لَنْ  تَنَالُوا  الْبِرَّ  حَتّٰى  تُنْفِقُوْا  مِمَّا  تُحِبُّوْنَ  ﱟ  وَمَا  تُنْفِقُوْا  مِنْ  شَیْءٍ  فَاِنَّ  اللّٰهَ  بِهٖ  عَلِیْمٌ(۹۲)

تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز نہ خرچ کرو(ف۱۷۲) اورتم جو کچھ خرچ کرو اللہ کو معلوم ہے

(ف172)

بر سے تقوٰی وطاعت مراد ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایاکہ یہاں خرچ کرناعام ہے تمام صدقات کایعنی واجبہ ہوں یانافلہ سب اس میں داخل ہیں حسن کا قول ہے کہ جو مال مسلمانوں کو محبوب ہواور اسے رضائے الٰہی کے لئے خرچ کرے وہ اس آیت میں داخل ہے خواہ ایک کھجور ہی ہو(خازن) عمر بن عبدالعزیز شکرکی بوریاں خرید کرصدقہ کرتے تھے ان سے کہاگیا اس کی قیمت ہی کیوں نہیں صدقہ کردیتے فرمایا شکر مجھے محبوب ومرغوب ہے یہ چاہتا ہوں کہ راہِ خدا میں پیاری چیز خرچ کروں(مدارک) بخاری و مسلم کی حدیث ہے کہ حضرت ابو طلحہ انصاری مدینے میں بڑے مالدار تھے انہیں اپنے اموال میں بیرحا(باغ)بہت پیارا تھا جب یہ آیت نازل ہوئی تو انہوں نے بارگاہِ رسالت میں کھڑے ہو کر عرض کیامجھے اپنے اموال میں بیر حاسب سے پیاراہے میں اس کو راہِ خدا میں صدقہ کرتاہوں حضور نے اس پر مسرت کا اظہار فرمایااور حضرت ابوطلحہ نے بایمائے حضوراپنے اقارب اوربنی عم میں اس کو تقسیم کردیاحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابو موسی اشعری کو لکھاکہ میرے لئے ایک باندی خرید کر بھیج دو جب وہ آئی تو آپ کو بہت پسند آئی آپ نے یہ آیت پڑھ کر اللہ کے لئے اس کو آزاد کردیا۔

كُلُّ  الطَّعَامِ  كَانَ  حِلًّا  لِّبَنِیْۤ  اِسْرَآءِیْلَ  اِلَّا  مَا  حَرَّمَ  اِسْرَآءِیْلُ  عَلٰى  نَفْسِهٖ  مِنْ  قَبْلِ  اَنْ  تُنَزَّلَ  التَّوْرٰىةُؕ-قُلْ  فَاْتُوْا  بِالتَّوْرٰىةِ  فَاتْلُوْهَاۤ  اِنْ  كُنْتُمْ  صٰدِقِیْنَ(۹۳)

سب کھانے بنی اسرائیل کو حلال تھے مگر وہ جو یعقوب نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا توریت اُترنے سے پہلے تم فرماؤ توریت لا کر پڑھو اگر سچے ہو (ف۱۷۳)

(ف173)

شانِ نزول: یہود نے سید عالم سے کہاکہ حضور اپنے آپ کو ملّتِ ابراہیمی پر خیال کرتے ہیں باوجود یکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام اونٹ کاگوشت اور دودھ نہیں کھاتے تھے آپ کھاتے ہیں تو آپ ملّتِ ابراہیمی پر کیسے ہوئے حضور نے فرمایاکہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم پر حلال تھیں یہود کہنے لگے کہ یہ حضرت نوح پر بھی حرام تھیں حضرت ابراہیم پر بھی حرام تھیں اور ہم تک حرام ہی چلی آئیں اس پر اللہ تبارک و تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی اور بتایا گیاکہ یہود کایہ دعوٰی غلط ہے بلکہ یہ چیزیں حضرت ابراہیم و اسمٰعیل و اسحاق و یعقوب پرحلال تھیں حضرت یعقوب نےکسی سبب سے ان کو اپنے اوپر حرام فرمایااور یہ حرمت ان کی اولاد میں باقی رہی یہود نے اس کا انکار کیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ توریت اس مضمون پر ناطق ہے اگر تمہیں انکار ہے تو توریت لاؤ اس پر یہود کو اپنی فضیحت ورسوائی کاخوف ہوااور وہ توریت نہ لاسکے ان کاکذب ظاہر ہوگیا اور انہیں شرمندگی اٹھانی پڑی

