أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَنۡ يَّرۡتَدَّ مِنۡكُمۡ عَنۡ دِيۡـنِهٖ فَسَوۡفَ يَاۡتِى اللّٰهُ بِقَوۡمٍ يُّحِبُّهُمۡ وَيُحِبُّوۡنَهٗۤ ۙ اَذِلَّةٍ عَلَى الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَعِزَّةٍ عَلَى الۡكٰفِرِيۡنَ يُجَاهِدُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَخَافُوۡنَ لَوۡمَةَ لَاۤئِمٍ‌ ؕ ذٰ لِكَ فَضۡلُ اللّٰهِ يُؤۡتِيۡهِ مَنۡ يَّشَآءُ‌ ؕ وَاللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِيۡمٌ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہوجائے گا ‘ تو عنقریب اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی ‘ وہ مومنوں پر نرم ہوں گے اور کافروں پر سخت ہوں گے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا بہت حلم والا ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! تم میں سے جو شخص اپنے دین سے مرتد ہوجائے گا ‘ تو عنقریب اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی ‘ وہ مومنوں پر نرم ہوں گے اور کافروں پر سخت ہوں گے، وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے وہ جس کو چاہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والا بہت حلم والا ہے۔ (المائدہ : ٥٤) 

عہد رسالت اور بعد کے مرتدین کا بیان : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا جو کافروں کے ساتھ دوستی رکھے گا ‘ اس کا ان ہی میں شمار ہوگا اور اس آیت میں صراحتا فرما دیا ‘ جو شخص دین اسلام سے مرتد ہوجائے گا ‘ اس سے اللہ کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں بھی کچھ لوگ مرتد ہوئے اور کچھ آپ کے بعد مرتد ہوئے۔ علامہ زمخشری نے ان کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔ 

علامہ جار اللہ محمود بن عمر زمخشری متوفی ٥٢٨ ھ لکھتے ہیں : 

مرتدین کے گیارہ فرقے تھے ‘ تین رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں تھے۔ 

ایک فرقہ بنو مدلج تھا ‘ ان کا رئیس ذوالحمار تھا اور یہی اسود عنسی تھا۔ یہ شخص کاہن تھا ‘ اس نے یمن میں نبوت کا دعوی کیا اور ان شہروں پر غلبہ پالیا ‘ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعض عاملوں کو نکال دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ بن جبل (رض) اور یمن کے سرداروں کے نام خط لکھا۔ اللہ تعالیٰ نے فیروز دیلمی کے ہاتھوں میں اس کو ہلاک کرا دیا ‘ انہوں نے اس کو قتل کردیا۔ جس رات وہ قتل ہوا ‘ اسی رات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے قتل کی خبر مسلمانوں کو دے دی تھی ‘ جس سے مسلمان خوش ہوئے ‘ پھر اس کے دوسرے روز رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) رفیق اعلی سے واصل ہوگئے ‘ اور وہاں سے اس کی خبر ربیع الاول کے آخر میں پہنچی تھی۔ 

دوسرا فرقہ بنوحنیفہ ہے۔ یہ مسیلمہ کی قوم تھی ‘ اس نے نبوت کا دعوی کیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف مکتوب لکھا ‘ ” از مسیلمہ رسول اللہ برائے محمد رسول اللہ ‘ بعد ازیں یہ کہنا ہے کہ یہ زمین آدھی آپ کی ہے اور آدھی میری ہے “۔ رسول اللہ نے اس کا جواب دیا ‘ از محمد رسول اللہ برائے مسیلمہ کذاب ‘ بعد ازیں یہ کہنا ہے کہ تمام زمین اللہ کی ملکیت ہے ‘ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے ‘ اس کا وارث بناتا ہے ‘ اور نیک انجام متقین کے لیے ہے “۔ حضرت ابوبکر (رض) نے مسلمانوں کے ساتھ اس سے جنگ کی اور یہ حضرت حمزہ (رض) کے قاتل حضرت وحشی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ حضرت وحشی کہتے تھے میں نے اپنی جاہلیت کے زمانہ میں سب سے نیک شخص کو قتل کیا اور اپنے اسلام کے زمانہ میں سب سے بدتر شخص کو قتل کیا۔ 

