أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اِذَا نَادَيۡتُمۡ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوۡهَا هُزُوًا وَّلَعِبًا‌ ؕ ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ قَوۡمٌ لَّا يَعۡقِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور جب تم نماز کے لیے ندا کرتے ہو وہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہ ہے کہ یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب تم نماز کے لیے ندا کرتے ہو وہ اس کو مذاق اور کھیل بنا لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے یہ ہے کہ یہ لوگ عقل سے کام نہیں لیتے۔ (المائدہ : ٥٨) 

مناسبت اور شان نزول : 

اس سے پہلے عمومی طور پر یہ بیان کیا گیا تھا کہ کفار دین اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں اور اس آیت میں دین اسلام کے ایک خاص شعار اذان کے متعلق ان کا استہزاء بیان فرمایا ہے۔ 

امام ابوالحسن علی بن احمد واحدی متوفی ٤٦٨ ھ لکھتے ہیں 

کفار نے جب اذان کو سنا تو انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور مسلمانوں سے حسد کیا ‘ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا کر کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے دین میں ایک نئی چیز نکالی ہے ‘ جس کا ذکر ہم نے اس سے پہلی امتوں میں نہیں سنا۔ اگر آپ نبوت کا دعوی کرتے ہیں تو آپ نے اس اذان کو ایجاد کر کے انبیاء سابقین کے طریقہ کی مخالفت کی ہے ‘ اور اگر اس دین میں کوئی خیر ہوتی تو آپ سے پہلے نبیوں اور رسولوں کا طریقہ ہی بہتر تھا ‘ جس طرح قافلے والے چلاتے ہیں آپ نے اس طرح چلانے کو اپنا شعار بنالیا ہے ‘ یہ کس قدر بری آواز ہے ‘ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور درج ذیل آیت نازل کی : 

(آیت) ” ومن احسن قولا ممن دعا الی اللہ وعمل صالحا وقال اننی من المسلمین “۔ (حم السجدہ : ٣٣) 

ترجمہ : اور اس سے اچھی بات اور کس کی ہوسکتی ہے جو اللہ کی طرف بلائے اور نیک کام کرے اور کہے کہ بیشک میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔ (اسباب نزول القرآن ‘ ص ٢٠٣‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت) 

ابتداء اذان کی کیفیت : 

اس آیت میں اذان کا ذکر فرمایا ہے ‘ اس لیے ہم اذان کی ابتداء ‘ اذان کے کلمات ‘ اذان اور اقامت کے کلمات اذان کا جواب اور اذان کے بعد دعا اور اذان کی فضیلت کے متعلق اختصار کے ساتھ بیان کریں گے۔ ” فنقول وباللہ التوفیق وبہ الاستعانۃ یلیق۔ 

مکہ میں اذان مشروع نہیں ہوئی تھی ‘ اس وقت نماز کے لیے یوں نداء کرتے تھے ” الصلوۃ جامعۃ “ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کی اور کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا ‘ تو آپ کو پانچ فرض نمازوں کے لیے اذان کا حکم دیا گیا ‘ اور نماز جنازہ ‘ نماز عید اور نماز کسوف وغیرہ کے لیے ” الصلوۃ جامعۃ “ سے ندا کا طریقہ برقرار رہا۔ حضرت عبداللہ بن زید اور حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے خواب میں فرشتے سے اذان کے کلمات سنے اور اس سے پہلے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شب معراج کے موقع پر فرشتے سے اذان کے کلمات سنے تھے۔ 

حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی متوفی ٨٥٢ ھ لکھتے ہیں 

امام طبرانی نے معجم اوسط میں روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے بھی اذان کا خواب دیکھا تھا ‘ اور امام غزالی نے وسیط میں لکھا ہے کہ دس سے زیادہ صحابہ نے اذان کا خواب دیکھا تھا اور علامہ جیلی نے شرح التنبیہ میں لکھا ہے کہ چودہ صحابہ نے اذان کا خواب دیکھا تھا ‘ لیکن حافظ ابن صلاح اور علامہ نووی نے اس کا انکار کیا ہے۔ ثابت صرف حضرت عبداللہ بن زید کے لیے ہے اور بعض روایات میں حضرت عمر (رض) کا بھی ذکر ہے۔ (فتح الباری ج ٢‘ ص ٧٨‘ مطبوعہ لاہور ‘ ١٤٠١ ھ)

