لڑکی کے پیشاب اور لڑکے کے پیشاب

الفصل الثانی

دوسری فصل

حدیث نمبر :472

روایت ہے حضرت لبابہ بنت حارث سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ حضرت حسین ابن علی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھے کہ آپ کے کپڑے پر پیشاب کردیا۲؎ میں نے عرض کیا کہ اور کپڑا پہن لیجئے اپنا تہبند مجھے دے دیجئے کہ دھوؤں فرمایا لڑکی کے پیشاب کو خوب دھویا جاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب سے پانی بہادیا جاتا ہے۳؎(احمد،ابوداؤد،ابن ماجہ)اور ابوداؤد اور نسائی کی روایت میں ابی سمح سے ہے فرماتے ہیں کہ لڑکی کے پیشاب سے دھویاجاتا ہے اور لڑکے کے پیشاب پر چھینٹا دیا جاتا ہے ۴؎

شرح

۱؎ آپ کی کنیت ام فضل ہے،قبیلہ بنی عامر سے ہیں،حضرت میمونہ کی ہمشیرہ اور سیدنا عباس کی زوجہ ہیں،حضرت عباس کی اکثر اولاد آپ سے ہی ہے،بی بی خدیجہ کے بعد سب سے پہلے عورتوں میں آپ اسلام لائیں،عبدا ﷲ بن عباس اور فضل ابن عباس جیسے اسلام کے شہزادوں کی ماں ہیں۔

۲؎ عشاق کہتے ہیں کہ نانا کی گود میں پیشاب کرنا سنت حسین ہے اور نواسے سے اپنے کپڑوں پر پیشاب کرانا سنت رسول اﷲہے۔سنا گیا ہے کہ حضرت مجددسرہندی رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ میرے بعد میرے ایک نواسہ(یعنی بیٹی کا لڑکا)ہوگا اس بچے سے میری قبر پر پیشاب کرادیا جائے پھر قبر دھو دی جائے کیونکہ ساری سنتوں پر میں نے عمل کیا،نواسے سے پیشاب کرالینے کی سنت ادا نہیں ہوسکی،یہ سنت میری قبر پر ادا کرائی جائے۔سبحان اﷲ!فتویٰ عشق کچھ اور ہی ہے۔

۳؎ کیونکہ شیر خوار بچی کا پیشاب بچے کے پیشاب سے زیادہ بدبودار ہوتا ہے،نیز کپڑے پر پھیلتا زیادہ ہے اس لئے معمولی پانی سے دھلتا نہیں،لڑکے کا پیشاب اس کے برعکس ہے۔یہ حدیث امام اعظم کی خلاف نہیں۔۴؎ یرش حضرت ابو سمح کا اپنا قول ہے نہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان،وہ اپنے خیال میں ینضح کے معنی کررہے ہیں۔ہم پہلے عرض کرچکے ہیں نضح کے معنی پانی بہانا ہے نہ کہ چھینٹا مارنا۔خیال رہے کہ ابو سمح کا نام ایاد ہے اور آپ حضور کے آزاد کردہ غلام و خادم ہیں،بعض علماء نے فرمایا کہ چھوٹے لڑکوں کو عمومًا والد اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور مجلس میں لے جاتے ہیں اس لئے ان کے پیشاب دھونے میں آسانی کی گئی،لڑکیاں اکثر ماں کی گود ہی میں رہتی ہیں،اس لئے اس کی نرمی کی ضرورت نہ تھی۔و اﷲ تعالٰی اعلم بالصواب!

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.