تیسرا فرقہ بنو اسد تھا ‘ یہ علیحہ بن خویلد کی قوم تھی ‘ اس شخص نے بھی نبوت کا دعوی کیا تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے جنگ کے لیے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا ‘ یہ شکست کھانے کے بعد شام بھاگ گیا ‘ پھر مسلمان ہوگیا اور اس نے نیک عمل کیے۔ حضرت ابوبکر (رض) کے عہد میں مرتدین کے سات فرقے تھے۔ 

(١) عینہ بن حصن کی قوم فزارہ۔ 

(٢) قرہ بن قشیری کی قوم غطفان۔ 

(٣) فجاء ۃ بن عہد یالیل کی قوم بنو سلیم۔ 

(٤) مالک بن نویرہ کی قوم بنویربوع۔ 

(٥) سجاح بنت المنذر۔ یہ وہ عورت تھی جس نے نبوت کا دعوی کیا اور مسیلمہ کذاب سے نکاح کیا اور اس کی قوم تمیم کے بعض لوگ۔ 

(٦) اشعث بن قیس کی قوم کندہ۔ 

(٧) حطیم بن زید کی قوم بنوبکربن وائل ‘ یہ بحرین میں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوبکر (رض) کے ہاتھوں ان ساتوں مرتد فرقوں کا مکمل استیصال کرا دیا۔ اور حضرت عمر (رض) کے عہد میں ایک شخص مرتد ہوا تھا ‘ یہ غسان کی قوم کا جبلہ بن ایہم تھا ‘ اس کو ایک تھپڑنے نصرانی بنادیا اور یہ اسلام سے مرتد ہو کو روم کے شہروں کی طرف نکل گیا ‘ جبلہ کی چادر پر ایک شخص کا پیر پڑگیا ‘ اس نے اس کے تھپڑ مارا ‘ اس شخص نے حضرت عمر (رض) سے شکایت کی ‘ حضرت عمر (رض) نے فرمایا اب یہ تمہارے تھپڑ مارے گا ‘ اس نے تھپڑ کے بدلہ میں دس ہزار درہم کی پیشکش کی ‘ مگر وہ شخص نہ مانا۔ جبلہ نے مہلت طلب کی اور روم جا کر مرتد ہوگیا۔ (الکشاف ‘ ج ١ ص ٦٤٦۔ ٦٤٤‘ مطبوعہ نشر البلاغہ ‘ ایران ‘ ١٤١٣ ھ) 

اللہ کی محبوب قوم کی مصداق میں متعدد اقوال : 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تو عنقریب اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی۔ (المائدہ : ٥٤) 

اس آیت کے مصداق کے متعلق کئی اقوال ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس آیت کے مصداق حضرت ابوبکر اور ان کے اصحاب ہیں : 

امام ابوجعفر محمد بن جریر طبری متوفی ٣١٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد اہل مدینہ اہل مکہ اور اہل بحرین کے سوا عام عرب اسلام سے مرتد ہوگئے۔ انہوں نے کہا ہم نماز پڑھیں گے اور زکوۃ نہیں دیں گے۔ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا خدا کی قسم جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے فرض کیا ہے۔ ‘ اگر اس میں سے یہ ایک رسی بھی نہ دیں تو میں ان سے جنگ کروں گا۔ پھر حضرت ابوبکر (رض) نے مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ ان سے قتال کیا ‘ حتی کہ انہوں نے زکوۃ دینے کا اقرار کرلیا۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٣٨٣۔ ٣٨٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

دوسرا قول یہ ہے کہ اس آیت کا مصداق حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کی جماعت ہے۔ 

عیاض اشعری بیان کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : وہ قوم یہ ہیں۔ (جامع البیان : جر ٦ ص ٣٨٣‘ المستدرک ‘ ج ٢‘ ص ٣١٣) 

