أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

يٰۤـاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَـتَّخِذُوا الَّذِيۡنَ اتَّخَذُوۡا دِيۡنَكُمۡ هُزُوًا وَّلَعِبًا مِّنَ الَّذِيۡنَ اُوۡتُوا الۡكِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ وَالۡـكُفَّارَ اَوۡلِيَآءَ‌ ۚ وَاتَّقُوا اللّٰهَ اِنۡ كُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے ‘ دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اگر تم مومن ہو۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! جن لوگوں کو تم سے پہلے کتابیں دی گئی تھیں ان کو اور کافروں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے ‘ دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ اگر تم مومن ہو۔ (المائدہ : ٥٧) 

مناسبت اور شان نزول : 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود اور نصاری کو دوست بنانے سے منع فرمایا تھا۔ اسی سیاق میں یہ آیت نازل فرمائی ہے ‘ اور اس میں مزید یہ فرمایا ہے کہ کافروں کو بھی دوست نہ بناؤ۔ 

امام ابو محمد عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ لکھتے ہیں : 

رفاعہ بن زید بن التابوت اور سوید بن الحارث دونوں نے اسلام ظاہر کیا اور دراصل یہ دونوں منافق تھے ‘ اور بہت سے مسلمان ان سے محبت رکھتے تھے ‘ تو اللہ نے ان دونوں کے متعلق یہ آیت نازل فرمائی اے ایمان والو ! ان لوگوں کو دوست نہ بناؤ جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی اور کھیل بنا رکھا ہے۔ الایہ۔ (السیرۃ النبویہ ‘ ج ٢ ص ١٨١ جامع البیان ‘ جز ٦‘ ص ٣٩١‘ اسباب نزول القرآن ‘ ص ٢٠٢) 

یہود و نصاری اور بت پرستوں سے متعلق قرآن مجید کی اصطلاح : 

اس آیت میں کفار سے مراد مشرکین ہیں ‘ ہرچند کہ یہود و نصاری اور بت پرست سب کافر ہیں لیکن قرآن مجید کی اصطلاح ہے کہ وہ یہود و نصاری پر اہل کتاب کا اطلاق کرتا ہے اور بت پرستوں پر کفار اور مشرکین کا اطلاق کرتا ہے۔ حضرت ابن عباس (رض) سے مروی ہے کہ جب مسلمان سجدہ کرتے تو یہود اور مشرکین ان کا مذاق اڑاتے تھے اور جب مسلمان اذان دیتے تو وہ کہتے ‘ یہ اس طرح چلا رہے ہیں جیسے قافلے والے چلاتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کو دوست بنانے سے مسلمانوں کو منع فرما دیا۔ 

ملکی اور جنگی معاملات میں کفار سے خدمت لینے میں مذاہب : 

امام مسلم بن حجاج قشیری ٢٦١ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت عائشہ صدیقہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدر کی طرف گئے ‘ جب آپ حرۃ الوبرہ (مدینہ سے چار میل ایک جگہ) پہنچے تو آپ کو ایک شخص ملا ‘ جس کی جرات اور بہادری کا بہت چرچا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے ‘ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا میں اس لیے آیا ہوں کہ آپ کی اتباع کروں اور مال غنیمت حاصل کروں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : اللہ اور اس رسول پر ایمان لاتے ہو ؟ اس نے کہا نہیں۔ آپ نے فرمایا واپس جاؤ میں کسی مشرک سے مدد نہیں لوں گا ‘ وہ چلا گیا ‘ حتی کہ جب ہم ایک درخت کے پاس پہنچے تو اس نے پھر اپنی پیشکش کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر یہی جواب دیا کہ میں مشرک سے ہرگز مدد نہیں لوں گا وہ چلا گیا ‘ پھر مقام بیداء پر ملا ‘ اور اس نے پھر پیشکش کی۔ آپ نے فرمایا تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو۔ اس نے ہاں تب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا چلو۔ (صحیح مسلم ‘ الجہاد ‘ ١٥٠‘ (١٨١٧) ٤٦١٩‘ سنن ترمذی ‘ ج ‘ ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٥٦٤‘ سنن ابو داؤد ‘ رقم الحدیث :‘ ٢٧٣٢‘ سنن ابن ماجہ ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٨٣٢‘ سنن دارمی ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٩٦‘ مسند احمد ‘ ج ٩‘ رقم الحدیث :‘ ٢٥٢١٢‘ طبع دارالفکر ‘ مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ١٧‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٢٦٧‘ طبع دارالحدیث ‘ قاہرہ) 

علامہ یحییٰ بن شرف نووی شافعی متوفی ٦٧٦ ھ لکھتے ہیں : 

امام شافعی اور دوسرے فقہاء نے کہا ہے ‘ اگر مسلمانوں کے متعلق کافر کی رائے اچھی ہو اور اس کی مدد کی ضرورت ہو تو اس سے مدد لی جائے ‘ ورنہ اس سے مدد لینا مکروہ ہے اور یہ حدیث اسی صورت پر محمول ہے ‘ اور جب مسلمانوں کی اجازت سے کافر سے خدمت لی جائے تو اسے کچھ معاوضہ دے دیا جائے اور اس کا حصہ نہ نکالا جائے۔ امام مالک ‘ امام شافعی ‘ امام ابوحنیفہ اور جمہور کا یہی مسلک ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 57