فائدہ اس سے ثابت ہواکہ پچھلی شریعتوں میں احکام منسوخ ہوتے تھے اس میں یہودکارد ہے جو نسخ کے قائل نہ تھے

فائدہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُمّی تھے باوجود اس کے یہود کو توریت سے الزام دینااور توریت کے مضامین سے استدلال فرمانا آپ کامعجزہ اور نبوت کی دلیل ہے اور اس سے آپ کے وہبی اورغیبی علوم کاپتہ چلتا ہے

فَمَنِ  افْتَرٰى  عَلَى  اللّٰهِ  الْكَذِبَ  مِنْۢ  بَعْدِ  ذٰلِكَ  فَاُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الظّٰلِمُوْنَؐ(۹۴)

تو اُس کے بعد جو اللہ پر جھوٹ باندھے (ف۱۷۴) تو وہی ظالم ہیں

(ف174)

اور کہے کہ ملتِ ابراہیمی میں اونٹوں کے گوشت اور دودھ اللہ تعالٰی نے حرام کئے تھے

قُلْ  صَدَقَ  اللّٰهُ۫-فَاتَّبِعُوْا  مِلَّةَ  اِبْرٰهِیْمَ  حَنِیْفًاؕ-وَ  مَا  كَانَ  مِنَ  الْمُشْرِكِیْنَ(۹۵)

تم فرماؤ اللہ سچا ہے تو ابراہیم کے دین پر چلو (ف۱۷۵) جوہر باطل سے جدا تھے اور شرک والوںمیں نہ تھے

(ف175)

کہ وہی ا سلام اوردین محمدی ہے

اِنَّ  اَوَّلَ  بَیْتٍ  وُّضِعَ  لِلنَّاسِ   لَلَّذِیْ  بِبَكَّةَ  مُبٰرَكًا  وَّ  هُدًى  لِّلْعٰلَمِیْنَۚ(۹۶)

بے شک سب میں پہلا گھر جو لوگوں کی عبادت کو مقرر ہوا وہ ہے جو مکہ میں ہے برکت والا اور سارے جہان کا راہنما (ف۱۷۶)

(ف176)

شانِ نزول:یہود نے مسلمانوں سے کہاتھا کہ بیت المَقۡدِسۡ ہمارا قبلہ ہے کعبہ سے افضل اور اس سے پہلا ہے انبیاءکامقام ہجرت و قبلۂ عبادت ہے مسلمانوں نے کہاکہ کعبہ افضل ہے اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس میں بتایا گیاکہ سب سے پہلا مکان جس کو اللہ تعالٰی نے طاعت وعبادت کے لئے مقرر کیانماز کاقبلہ حج اور طواف کاموضع بنایا جس میں نیکیوں کے ثواب زیادہ ہوتے ہیں وہ کعبہ معظمہ ہے جو شہر مکہ معظمہ میں واقع ہے حدیث شریف میں ہے کہ کعبہ معظمہ بیت المَقۡدِس سے چالیس سال قبل بنایا گیا

فِیْهِ  اٰیٰتٌۢ  بَیِّنٰتٌ  مَّقَامُ  اِبْرٰهِیْمَ  ﳛ  وَ  مَنْ  دَخَلَهٗ  كَانَ  اٰمِنًاؕ-وَ  لِلّٰهِ  عَلَى  النَّاسِ   حِجُّ  الْبَیْتِ  مَنِ  اسْتَطَاعَ  اِلَیْهِ  سَبِیْلًاؕ-وَ  مَنْ  كَفَرَ  فَاِنَّ  اللّٰهَ  غَنِیٌّ  عَنِ  الْعٰلَمِیْنَ(۹۷)