تیسرا قول یہ ہے کہ اس آیت کا مصداق اہل یمن ہیں۔ 

محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ عمر بن عبدالعزیز نے ان کے پاس ایک پیغام بھیجا ‘ وہ ان دونوں مدینہ کے امیر تھے ‘ ان سے اس آیت کا مصداق دریافت کیا۔ انہوں نے کہا اس سے مراد اہل یمن ہیں۔ عمر بن عبدالعزیز نے کہا کاش ! میں اس قوم سے ہوتا۔ (جامع البیان : جز ٦‘ ص ٣٨٢‘ مطبوعہ بیروت) 

امام ابن جریر نے اس قول کو ترجیح دی ہے کہ اس سے مراد اہل یمن ہیں اور وہ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی قوم ہیں۔ کیونکہ اس کے متعلق نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حدیث موجود ہے۔ اور امام نے دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ اس سے مراد حضرت ابوبکر (رض) اور ان کے اصحاب ہیں۔ 

حضرت ابوبکر کی خلافت پر دلائل : 

روافض اور شیعہ یہ کہتے ہیں کہ جن لوگوں نے حضرت ابوبکر کی خلافت اور امامت کا اقرار کیا وہ سب کافر اور مرتد ہیں کیونکہ انہوں نے حضرت علی (علیہ السلام) کی امامت کی نص صریح کا انکار کیا۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر بالفرض یہ بات صحیح ہو تو لازم تھا کہ اللہ تعالیٰ اپنی ایک محبوب قوم کو لاتا جو ان سب سے جہاد کرتی اور ان کو حضرت علی کی امامت اور خلافت ماننے پر مجبور کردیتی ‘ جیسا کہ اس آیت کا تقاضا ہے اور جب ایسا نہیں ہوا تو معلوم ہوا کہ روافض اور شیعہ کا مزعوم فاسد ہے۔ 

ثانیا : ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابوبکر (رض) کے حق میں نازل ہوئی ہے ‘ کیونکہ یہ آیت ان کے ساتھ خاص ہے جنہوں نے مرتدین کے ساتھ جنگ کی اور یہ بات تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام میں مرتدین کے ساتھ سب سے پہلے حضرت ابوبکر نے جنگ کی اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس آیت کا مصداق قرار دینا صحیح نہیں ہے۔ 

اولا : اس لیے کہ آپ کے عہد میں مرتدین کے ساتھ جنگ کا واقعہ پیش نہیں آیا۔ 

ثانیا : اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا عنقریب اللہ ایسی قوم کو لے آئے گا اس سے معلوم ہوا کہ وہ قوم اس وقت موجود نہیں تھی۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ حضرت ابوبکر تو اس وقت موجود تھے تو پھر وہ بھی مراد نہیں ہونے چاہئیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) اس وقت موجود تھے ‘ لیکن بہ حیثیت سربراہ موجود نہیں تھے اور ان کی حیثیت اس وقت ایسی نہیں تھی کہ مسلمانوں کو کسی پر حملہ کرنے کا حکم دیتے ‘ اور اس آیت کے مصداق حضرت علی بھی نہیں ہوسکتے ‘ کیونکہ ان کو مرتدین کے ساتھ قتال کرنے کا اتفاق پیش نہیں آیا۔ اگر یہ کہا جائے کہ جس نے ان کی امامت کا انکار کیا ‘ وہ مرتد ہوگیا اور امامت کے منکرین کیخلاف انہیں نے جنگ کی ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مرتد کا معنی یہ ہے جو شریعت اسلامیہ سے مرتد ہوجائے اور اگر مرتد کا یہی معنی کیا جائے تو حضرت علی کی امامت سے مرتد ہو ؟ تو پھر خلفاء ثلاثہ اور ان کے ماننے والے تمام مسلمان مرتد تھے ‘ کیونکہ انہوں نے اس وقت میں حضرت علی کی امامت کو نہیں مانا تو چاہیے تھا کہ حضرت علی ان سے جنگ کرتے اور جب حضرت علی نے ان سے جنگ نہیں کی ‘ بلکہ اس کے برعکس ان کی بیعت کی اور ان سے تعاون کیا۔ اور اہل یمن بھی اس آیت کا مصداق نہیں ہوسکتے ‘ کیونکہ انہوں نے مرتدین کے ساتھ جنگ نہیں کی اور حدیث کا محمل یہ ہے کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی اس قوم میں سے ہیں کیونکہ حضرت ابوموسی اشعری (رض) بھی حضرت ابوبکر (رض) کے اصحاب میں سے ہیں ‘ اور اسی طرح دیگر اہل یمن بھی ‘ اور اس تقریر سے یہ واضح ہوگیا کہ یہ آیت حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ مختص ہے۔ 