امام سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رات میں آسمان کی طرف لے جایا گیا تو آپ کی طرف اذان کی وحی کی گئی اور جب آپ واپس آئے تو جبرائیل (علیہ السلام) نے آپ کو اذان کی تعلیم دی۔ (المعجم الاوسط ‘ ج ١٠‘ رقم الحدیث :‘ ٩٢٤٣‘ حافظ الہیثمی نے لکھا ہے کہ اسکی سند میں ایک روای طلحہ بن زید وضع کی طرف منسوب ہے) 

امام احمد بن عمرو بزار متوفی ٢٩٢ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب اللہ تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذان کی تعلیم دینے کا ارادہ کیا ‘ تو حضرت جبرائیل آپ کے پاس ایک جانور لے کر آئے جس کو براق کہتے تھے ‘ جب آپ اس پر سوار ہونے لگے تو وہ کچھ دشوار ہوا جبرائیل نے کہا پرسکون رہو ‘ بخدا (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے زیادہ معزز شخص کبھی تم پر سوار نہیں ہوا۔ آپ اس پر سوار ہوئے ‘ حتی کہ آپ رحمان تبارک وتعالیٰ کے حجاب تک پہنچے ‘ اسی دوران حجاب سے ایک فرشتہ نکلا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے جبرائیل ! یہ کون ہے ؟ جبرائیل نے کہا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے ‘ میں مخلوق میں سب سے مقرب ہوں ‘ لیکن میں جب سے پیدا ہوا ہوں ‘ میں نے اس فرشتے کو اس سے پہلے نہیں دیکھا، ” اللہ اکبر اللہ اکبر “ تو حجاب کی اوٹ سے آواز آئی میرے بندہ نے سچ کہا میں اکبر ہوں ‘ میں اکبر ہوں۔ پھر فرشتہ نے کہا لا الہ الا اللہ تو حجاب کی اوٹ سے آواز آئی ‘ میرے بندہ نے سچ کہا۔ میرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ (الحدیث)ـ(کشف الاستار عن زوائد البزار ‘ ج ١ ص ١٧٨‘ حافظ الہیثمی نے کہا اس کی سند میں ایک راوی زیاد بن المنذر ہے ‘ اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ ’ مجمع الزوائد ‘ ج ١ ص ٢٢٩) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

ابو عمیر بن انس اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ مشورہ کیا کہ نماز کے لیے لوگوں کو کس طرح جمع کیا جائے :؟ آپ سے کہا گیا کہ نماز کے وقت ایک جھنڈا گاڑ دیا جائے ‘ جب لوگ اس جھنڈے کو دیکھیں گے تو ایک دوسرے کو نماز کی اطلاع دیں گے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پسند نہیں آئی پھر آپ کو بگل ‘ نرسنگا) کا مشورہ دیا گیا۔ آپ نے اس کو پسند نہیں فرمایا اور کہا کہ یہ یہود کا طریقہ ہے۔ پھر آپ کو ناقوس (لوہے کا ٹکڑا جو لکڑی سے بجایا جاتا ہے ‘ گھڑیال) کا مشورہ دیا گیا۔ آپ نے اس کو بھی پسند نہیں کیا اور فرمایا : یہ عیسائیوں کا طریقہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن زید (رض) وہاں سے اٹھ کر گئے ‘ وہ اسی فکر میں تھے۔ پھر انہیں خواب میں اذان دکھائی گئی ‘ وہ صبح رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ کو اس خواب کی خبر دی۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نیند اور بیداری کی حالت میں تھا ‘ میرے پاس ایک آنے والا آیا اور اس نے مجھے اذان دکھائی۔ اس سے پہلے حضرت عمر بن الخطاب (رض) نے بھی اذان کا خواب دیکھا تھا ‘ لیکن انہوں نے بیس دن تک اس خواب کو مخفی رکھا ‘ پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر دی۔ آپ نے فرمایا تم کو مجھے خبر دینے سے کس چیز نے روکا تھا ؟ انہوں نے کہا عبداللہ بن زید مجھ پر سبقت لے گئے اور مجھے حیاء آئی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اے بلال ! تم کھڑے ہو اور عبداللہ بن زید تم کو جو کلمات بتائیں ‘ وہ پڑھو ‘ پھر حضرت بلال نے اذان دی ‘ ابو عمیر یہ کہتے تھے کہ اگر اس دن حضرت عبداللہ بن زید بیمار نہ ہوتے تو وہ اذان کہتے۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ١ رقم الحدیث : ٤٩٨‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٦ ھ) 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب مسلمان مدینہ میں آئے تو وہ نماز کے اوقات میں جمع ہوتے تھے اور ان کو ندا نہیں کی جاتی تھی۔ ایک دن انہوں نے اس سلسلہ میں مشورہ کیا ‘ بعض نے کہا نصاری کی طرح ناقوس بناؤ بعض نے کہا یہود کی بگل کی طرح بگل بناؤ۔ حضرت عمر (رض) نے کہا تم ایک آدمی کو کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کی ندا کرتے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” اے بلال ! تم کھڑے ہو کر نماز کی ندا کرو۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦٠٤‘ صحیح مسلم ‘ اذان ١ (٣٧٧) ٨١٤‘ سنن ترمذی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٠‘ سنن نسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٢٥‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٦٥‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت) 

