ، أور سنن ترمذی کی حدیث عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے بھی إس رات عبادت کرنا منقول ہے جسکا بیان ہم پہلے کرچکے ہیں.

ساتواں سؤال:

کیا إس رات صلاۃ التسبیح پڑھنا جائز ہے؟ کیا وہ حدیث صحیح سے ثابت ہے؟ کیا صلات تسبیح کی جماعت کرواسکتے ہیں؟

جواب:

ہم ذکر کرچکے ہیں کہ صلاۃ التسبیح یہ نیت کرکے پڑھنا کہ یہ إس رات کی وجہ سے مشروع ہے تو جائز نہیں لیکن بابرکت رات سمجھ کر پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ،

أور صلات تسبیح کی أحادیث میں صحیح حسن ضعیف موضوع ہونے کے اعتبار سے محدثین میں اختلاف رہا ہے لہذا صلات تسبیح علی الأقل حسن حدیث سے ثابت ہے ،

أور إس رات کو پڑھنے میں کوئی حرج نہیں لیکن أیسی نماز کو فرضیت یا واجب کا درجہ نہیں دینا چاہیے کہ أگر کوئی نہ پڑھے تو أسکو ہم ملامت کریں۔

أگر ہم نہ پڑھنے والوں کو ملامت کریں گے تو یہ شریعت میں إضافہ ہوگا جوکہ جائز نہیں لہذا نوافل کو نفلی عبادات کے درجے میں ہی رکھنا چاہیے أور اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کی أمید .

إمام ترمذی نے سنن میں إس رات کی فضیلت میں حدیث حسن روایت کرنے کے بعد إس رات کی فضیلت میں أئمہ کے أقوال أور پھر حضرت عبد اللہ ابن مبارک سے پڑھنے کا طریقہ نقل کیا ہے.

( سنن الترمذی ، باب ماجاء فی صلاۃ التسبیح ، حدیث نمبر: 481 ،جلد : 1 ، ص : 606 )

صلاۃ تسبیح پہ مفصل و جمیل کلام کرنے کے بعد علامہ عبد الحی لکھنوی فرماتے ہیں:

فهذه العبارات الواقعة من أجله الثقات نادت على أن وضع حديث صلاة التسبيح قول باطل ومهمل لا يقتضيه العقل والنقل بل هو صحيح أو حسن محتج به ، والمحدثون كلهم ما عدا ابن الجوزي ونظرائه إنما اختلفوا في تصحيحه وتضعيفه، ولم يتفوه أحد بوضعه.

( الآثار المرفوعة في الأخبار الموضوعة للكهنوي ، صلاة التسبيح ، ص : 137 )

ترجمہ:

یہ مذکورہ عبارات ثقات کی وجہ سے پکار رہی ہیں کہ یہ کہنا کہ صلاۃ تسبیح والی حدیث موضوع ہے یہ قول باطل ہے أور بغیر دلیل کے ہے جس پہ نہ تو عقل أور نہ ہی نقل سے دلیل ہے بلکہ یہ صحیح یا حسن ہے جس سے حجت پکڑی جاتی ہے ، أور تمام محدثین سوائے ابن جوزی أور أنکی رائے پہ چلنے والے دیگر محدثین کے سب کا أس ( صلاۃ تسبیح والی حدیث) کو صحیح و ضعیف قرار دینے میں اختلاف رہا ہے، أور کسی نے بھی أسکو موضوع نہ کہا .

علامہ عبد الحی لکھنوی رحمہ اللہ بھی فرمارہے ہیں کہ صلاۃ تسبیح کی أحادیث میں صحیح و حسن و ضعیف کے اعتبار سے محدثین میں اختلاف رہا ہے لیکن کسی نے موضوع نہیں کہا سوائے چند إیک نے لہذا صلات تسبیح علی الأقل حسن حدیث سے ثابت ہے ، أور حسن حدیث عمل میں قابل اعتبار ہوتی ہے.

رہی بات جماعت کروانے کی تو نفل کی جماعت کروانا أحادیث صحیحہ سے ثابت ہے لہذا کبھی کبھار نوافل کی جماعت کروانے میں کوئی حرج نہیں ، إسی وجہ سے صلات تسبیح جماعت کے ساتھ پڑھنے میں حرج نہیں لیکن أفضل تنہا أور وہ بھی گھر میں پڑھنا کیونکہ فقہائے أحناف أور دیگر مذاہب إس رات مساجد میں اجتماعات کرنے کو مکروہ جانتے ہیں جسکا بیان مذہب فقہیہ کے مؤقف کے سؤال کے جواب میں آئے گا.