اور اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت علی (رض) نے بھی مرتدین کے ساتھ جنگ کی تھی ‘ وہ بہت اعلی اور افضل تھی اور اسلام میں بہت دور رس نتائج کی حامل تھی ‘ کیونکہ حضرت ابوبکر (رض) کی جنگ اسلام کے لیے تھی اور حضرت علی (رض) کی جنگ اپنی خلافت کی بقا کے لیے تھی۔ کیونکہ یہ امر تواتر سے ثابت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اعراب مرتد ہوگئے ‘ تو نبوت کے مدعیوں اور زکوۃ کے منکروں کے خلاف حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے تلوار اٹھائی اور مرتدین کے ساتوں فرقوں کا مکمل استیصال کیا ‘ اور حضرت ابوبکر (رض) کی جدوجہد کے نتیجہ میں اسلام کو استقامت ملی ‘ اور شرق وغرب میں اسلام پھیلنے لگا اور تمام متمول دنیا کے حکمران مغلوب ہونے لگے ‘ اور اسلام کے علاوہ ادیان اور ملل کے چراغ بجھنے لگے اور آفتاب اسلام پوری آب و تاب سے جگمگانے لگا اور حضرت علی (رض) کی خلافت کے وقت تک اسلام پوری دنیا میں ایک غالب دین کی حیثیت سے متعارف ہوچکا تھا۔ اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت ابوبکر (رض) کی مرتدین کے ساتھ جو جنگیں ہوئیں وہ صرف اسلام کی نصرت اور اس کی نشرواشاعت کے لیے ہوئیں اس کے برعکس حضرت علی (رض) کی جو جنگیں ہوئیں ‘ ان کی خلافت کے منکرین کے ساتھ تھیں۔ اگر بقول شیعہ ان کو بالفرض مرتد مان بھی لیا جائے ‘ تب بھی حضرت ابوبکر (رض) کی جنگیں ان سے بہرحال افضل اور اعلی تھیں۔ 

اس آیت میں حضرت ابوبکر (رض) کی امامت پر یہ دلیل بھی ہے کہ مرتدین کے ساتھ جنگ کرنے والی قوم کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس سے اللہ محبت کرے گا اور وہ اللہ سے محبت کرے گی اس سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر (رض) اللہ کے محب اور اللہ کے محبوب ہیں اور جو اللہ کا محب اور محبوب ہو ‘ وہی خلافت کا زیادہ مستحق ہے۔ 

نیز اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی صفت یہ ذکر کی کہ وہ مومنوں پر نرم ہوں گے اور کافروں پر سخت ہوں گے اور پوری امت میں سب سے زیادہ مومنوں پر نرم اور کافروں پر سخت حضرت ابوبکر (رض) ہیں :

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری امت میں امت پر سب سے زیادہ رحم کرنے والے اور اللہ کا حکم نافذ کرنے میں سب سے زیادہ سخت ابوبکر ہیں الحدیث : یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨١٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٤٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٦‘ رقم الحدیث :‘ ٧١٣٨۔ ٧١٣٧‘ المستدرک ‘ ج ٣‘ ص ٤٢٤ ‘۔ یہ حدیث صحیحین کی شرط پر ہے اور امام ذہبی نے امام حاکم کی موفقت کی ہے۔ مسند الطیالسی ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٠٩٦‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٩٠٣‘ فضائل الصحابہ للنسائی ‘ رقم ١٨٢‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ٦‘ ص ٢١٠‘ حیلۃ الاولیاء ‘ ج ٣‘ ص ١٢٢) 