کلمات اذان میں مذاہب ائمہ : 

امام ابوحنیفہ اور امام احمد رحمہما اللہ کے نزدیک اذان میں پندرہ کلمات ہیں اور ان میں ترجیع نہیں ہے۔ اور امام مالک اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک اذان میں ترجیع ہے ‘ یعنی دو مرتبہ شہادتین کو پست آواز سے کہا جائے اور دو مرتبہ شہادتین کو بلند آواز سے کہا جائے۔ جیسا کہ حضرت ابو محذورہ (رض) کی روایت میں ہے۔ (المغنی ‘ ج ١ ص ٢٤٣‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ مدایۃ المجتہد ‘ ج ١ ص ٧٦‘ مطبوعہ دارالفکر) 

امام ابوحنیفہ اور امام احمد رحمہما اللہ کا استدلال اس سے ہے کہ حضرت عبداللہ بن زید (رض) نے خواب میں فرشتے سے اذان کے جو کلمات سنے تھے ‘ ان میں ترجیع نہیں تھی۔ انہوں نے یہی کلمات حضرت بلال (رض) کو بتائے اور انہوں نے ان ہی کلمات کے ساتھ اذان دی۔ 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ناقوس بجانے کا حکم دیا ‘ تاکہ لوگوں کو نماز کے لیے جمع کیا جائے ‘ میں اسی سوچ بچار میں سو گیا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک آدمی ناقوس اٹھائے ہوئے جارہا تھا۔ میں نے کہا اے اللہ کے بندے ! کیا تم ناقوس فروخت کرو گے ؟ اس نے پوچھا تم اس کا کیا کرو گے ؟ میں نے کہا ہم لوگوں کو نماز کے لیے جمع کریں گے۔ اس نے کہا کیا میں تم کو اس سے اچھی چیز نہ بتاؤں ؟ میں نے کہا کیوں نہیں ؟ 

اس نے کہا تم کہا کرو “۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘ اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘ حی علی الصلوۃ ‘ حی علی الصلوۃ ‘ حی علی الفلاح ‘ حی علی الفلاح ‘ اللہ اکبر اللہ اکبر ‘ لا الہ الا اللہ ‘۔ اس کے بعد فرشتے نے اقامت کے کلمات بتلائے۔ جب صبح ہوئی تو میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے اپنا خواب بیان کیا۔ آپ نے فرمایا انشاء اللہ برحق خواب ہے ‘ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو اور خواب میں جو کلمات سنے ہیں ‘ وہ ان کو بتاؤ تاکہ وہ اذان دیں ‘ کیونکہ ان کی آواز تم سے بلند ہے پس میں حضرت بلال (رض) کے ساتھ کھڑا ہوا۔ میں ان کو بتاؤ‘ تاکہ وہ اذان دیں ‘ کیونکہ انکی آواز تم سے بلند ہے۔ پس میں حضرت بلال (رض) کے ساتھ کھڑا ہوا۔ میں ان کو اذان کے کلمات بتاتا گیا اور وہ اذان دیتے گئے۔ حضرت عمر (رض) نے اپنے گھر میں ذان سنی تو وہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے آئے اور کہا اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ میں نے بھی اسی طرح خواب دیکھا تھا ‘ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” فللہ الحمد۔ (سنن ابوداؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٩٩‘ سنن دارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١١٨٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٠٦‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٧٤‘ مصنف ابن ابی شیبہ ‘ ج ١‘ ص ٢٣١‘ مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ج ١٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٤٢٩‘ طبع ‘ الحدیث قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ٤٣‘ طبع قدیم ‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧١‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٣٩١۔ ٣٩٠‘ السیرۃ النبویہ لابن ہشام ‘ ج ٢ ص ١٢٣‘ ١٢٢‘ طبع داراحیاء التراث العربی ‘ سنن دارقطنی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٩٢٤‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٧٩‘ مطبوعہ موستہ الرسالہ ‘ بیروت ‘ ١٤١٤ ھ) 