آٹھواں سؤال:

کیا إس رات قبرستان جانا حدیث صحیح سے ثابت ہے؟

جواب:

إس رات قبرستان جانا صحیح حدیث سے ثابت نہیں بلکہ ضعیف حدیث وارد ہے جو أما عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم خود پندرہ شعبان کی رات یعنی نصف شعبان کی رات بقیع قبرستان میں تشریف لے گے،

( سنن الترمذی ، باب ماجاء فی لیلۃ النصف من شعبان ، حدیث نمبر: 739 ، جلد: 2 ، ص : 108 )

لہذا قبرستان جانے کو أیسے معمول نہیں بنانا چاہیے کہ جیسے وہ صحیح یا حسن حدیث سے ثابت ہو ، أور نہ ہی أسکا اعتقاد خاص مشروعیت ہونا چاہیے بلکہ عموم حدیث کے تحت کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : قبروں کی زیارت کیا کرو اوکما قال إس نیت سے جانے میں کوئی حرج نہیں لیکن جب بدعت کا شبہہ ہو تو اجتناب کرنا چاہیے.

نواں سؤال:

کیا پندرہ شعبان کے دن روزہ رکھنا حدیث صحیح سے ثابت ہے؟

جواب:

تمام أمت کا إس بات پہ اتفاق ہے کہ پندرہ شعبان کا روزہ إس نیت سے رکھنا کہ یہ شعبان کے باقی أیام کی طرح ہے أور شعبان کے ماہ میں روزہ رکھنے کی فضیلت بھی ہے تو جائز ہے ،

أور إسی طرح إس نیت سے رکھنا کہ پندرہ شعبان کا دن أیام بیض ( حضور صلی الله علیہ وسلم چاند کی 13، 14، 15 کو روزہ رکھتے اسکو أیام بیض کہتے ہیں) کی نیت سے رکھنا بھی بالاتفاق جائز ہے،

لیکن پندرہ شعبان کا دن خاص أہمیت کا حامل ہے تو إس وجہ سے روزہ رکھنے میں علمائے کرام میں اختلاف ہے بعض علماء صحیح مسلم کی حدیث نمبر : 1161 میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہما یا کسی أور صحابی سے پوچھا:

کیا تم نے سرر شعبان کا روزہ رکھا ہے؟

تو انہوں نے عرض کی: نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب رمضان کے روزے مکمل ہوجائیں تو دو دن روزہ رکھو.

( صحیح مسلم ، باب صوم سرر شعبان)

إس حدیث میں جو لفظ” سرر” ہے أس میں اختلاف ہے ، جمہور نے کہا إس سے مراد شعبان کے آخری أیام ہیں ، أور بعض نے کہا: سرر کا معنی نصف شعبان ہے۔ لہذا جب سرر کا معنی نصف شعبان ہے تو إسی وجہ سے پندرہ شعبان کو خاص أہمیت کی وجہ سے روزہ رکھنا جائز ہے بعض کے نزدیک .

رہی بات حدیث مولا علی رضی اللہ عنہ جو سنن ابن ماجہ میں جسکا نمبر: 1388 کہ مولا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:

حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

جب نصف ( پندرہ) شعبان کی رات ہو تو أس رات کو قیام (لیل) کرو ، أور دن کو روزہ رکھو ………الخ

إس حدیث کی سند میں راوی ابن أبی سبرۃ ہیں جنکے بارے میں إمام احمد بن حنبل نے فرمایا: وہ حدیثیں گھڑا کرتا تھا .

( موسوعۃ أقوال الإمام احمد فی رجال الحدیث والعلل، ترجمہ نمبر: 3639 ، مصباح الزجاجہ للکنانی ، حدیث نمبر: 491 )

لہذا إس وجہ سے یہ حدیث موضوع ہوئی ،

أور بعض نے اسکو علی الأقل ضعیف جدا یعنی شدید الضعف سند والی حدیث کہا ہے لہذا قابل قبول نہیں جیسے علامہ ابن حجر العسقلانی نے حدیث ضعیف کی قبولیت کی شرائط کو أپنی أصول حدیث کی کتاب ” نزہۃ النظر شرح نخبۃ الفکر” میں فرمایا .

پندرہ شعبان کا روزہ رکھنا جائز ہے أور صحیح مسلم کی حدیث میں لفظ” سرر” کے مطابق بعض کی آراء پر یہ روزہ خاص أہمیت کا حامل ہے.