حضرت ابوبکر (رض) مومنوں پر بہت نرم تھے۔ نبوت کی ابتداء میں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مکہ میں تھے۔ اس وقت مسلمان بہت کمزور تھے ‘ اور حضرت ابوبکر (رض) مسلمانوں کی طرف سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا دفاع کرتے تھے۔ ہر وقت حضور کے پاس عمروبن العاص (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مشرکین سے سب سے سخت تکلیف جو پہنچی ‘ وہ یہ تھی کہ ایک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حطیم کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے ‘ اچانک عقبہ بن ابی معیط آیا اور اس نے اپنا کپڑا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گردن میں ڈالا اور آپ کو گلا بہت سختی سے گھونٹنا شروع کردیا۔ اس وقت حضرت ابوبکر (رض) آئے اور اس کو کندھے سے پکڑ کر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پرے دھکیلا اور کہا تم ایک شخص کو اس لیے قتل کر رہے ہو کہ اس نے کہا کہ میرا رب اللہ ہے۔ (غافر : ٢٨) (صحیح البخاری ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٣٨٥٦) اور مسلمانوں کے ساتھ رحمت کی واضح مثال یہ ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے سات ایسے غلاموں اور باندیوں کو خرید کر آزاد کیا جن کو اسلام لانے کی پاداش میں مکہ میں سخت عذاب دیا جاتا تھا۔ ان کے نام یہ ہیں : حضرت بلال ‘ حضرت عامر بن فیہرہ ‘ حضرت زنیرہ ‘ حضرت نہدیہ اور ان کی بیٹی ‘ بنو موہل کی باندی اور ام عبیس۔ (الاصابہ ‘ ج ٢‘ ص ٣٤٣) اور جب حضرت ابوبکر (رض) خلیفہ ہوئے تو انہوں نے بہت جرات اور دلیری کے ساتھ تمام مرتدین سے جنگ کی اور صحابہ کرام کے منع کرنے کے باوجود شام کی طرف لشکر روانہ کیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے اس قوم کی صفت میں فرمایا : وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ ہرچند کہ دوسرے خلفاء اور ائمہ نے بھی جہاد کیا ہے ‘ لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے وصال کے بعد جس نے سب سے پہلے جہاد کیا ‘ وہ حضرت ابوبکر (رض) تھے اور حضرت ابوبکر (رض) نے اس وقت جہاد کیا ‘ جب ملک کے اندر مانعین زکوۃ اور مرتدین کے فتنے کھڑے ہوچکے تھے ‘ اور اس وقت ملک سے باہر فوج بھیجنے کی سب سے مخالفت کی تھی ‘ لیکن حضرت ابوبکر (رض) نے کہا شام کے خلاف فوج کشی کا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تھا ‘ اور میں کسی حالت میں بھی اس حکم کو موخر نہیں کروں گا۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہے عطا فرماتا ہے (المائدہ : ٥٤) 

حضرت ابوبکر (رض) کے فضائل : 

یہ آیت بھی حضرت ابوبکر (رض) کے حال کے مناسب ہے ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سورة نور کی آیت میں بھی حضرت ابوبکر (رض) کو صاحب فضل فرمایا ہے۔ کیونکہ مسطح (رض) حضرت ابوبکر (رض) کے خالہ زاد بھائی تھے ‘ یہ نادار مہاجر تھے اور بدری صحابی تھے اور حضرت ابوبکر (رض) ان کی مالی امداد کیا کرتے تھے ‘ لیکن انہوں نے بھی حضرت ام المومنین عائشہ صدیقہ (رض) پر تمہت لگانے والوں کی موافقت کی ‘ جس سے حضرت ابوبکر (رض) کو بہت رنج ہوا۔ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ام المومنین کی برات بیان کردی ‘ تو حضرت ابوبکر (رض) نے قسم کھائی کہ وہ آئندہ مسطح کی مالی امداد نہیں کریں گے۔ اس موقع پر یہ ّآیت نازل ہوئی : 