حضرت ابو محذورہ کی روایت کا محمل : 

حضرت ابومحذورہ کی روایت میں جو ترجیع کا ذکر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابو محذورہ اسلام لانے سے پہلے اپنے لڑکپن میں لڑکوں کے ساتھ مسلمانوں کی اذان کی نقل اتار رہے تھے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حنین سے واپسی پر انہیں دیکھ لیا۔ آپ نے ان کو بلایا اور ان سے فرمایا اذان پڑھو۔ انہوں نے اذان پڑھی۔ اور اشھد ان لا الہ الا اللہ اور اشھد ان محمدا رسول اللہ کو آہستہ آہستہ پڑھا۔ آپ نے ان شہادتین کو دوبارہ زور سے پڑھنے کا حکم دیا ‘ تو انہوں نے دوبارہ زور سے پڑھا اور آپ کے اذان دلوانے کی برکت سے یہ مسلمان ہوگئے تو شہادتین کو دوبارہ زور سے پڑھنے کا حکم دیا ‘ تو انہوں نے دوبارہ زور سے پڑھا اور آپ کے اذان دلوانے کی برکت سے یہ مسلمان ہوگئے تو شہادتین کو پہلے دو بار آہستہ اور پھر دو بار زور سے پڑھنے کا یہ خاص واقعہ ہے ‘ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس طرح اذان دینے کی عام ہدایت نہیں دی۔ اس کا بیان اس حدیث میں ہے : 

امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی المتوفی ٣٥٤ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابو محذورہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم بعض ساتھیوں کے ساتھ حنین کے راستہ میں تھے ‘ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حنین سے واپس آرہے تھے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے موذن نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے نماز کے لیے اذان دی ‘ ہم نے اذان کی اواز سنی ‘ ہم راستہ سے ایک طرف ہٹ گئے اور ہم نے اذان کا مذاق اڑانے کے لیے بلند آواز سے اذان کی نقل اتارنی شروع کردی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کی آواز میں سن رہا ہوں ‘ تم میں سے کوئی شخص اس کو پہچانتا ہے ؟ پھر ہم کو بلایا گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پیش کردیا گیا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ آواز تم میں سے کس کی تھی ؟ سب نے میری طرف اشارہ کیا۔ آپ نے باقی لڑکوں کو بھیج دیا اور مجھے روک لیا۔ اس وقت مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم دینے سے زیادہ کوئی چیز ناپسند نہیں تھی۔ آپ نے مجھے اذان دینے کا حکم دیا اور خود مجھے اذان کے کلمات بتائے۔ اور فرمایا کہو اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘ اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘۔ آپ نے فرمایا دوبارہ پڑھو اور اپنی آواز بلند کرو۔ آپ نے فرمایا۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘ اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘ حی علی الصلوۃ ‘ حی علی الصلوۃ ‘ حی علی الفلاح ‘ حی علی الفلاح ‘ اللہ اکبر اللہ اکبر ‘ لا الہ الا اللہ ‘۔ جب آپ مجھ سے اذان پڑھوانے سے فارغ ہوگئے تو آپ نے مجھے بلایا اور مجھے ایک تھیلی دی جس میں چاندی تھی ‘ اور آپ نے دعا کی ‘ اے اللہ ! اس میں برکت دے اور اس پر برکت دے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے اذان دینے کا حکم دیجئے۔ آپ نے فرمایا میں نے تمہیں حکم دیدیا۔ میرے دل میں جتنی آپکی ناپسندیدگی تھی ‘ وہ سب آپ کی محبت سے بدل گئی۔ پھر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عامل عتاب بن اسید کے پاس گیا۔ اور میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے مکہ میں اذان دینے لگا۔ (صحیح ابن حبان ‘ ج ‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨٠‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٣‘ سنن نسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث : ٦٣٠‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٠٨‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٧٧٩‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٤٠٩‘ طبع قدیم ‘ سنن کبری ‘ للبیہقی ‘ ج ١ ص ٤٩٣‘ سنن دارقطنی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٨٩٠‘ مسند الشافعی ‘ ص ٣٠٣١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ ‘ بیروت ‘ ١٤٠٠ ھ) 