اس میں کھلی نشانیاں ہیں (ف۱۷۷) ابراہیم کے کھڑے ہونے کی جگہ (ف۱۷۸) اور جو اس میں آئے امان میں ہو (ف۱۷۹) اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے (ف۱۸۰) اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے(ف۱۸۱)

(ف177)

جو اس کی حرمت و فضیلت پر دلالت کرتی ہیں ان نشانیوں میں سے بعض یہ ہیں کہ پرند کعبہ شریف کے اوپر نہیں بیٹھتے اور اس کے اوپر سے پرواز نہیں کرتے بلکہ پرواز کرتے ہوئے آتے ہیں تو اِدھر اُدھر ہٹ جاتے ہیں اور جو پرند بیمار ہوجاتے ہیں وہ اپنا علاج یہی کرتے ہیں کہ ہوائے کعبہ میں ہو کر گزر جائیں اسی سے انہیں شفاہوتی ہے اور وُحوش ایک دوسرے کو حرم میں ایذا نہیں دیتے حتی کہ کتے اس سرزمین میں ہرن پر نہیں دوڑتے اور وہاں شکار نہیں کرتے اور لوگوں کے دل کعبہ معظمہ کی طرف کھچتے ہیں اور اس کی طرف نظر کرنے سے آنسو جاری ہوتے ہیں اور ہر شب جمعہ کو ارواحِ اَولیاء اس کے گرد حاضر ہوتی ہیں اور جو کوئی اس کی بے حرمتی کا قصد کرتا ہے برباد ہوجاتا ہے انہیں آیات میں سے مقام ابراہیم وغیرہ وہ چیزیں ہیں جن کا آیت میں بیان فرمایا گیا(مدارک و خازن وا حمدی)

(ف178)

مقام ابراہیم وہ پتھر ہے جس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کعبہ شریف کی تعمیر کے وقت کھڑے ہوتے تھے اور اس میں آ پ کے قدمِ مبارک کے نشان تھے جو باوجود طویل زمانہ گزرنے اور بکثرت ہاتھوں سے مَسۡ ہونے کے ابھی تک کچھ باقی ہیں

(ف179)

یہاں تک کہ اگر کوئی شخص قتل و جنایت کرکے حرم میں داخل ہو تو وہاں نہ اس کو قتل کیاجائے نہ اس پر حد قائم کی جائے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر میں اپنے والد خطاب کے قاتل کو بھی حرم شریف میں پاؤں تو اس کوہاتھ نہ لگاؤں یہاں تک کہ وہ وہاں سے باہر آئے

(ف180)

مسئلہ :اس آیت میں حج کی فرضیت کا بیان ہے اور اس کاکہ استطاعت شرط ہے حدیث شریف میں سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی تفسیر زادو راحلہ سے فرمائی زاد یعنی توشہ کھانے پینے کا انتظام اس قدر ہونا چاہئے کہ جا کر واپس آنے تک کے لئے کافی ہو اور یہ واپسی کے وقت تک اہل و عیال کے نفقہ کے علاوہ ہونا چاہئے راہ کاامن بھی ضروری ہے کیونکہ بغیر اس کے استطاعت ثابت نہیں ہوتی

(ف181)

اس سے اللہ تعالٰی کی ناراضی ظاہر ہوتی ہے اور یہ مسئلہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرض قطعی کامنکر کافر ہے

قُلْ  یٰۤاَهْلَ  الْكِتٰبِ  لِمَ  تَكْفُرُوْنَ  بِاٰیٰتِ  اللّٰهِ  ﳓ  وَ  اللّٰهُ  شَهِیْدٌ  عَلٰى  مَا  تَعْمَلُوْنَ(۹۸)

تم فرماؤ اے کتابیو اللہ کی آیتیں کیوں نہیں مانتے (ف۱۸۲) اور تمہارے کام اللہ کے سامنے ہیں

(ف182)

جو سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدق نبوت پر دلالت کرتی ہیں۔

قُلْ  یٰۤاَهْلَ  الْكِتٰبِ  لِمَ  تَصُدُّوْنَ  عَنْ  سَبِیْلِ  اللّٰهِ  مَنْ  اٰمَنَ  تَبْغُوْنَهَا  عِوَجًا  وَّ  اَنْتُمْ  شُهَدَآءُؕ-وَ  مَا  اللّٰهُ  بِغَافِلٍ  عَمَّا  تَعْمَلُوْنَ(۹۹)