(آیت) ” ولا یاتل اولوا الفضل منکم والسعۃ ان یؤتوا اولی القربی والمساکین والمھجرین فی سبیل اللہ ولیعفوا ولیصفحوا الا تحبون ان یغفر اللہ لکم واللہ غفوررحیم “۔ (النور : ٢٢) 

ترجمہ : اور تم میں سے صاحب وسعت یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتہ داروں ‘ مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہیں دیں گے اور انکو چاہیے کہ وہ معاف کردیں اور درگزر کریں۔ کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ بےحد رحم فرمانے والا ہے۔ 

جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی تو حضرت ابوبکرصدیق ‘ (رض) نے کہا بیشک میری آرزو ہے کہ اللہ مجھے بخش دے اور میں مسطح کے ساتھ جو حسن سلوک کرتا تھا ‘ اس کو کبھی موقوف نہیں کروں گا۔ 

حضرت بلال (رض) امیہ بن خلف کے غلام تھے ‘ وہ حضرت بلال کے اسلام قبول کرنے کی وجہ سے ان کو بہت ایذائیں پہنچاتا تھا ‘ ان کو گرم زمین پر ڈال کر ان کے اوپر بھاری پتھر رکھ دیتا تھا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے امیہ بن خلف کو اس ظلم وستم سے منع کیا ‘ اس نے کہا اگر تم کو اس کی تکلیف ناگوار لگتی ہے تو اس کو خرید لو۔ حضرت ابوبکر (رض) نے امیہ بن خلف سے ایک گراں قیمت پر حضرت بلال کو خریدا اور آزاد کردیا ‘ اتنی بڑی قیمت پر حضرت بلال کو خریدنے سے مشرکین کو حیرت ہوئی اور انہوں نے کہا ضرور بلال کا ابوبکر پر کوئی احسان ہوگا۔ اس کا بدلہ اتارنے کے لیے ابوبکر نے اتنی بھاری قیمت پر بلال کو خریدا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے اس طعن کے جواب میں حضرت ابوبکر (رض) کے حق میں یہ آیت نازل فرمائی : 

(آیت) ” وسیجنبھا الاتقی، الذی یؤتی مالہ یتزکی، وما لاحد عندہ من نعمۃ تجزی، الا ابتغآء وجہ ربہ الاعلی، ولسوف یرضی، (اللیل : ٢١۔ ١٧) 

ترجمہ : اور جو سب سے زیادہ متقی ہے وہ اس (آگ) سے دور رکھا جائے گا ‘ جو پاکیزہ ہونے کے لیے اپنا مال خرچ کرتا ہے اور اس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جائے۔ وہ صرف اپنے رب اعلی کی رضا جوئی کے لیے (مال خرچ کرتا ہے) اور وہ ضرور عنقریب راضی ہوگا۔ 

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ‘ کہ اے مشرکو ! بلال کے احسان کی بات کرتے ہو ‘ ابوبکر پر اس کائنات میں کسی کا کوئی دنیاوی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ دیا جائے ‘ اس نے صرف اپنے رب اعلی کو راضی کرنے کے لیے بلال کو خرید کر آزاد کیا ہے۔ اور اللہ عنقریب اس کو راضی کر دے گا۔ 