کلمات اقامت میں مذاہب ائمہ : 

امام مالک اور امام شافعی کے نزدیک اقامت میں اللہ اکبر اللہ اکبردو دفعہ اور باقی کلمات ایک ایک مرتبہ پڑھے جاتے ہیں اور امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے نزدیک اللہ اکبر ‘ اللہ اکبر ‘ چار چار دفعہ اور باقی کلمات دو دو مرتبہ اور آخر میں لا الہ الا اللہ ایک مرتبہ پڑھا جاتا ہے۔ (المغنی ‘ ج ١ ص ‘ ٢٤٩‘ بدایۃ المجتہد ‘ ج ١‘ ص ٨٠) 

امام مالک اور امام شافعی کی دلیل یہ حدیث ہے : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت بلال (رض) کو حکم دیا گیا کہ اذان کے کلمات دو دو مرتبہ پڑھیں اور اقامت کے کلمات ایک ایک مرتبہ پڑھیں۔ (سنن ترمذی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٣‘ صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦٠٣‘ صحیح مسلم ‘ رقم الحدیث :‘ (٣٧٨) ٨١٥‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٨‘ سنن نسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٢٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٩) 

امام ابوحنیفہ اور امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ کی دلیل یہ حدیث ہے : 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبداللہ بن زید (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اذان اور اقامت میں دو دو کلمے تھے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٤‘ سنن دارقطنی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٩٢٥‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٤٢٠۔ اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں) 

نیز ! حضرت ابو محذورہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو اذان کے انیس کلمات اور اقامت کے سترہ کلمات کی تعلیم دی ‘ انہوں نے اقامت کے کلمات اس طرح بیان کیے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان لا الہ الا اللہ اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘ اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘ حی علی الصلوۃ ‘ حی علی الصلوۃ ‘ حی علی الفلاح ‘ حی علی الفلاح ‘ اللہ اکبر اللہ اکبر ‘ لا الہ الا اللہ ‘۔ (صحیح ابن حبان ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨١‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٢‘ سنن ترمذی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٢‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٤٠٩‘ ج ٦‘ ص ٤٠١‘ طبع قدیم ‘ سنن نسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٢٩‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧٧‘ سنن دارمی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١١٩٧۔ ١١٩٦‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٣٩٤) 

اس حدیث میں امام ابوحنیفہ اور امام احمد کے موقف کی واضح دلیل ہے۔ 

اذان کا جواب : 

امام ابو حاتم محمد بن حبان البستی المتوفی ٣٥٤ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عمر (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب موذن کہے ‘ اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ “ اور تم میں سے کوئی ” اللہ اکبر “ پھر وہ کہے ” اشھد ان لا الہ الا اللہ “ تو یہ کہے ” اشھد ان لا الہ الا اللہ “ پھر وہ کہے ” اشھد ان محمدا رسول اللہ ‘ تو یہ کہے ” اشھد ان محمدا رسول اللہ “ پھر وہ کہے ‘” حی علی الصلوۃ “ پھر وہ کہے ’ لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ پھر وہ کہے ” حی علی الفلاح ‘ تو یہ کہے ” لا حول ولا قوۃ الا باللہ “ پھر وہ کہے ” اللہ اکبر اللہ اکبر تو یہ کہے ” اللہ اکبر ‘ اللہ اکبر “ پھر وہ کہے ” لا الہ الا اللہ “ تو یہ کہے ” لا الہ الا اللہ ‘ ‘۔ تو یہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ (صحیح ابن حبان ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨٥‘ صحیح مسلم ‘ اذان ‘ ١٢ ‘(٣٨٥) ٨٢٧‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٧‘ سنن نسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٣‘ عمل الیوم واللیلہ للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٨‘ سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٦٣٤‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٤٠٩۔ ٤٠٨) 

دعا بعد الاذان : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اذان سننے کے بعد یہ دعا کی : 

اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ والصلاۃ القائمۃ آت محمدن الوسیلۃ والفضیلۃ وابعثہ مقاما محمودالذی وعدتہ۔ 