تم فرماؤ اے کتابیو کیوں اللہ کی راہ سے روکتے ہو (ف ۱۸۳) اُسے جو ایمان لائے اسے ٹیڑھا کیا چاہتے ہو اور تم خود اس پرگواہ ہو (ف۱۸۴) اور اللہ تمہارے کو تکوں(برے کاموں) سے بے خبر نہیں

(ف183)

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کرکے اور آپ کی نعت و صفت چھپا کر جو توریت میں مذکور ہے۔

(ف184)

کہ سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعت توریت میں مکتوب ہے اور اللہ کو جو دین مقبول ہے وہ صرف دین اسلام ہی ہے

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْۤا  اِنْ  تُطِیْعُوْا  فَرِیْقًا  مِّنَ  الَّذِیْنَ  اُوْتُوا  الْكِتٰبَ  یَرُدُّوْكُمْ  بَعْدَ  اِیْمَانِكُمْ  كٰفِرِیْنَ(۱۰۰)

اے ایمان والو اگر تم کچھ کتابیوں کے کہے پر چلے تو وہ تمہارے ایمان کے بعد تمہیں کافر کر چھوڑیں گے (ف۱۸۵)

(ف185)

شانِ نزول:اَوۡس و خَزْرَج کے قبیلوں میں پہلے بڑی عداوت تھی اور مدتوں ان کے درمیان جنگ جاری رہی سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صدقہ میں ان قبیلوں کے لوگ اسلام لا کر باہم شیرو شکر ہوئے ایک روز وہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے اُنس ومحبت کی باتیں کررہے تھے شاس بن قیس یہودی جو بڑا دشمن اسلام تھااس طرف سے گزرااور ان کے باہمی روابط دیکھ کر جل گیا اور کہنے لگاکہ جب یہ لوگ آپس میں مل گئے تو ہمارا کیا ٹھکانا ہے ایک جوان کو مقرر کیاکہ انکی مجلس میں بیٹھ کر ان کی پچھلی لڑائیوں کاذکر چھیڑے اور اس زمانہ میں ہر ایک قبیلہ جو اپنی مدح اور دوسروں کی حقارت کے اشعار لکھتا تھا پڑھے چنانچہ اس یہودی نے ایسا ہی کیااور اس کی شرر انگیزی سے دونوں قبیلوں کے لوگ طیش میں آگئے اور ہتھیار اٹھالئے قریب تھاکہ خونریزی ہوجائے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ خبر پاکر مہاجرین کے ساتھ تشریف لائے اور فرمایاکہ اے جماعت اہل اسلام یہ کیا جاہلیت کے حرکات ہیں میں تمہارے درمیان ہوں اللہ تعالٰی نے تم کو اسلام کی عزت دی جاہلیت کی بلاسے نجات دی تمہارے درمیان الفت و محبت ڈالی تم پھر زمانۂ کفر کی حالت کی طرف لوٹتے ہوحضور کے ارشاد نے ان کے دلوں پر اثر کیااور انہوں نے سمجھاکہ یہ شیطا ن کافریب اور دشمن کامَکۡر تھاانہوں نے ہاتھوں سے ہتھیار پھینک دیئے اور روتے ہوئے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اورحضور سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ فرمانبردارانہ چلے آئے ا ن کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی۔

وَ  كَیْفَ  تَكْفُرُوْنَ  وَ  اَنْتُمْ  تُتْلٰى  عَلَیْكُمْ  اٰیٰتُ  اللّٰهِ  وَ  فِیْكُمْ  رَسُوْلُهٗؕ-وَ  مَنْ  یَّعْتَصِمْ  بِاللّٰهِ  فَقَدْ  هُدِیَ  اِلٰى  صِرَاطٍ  مُّسْتَقِیْمٍ۠(۱۰۱)

اور تم کیونکر کفر کرو گے تم پرتو اللہ کی آیتیں پڑھی جاتی ہیں اور تم میں اس کا رسول تشریف فرماہے اور جس نے اللہ کا سہارا لیا تو ضرور وہ سیدھی راہ دکھایا گیا