حضرت ابوبکر (رض) کو اللہ تعالیٰ نے یہ اعزاز واکرام اپنے فضل سے عطا کیا ہے ‘ اسی طرح نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی حضرت ابوبکر (رض) کو انعامات سے نوازا ہے۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو سعید خدری بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (رض) منبر پر تشریف فرما تھے۔ آپ نے فرمایا نے اپنے ایک بندہ کو دنیا کی تروتازگی میں جو وہ چاہے ‘ اسے دینے کا اور آخرت میں اس کے پاس جو اجر ہے ‘ اسے دینے کا اختیار دیا ‘ اس بندہ نے اللہ کے پاس جانے کو اختیار کرلیا۔ یہ سن کر حضرت ابوبکر (رض) رونے لگے اور کہنے لگے ‘ ہماری مائیں اور ہمارے باپ آپ پر فدا ہوجائیں۔ ہمیں ان پر تعجب ہوا اور لوگوں نے کہا اس بوڑھے کو دیکھو ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایسے بندہ کے متعلق خبر دے رہے ہیں جس کو اللہ نے اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا کی تروتازگی لے یا اللہ کے پاس آجائے اور یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ پر ہمارے باپ اور ہماری مائیں فدا ہوجائیں ‘ اور دراصل یہ اختیار رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیا گیا تھا ‘ اور اس بات کو ہم میں سے سب سے زیادہ جاننے والے حضرت ابوبکر (رض) تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اپنی رفاقت اور اپنے مال کے ذریعہ میرے ساتھ سب سے زیادہ حسن سلوک کرنے والے ابوبکر ہیں اور میں اپنی امت میں سے اگر کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا ‘ لیکن ان کے ساتھ اسلام کی خلت (دوستی) ہے ‘ مسجد (نبوی) میں ابوبکر کی کھڑکی کے سوا اور کوئی کھڑکی باقی نہ رکھی جائے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٠٤‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٨٢‘ سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٧٩‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨٦١) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس شخص نے بھی ہمارے ساتھ کوئی نیکی کی ہم نے اس کا بدلہ دے دیا ‘ ماسوا ابوبکر کے ‘ کیونکہ انہوں نے ہمارے ساتھ ایک ایسی نیکی کی ہے جس کا بدلہ انہیں اللہ قیامت کے دن دے گا اور کسی شخص کے مال نے مجھے ہرگز وہ نفع نہیں پہنچایا ‘ جو ابوبکر کے مال نے نفع پہنچایا اور اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا اور سنو ! تمہارے پیغمبر اللہ کے خلیل ہیں۔ اس سند کے ساتھ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٨١‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٩٤) 

(امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی المتوفی ٣٥٤ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو شخص ایک نوع کی دو چیزیں اللہ کی راہ میں خرچ کرے ‘ اس کو جنت میں بلایا جائے گا۔ اے اللہ کے بندے ! یہ خیر ہے سو جو نمازی ہوگا ‘ اس کو باب الصلوۃ سے بلایا جائے گا اور جو مجاہد ہوگا ‘ اس کو باب الجہاد سے بلایا جائے گا اور جو صدقہ دینے والا ہوگا ‘ اس کو باب الصدقہ سے بلایا جائے گا اور جو روزہ دار ہوگا ‘ اس کو باب الریان سے بلایا جائے گا۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا یارسول اللہ ! آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں ‘ کیا کوئی ایسا شخص ہوگا جس کو ان تمام دروازوں سے بلایا جائے گا ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں ‘ اور مجھے امید ہے کہ تم ان لوگوں میں سے ہو۔ (صحیح ابن حبان ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨٦٦‘ صحیح مسلم ‘ زکوۃ ٨٥‘ (١٠٢٧) سنن نسائی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢٢٣٧) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جنت میں ایک ایسا شخص داخل ہوگا جس کے متعلق جنت کے ہر گھر والے اور ہر بالاخانہ والے ‘ یہ کہیں گے : مرحبا ‘ مرحبا ‘ ہمارے پاس آئیں۔ حضرت ابوبکر (رض) نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس شخص کو اس دن کوئی نقصان نہیں ہوگا ! آپ نے فرمایا ہاں اے ابوبکر وہ شخص تم ہو گے۔ (صحیح ابن حبان ‘ ج ١٥‘ رقم الحدیث :‘ ٦٨٦٧‘ المعجم الکبیر ‘ ج ١١‘ رقم الحدیث :‘ ١١١٦٦‘ المعجم الاوسط ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٨٥‘ حافظ الہیثمی نے لکھا ہے اس حدیث کے راوی صحیح حدیث کے راوی ہیں ‘ سوا احمد بن احمد بن ابی بکر سالمی کے ‘ اور وہ بھی ثقہ ہیں۔ مجمع الزوائد ‘ ج ٩‘ ص ٤٦) 