ترجمہ : اللہ ! اس کامل نداء اور اس کے بعدکھڑی ہونے والی نماز کے رب ! سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت میں بلند مقام اور فضیلت عطا فرما اور آپ کو اس مقام محمود پر فائز فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے۔ 

تو اس شخص پر میری شفاعت واجب ہوجائے گی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦١٤‘ صحیح مسلم ‘ اذان ‘ ١١ (٣٨٤) ٨٢٦‘ سنن ترمذی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢١١‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٩‘ سنن نسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٧٧‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٢‘ مسند احمد ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ١٤٨٢٣‘ طبع دارالفکر ‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٣٥٤‘ طبع قدیم ‘ عمل الیوم واللیہ للنسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦‘ عمل الیوم واللیۃ لابن السنی ‘ رقم الحدیث :‘ ٩٢‘ طبع کراچی ‘ المعجم الصغیر للطبرانی ‘ ج ١ ص ٢٤٠‘ طبع المدینہ المنورہ ‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٩١١‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٤١٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٨٩‘ شرح السنہ للبغوی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢١‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٤٢٠) 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابودرداء (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب اذان سنتے تو دعا کرتے اے اللہ ! اس کامل نداء اور اس کے بعدکھڑی ہونے والی نماز کے رب ! اپنے بندہ اور اپنے رسول سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جنت میں نازل فرما اور قیامت کے دن ہمیں آپ کی شفاعت میں (داخل) کر دے۔ (رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ دعا فرمانا ہماری تعلیم کے لیے ہے۔ سعیدی غفرلہ) (المعجم الاوسط ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٣٦٧٥‘ مجمع الزوائد ‘ ج ١ ص ٣٣٣) 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے اذان سن کر یہ دعا کی ” اشھد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ واشھد ان محمدا عبدہ ورسولہ “ اور قیامت کے دن ہم کو آپ کی شفاعت میں (داخل) کردے سو جو شخص یہ دعا کرے گا ‘ اس کے لیے شفاعت واجب ہوجائے گی (المعجم الکبیر ج ١٢‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٥٥٤‘ مجمع الزوائد ج ١‘ ص ٣٣٣‘ الجامع الکبیر ج ٧‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣١١٨‘ عمدۃ القاری ج ٥‘ ص ١٢٤) 

اذان کی فضیلت میں احادیث : 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عبدالرحمن بن ابی صعصعہ بیان کرتے ہیں کہ ان سے حضرت ابو سعید خدری (رض) نے فرمایا میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم بکریوں اور جنگل سے محبت کرتے ہو ‘ پس جب تم اپنی بکریوں یا جنگل میں ہو تو نماز کے لیے اذان دیا کرو ‘ اور بہ آواز بلند اذان کہنا ‘ کیونکہ موذن کی آواز کو جو بھی جن یا انسان سنتا ہے ‘ اور جو چیز بھی سنتی ہے ‘ وہ قیامت کے دن اس کے حق میں گواہی دے گی۔ حضرت ابو سعید نے کہا میں نے یہ حدیث رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٦٠٩‘ سنن نسائی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٦٤٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٣‘ موطا امام مالک ‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٣‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٤٣۔ ٣٥‘ مسند حمیدی ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٧٣‘ مصنف عبدالرزاق ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٦٥‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٩‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١ ص ٣٩٧۔ ٤٢٧) 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ شیطان جب اذان کی آواز سنتا ہے روحاء (ایک مقام) پر بھاگ جاتا ہے۔ روای نے پوچھا کہ روحاء کتنی دور ہے ؟ تو حضرت جابر نے کہا وہ مدینہ سے چھتیس میل ہے۔ (صحیح مسلم ‘ صلاۃ ١٥‘ (٣٨٨) ٨٣١‘ صحیح ابن خزیمہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٣‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٣١٦‘ شرح السنہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٥‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٦٤‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٤٣٢) 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شیطان جب نماز کی نداء سنتا ہے تو زور سے یاد لگاتا ہے ‘ تاکہ اذان کی آواز نہ سن سکے اور جب موذن خاموش ہوجاتا ہے تو پھر واپس آکر وسوسہ ڈالتا ہے۔ (صحیح مسلم ‘ صلوۃ ١٦‘ (٣٨٩) ٨٣٢‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ١٦٦٣‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٣١٣‘ طبع قدیم ‘ صحیح ابن خزیمہ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٩٢‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١‘ ص ٤٣٢‘ شرح السنہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤١٤)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 58