دسواں سؤال:

جب اللہ ہر رات آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے تو پھر پندرہ شعبان کی رات أور باقی رات میں کیا فرق ہے؟

جواب:

پہلا فرق تو یہ ہے کہ إس رات کا نام خصوصاً حضور صلی الله علیہ وسلم نے لیا لہذا إس اعتبار سے بھی یہ رات کافی أہمیت رکھتی ہے ، أور علامہ عراقی فرماتے ہیں جسکو إمام مناوی نے نقل فرمایا:

باقی راتوں میں اللہ رات کے نصف پہر میں یا آخر پہر میں آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے لیکن پندرہ شعبان کی رات غروب آفتاب کے وقت ہی سے آسمان دنیا پر أپنی شان کے لائق نزول فرماتا ہے إس وجہ سے پندرہ شعبان کی رات کی خاص أہمیت ہے.

( فیض القدیر للمناوی ، حدیث نمبر: 1942 ، جلد: 2 ، ص: 316 )

گیارہواں سؤال:

شب قدر بھی شب براءت ہے أور پندرہ شعبان بھی شب براءت ہے یہ کیسے ممکن ہے؟

جواب:

یہ ممکن إس لیے ہے کیونکہ اللہ کی مغفرت کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں إسی لیے وہ إرشاد فرماتا ہے:

” و رحمتي وسعت كل شيء ” الأعراف: 156

ترجمہ:

أور میری رحمت ہر چیز پہ وسیع ہے.

لہذا دو راتوں کا شب براءت ہوجانا أسکی رحمت کی وجہ سے ممکن ہے ،

أور بعض یہ کہتے ہیں کہ شب براءت دونوں ہیں لیکن شب قدر میں زیادہ لوگوں کی بخشش ہوتی ہے.

بارہواں سؤال:

پندرہ شعبان کی رات کے حوالے سے مذاہب أربعہ کا مؤقف کیا ہے؟

جواب:

مذاہب أربعہ ( حنفی و مالکی و شافعی و حنبلی) پندرہ شعبان کی رات کو شب بیداری کرنے پہ متفق ہیں کہ وہ جائز ہے أور أس میں برکت ہے لیکن مساجد میں اجتماع کرنے سے بعض منع فرماتے ہیں أور أسکو مکروہ قرار دیتے ہیں أور بعض بدعت.

مذہب حنفی:

علامہ شرنبلالی نے فرمایا:

ويكره الاجتماع على إحياء ليلة من هذه الليالي في المساجد .

( غنیۃ ذوی الأحکام للشرنبلالی ، باب تحیۃ المسجد ، جلد: 1، ص: 117 )

ترجمہ:

مساجد میں ان راتوں ( شعبان وغیرہ) کو شب بیداری کا اجتماع کرنا مکروہ ہے

مذہب مالکی:

علامہ حطاب الرعینی المالکی فرماتے ہیں:

لا يختلف المذهب في كراهة الجمع ليلة النصف من شعبان.

( مواہب الجلیل شرح مختصر الخلیل للحطاب الرعینی ، جلد: 2 ، ص : 74 )

ترجمہ:

نصف شعبان کی رات اجتماع کے مکروہ ہونے میں أہل مذہب کا اختلاف نہیں ہے.

مذہب شافعی:

إمام شافعی فرماتے ہیں:

إن راتوں میں یعنی جمعہ و عیدین و رجب کی پہلی أور پندرہ شعبان کی راتیں جو کچھ وارد ہوا ہے أنکو کرنا مستحب سمجھتا ہوں فرض نہیں.

( الأم للشافعی ، العبادۃ لیلۃ العیدین ، جلد: 1 ، ص: 264 )

مذہب حنبلی:

علامہ بہوتی حنبلی فرماتے ہیں:

لکن الاجتماع في المساجد لإحيائها بدعة.

( شرح منتھی الارادات للبھوتی ، فصل صلاۃ اللیل ، جلد: 1 ، ص : 251 )

لہذا إس رات مساجد میں اجتماع مذاہب أربعہ میں سے بعض کے ہاں مکروہ ہے ، أور بعض کے ہاں بدعت۔

عبد عاجز کے نزدیک بھی أفضل یہی ہے کہ مساجد میں اجتماع کیے بغیر شب بیداری کرے .

الحمد للہ بارہ سؤالات کے استفتاء پر مشتمل جوابات عبد عاجز نے إیک ہی رات میں اللہ کے فضل سے نماز فجر کے بعد مکمل کیے.

اللہ رب العزت اس کاوش کو قبول فرمائے.