حضرت ابوبکرصدیق (رض) کے فضائل کے متعلق ہم نے شرح مسلم ‘ جلد سادس (٦) میں بہت تفصیل سے دلائل بیان کیے ہیں ‘ اہل علم اور ارباب ذوق کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ 

حضرت ابوبکر (رض) کے فضائل میں موضوع احادیث : 

حضرت ابوبکرصدیق (رض) کے فضائل میں بعض علماء نے موضوع اور بےاصل احادیث کو بھی درج کردیا ہے۔ اسی قبیل سے امام رازی نے اس آیت کی تفسیر میں یہ احادیث ذکر کی ہیں۔ 

رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمام لوگوں کے لیے عام تجلی فرمائے گا اور ابوبکر کے لیے خاص تجلی فرمائے گا اور آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے جو کچھ میرے سینہ میں ڈالا ہے ‘ وہ سب میں نے ابوبکر کے سینہ میں ڈال دیا۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٣‘ ص ٤١٨‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ ١٣٩٨ ھ) 

ملاعلی بن سلطان محمد القاری المتوفی ١٠١٤ ھ لکھتے ہیں : 

جو جاہل خود کو سنت کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ انہوں نے حضرت ابوبکرصدیق (رض) کی فضیلت میں یہ حدیثیں وضع کرلی ہیں ‘ اللہ قیامت کے دن لوگوں کے لیے عام تجلی فرمائے گا اور ابوبکر کے لیے خاص تجلی فرمائے گا اور حدیث جو کچھ اللہ نے میرے سینہ میں ڈالا ہے ‘ وہ سب میں نے ابوبکر کے سینہ میں ڈال دیا اور حدیث ” رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب جنت کا شوق ہوتا تو وہ ابوبکر کے سفید بالوں کو بوسہ دیتے اور حدیث ” میں اور ابوبکر گھڑدوڑ کے دو گھوڑوں کی طرح ہیں “ (یہ ضرب المثل ہے ‘ اس کا معنی ہے دونوں مساوی ہیں) اور حدیث ” جب اللہ نے روحوں کو پسند کیا تو ابوبکر کی روح کو پسند کیا “ (موضوعات کبیر ‘ ص ١٠٦‘ مطبوعہ مطبع مجتبائی ‘ دہلی) 

شیخ عبدالحق محدث دہلوی متوفی ١٠٥٢ ھ ان احادیث کے متعلق لکھتے ہیں : 

یہ وہ احادیث ہیں جن کو محدثین نے موضوع قرار دیا ہے۔ اسی طرح شیخ مجد الدین شیرازی نے سفر السعادۃ میں ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ ان احادیث کا باطل ہونا بداہت عقل سے معلوم ہے۔ (شیخ عبدالحق فرماتے ہیں) غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ ان احادیث سے حضرت ابوبکر (رض) کی تمام مخلوق پر فضیلت لازم آتی ہے۔ جس میں انبیاء (علیہم السلام) بھی شامل ہیں اور حضرت ابوبکر (رض) کی سید المرسلین (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مساوات لازم آتی ہے۔ اگرچہ ان حدیثوں کی تاویل ممتنع نہیں ہے اور حدیث اللہ قیامت کے دن تمام لوگوں کے لیے عام تجلی فرمائے گا اور ابوبکر کے لیے خاص تجلی فرمائے گا اس کو ” تنزیہ الشریعہ “ میں حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے اور لکھا ہے کہ اس کو خطیب اور ابونعیم نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اس کا ضعفاء میں ذکر کیا ہے ‘ ذہبی نے اس کو موضوع کہا ہے اور بعض نے اس کو حسن کہا ہے ‘ حاکم نے اس کو مستدرک میں اور امام غزالی نے احیاء العلوم میں درج کیا ہے۔ (اشعۃ اللمعات ‘ ج ٤ ص ٦٣٤‘ مطبوعہ تیج کمار ‘ لکھنو)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 54