امام اعظم ابوحنیفہ : محیر العقول فتاوی

امام اعظم ابوحنیفہ : محیر العقول فتاوی

امام وکیع بیان کرتے ہیں کہ ایک ولیمہ کی دعوت میں امام ابوحنیفہ ،امام سفیان ثوری ، امام مسعر بن کدام ،مالک بن مغول ،جعفر بن زیاد ،احمد اور حسن بن صالح کا اجتماع ہوا۔کوفہ کے اشراف اورموالی کا اجتماع تھا ۔صاحب خانہ نے اپنے دوبیٹوں کی شادی ایک شخص کی دوبیٹیوں سے کی تھی ۔یہ شخص گھبرایا ہواآیا اوراس نے کہا۔ ہم ایک بڑی مصیبت میں گرفتار ہوگئے ہیں اوراس نے بیان کیا گھر میں غلطی سے ایک کی بیوی دوسرے کے پاس پہنچادی گئی اوردونوں نےاپنے بھائی کی بیوی سے شب باشی کرلی ہے ۔

سفیان ثوری نے کہا کوئی بات نہیں ۔

اور آپ نے کہا میرے نزدیک دونوں افراد پر شب باشی کرنے کی وجہ سے مہر واجب ہے اور ہرعورت اپنے زوج کے پاس چلی جائے( یعنی جس سے اس کانکاح ہوا ہے ) لوگوں نے سفیان کی بات سنی اور پسند کی امام ابوحنیفہ خاموش بیٹھے رہے ۔مسعر بن کدام نے ان سے کہا تم کیا کہتے ہو ۔ سفیان ثوری نے کہا وہ اس بات کے علاوہ کیا کہیں گے ۔ابوحنیفہ نے کہا ۔دونوں لڑکوں کو بلائو، چنانچہ وہ دونوںآئے ۔ حضرت امام نے ان میں سے ہر ایک سے دریافت کیا ۔’’ تم کو وہ عورت پسند ہے جس کے ساتھ تم نے شب باشی کی ہے ۔‘‘ ان دونوں نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے ہرایک سے کہا اس عورت کانام کیا ہے جوتمہارے بھائی کے پاس گئی ہے ۔دونوں نے لڑکی کا اور اس کے باپ کانام بتایا ۔

آپ نے ان سے کہا ۔اب تم اس کو طلاق دو ۔چنانچہ دونوں نے طلاق دی اور آپ نے خطبہ پڑھ کر ہرایک کا نکاح اس عورت سے کردیا جواس کے پاس رہی ہے ۔اور آپ نے دونوں لڑکوں کے والد سے کہا ۔دعوت ولیمہ کی تجدید کرو ۔

ابوحنیفہ کا فتوی سن کرسب متحیر ہوئے اورمسعر نے اٹھ کرابوحنیفہ کا منہ چوما اور کہا تم لوگ مجھ کوابوحنیفہ کی محبت پر ملامت کرتے ہو ۔

جواب امام سفیان کا بھی درست تھا لیکن کیا ضروری تھا کہ دونوں شوہر وں کی غیرت اس بات کو گوارہ کر لیتی کہ جس سے دوسرے نے شب باشی کی ہے کہ وہ اب اس پہلے کے ساتھ رہے ۔

امام وکیع ہی بیان کرتے ہیں : ہم امام ابوحنیفہ کے پاس تھے کہ ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرے بھائی کی وفات ہوئی ہے اس نے چھ سودینار چھوڑے اوراب مجھ کو ورثہ میں ایک دینار ملاہے ۔ابوحنیفہ نے کہا کہ میراث کی تقسیم کس نے کی ہے ۔اس نے کہا دائود طائی نے کی ہے ۔آپ نے فرمایا انہوں نے ٹھیک کی ہے۔ کیاتمہارے بھائی نے دولڑکیاں چھوڑی ہیں ؟ عورت نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے پوچھا اور ماں چھوڑی ہے؟عورت نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے پوچھا اوربیوی چھوڑی ہے؟عورت نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے پوچھا اورایک بہن اوربارہ بھائی چھوڑے ہیں ؟عورت نے ہاں میں جواب دیا ۔آپ نے کہا لڑکیوں کا دوتہائی حصہ ہے یعنی چار سودینا راورچھٹا حصہ ماں کا ہے یعنی ایک سو دینار اور آٹھواں حصہ بیوی کا ہے یعنی پچھتر دینار۔ باقی رہے پچیس دینار۔اس سے بارہ بھائیوں کے چوبیس دینار یعنی ہربھائی کو دودینار اورتم بہن ہوتمہاراایک دینار ہوا ۔

امام ابویوسف بیان فرماتے ہیں : امام ابوحنیفہ سے کسی شخص نے کہا میں نے قسم کھائی ہے کہ اپنی بیوی سے بات نہیں کروں گا جب تک وہ مجھ سے بات نہ کرلے ،اور میری بیوی نے قسم کھائی کہ جومال میراہے وہ سب صدقہ ہوگا اگر وہ مجھ سے بات کرلے جب تک کہ میں اس سے بات نہ کرلوں ۔ابو حنیفہ نے اس شخص سے کہا ۔کیا تم نے یہ مسئلہ کسی سے پوچھاہے؟اس شخص نے کہا ۔میں نے سفیان ثوری سے یہ مسئلہ پوچھا ہے اورانہوں نے کہا ہے کہ تم دونوں میں سے جوبھی دوسرے سے بات کرے گا وہ حانث ہوجائیگا۔ابوحنیفہ نے اس شخص سے کہا :جائو اپنی بیوی سے بات کرو ،تم دونوں حانث نہ ہوگے ۔وہ شخص ابو حنیفہ کی بات سن کر سفیان ثور ی کے پاس گیا ۔اس شخص کی سفیان ثوری سے کچھ رشتہ داری بھی تھی ،اس نے ابوحنیفہ کا جواب سفیان ثوری سے بیان کیا ،وہ جھنجھلاکر ابوحنیفہ کے پاس آئے اورانہوں نے ابوحنیفہ سے غصہ میں کہا ۔کیا تم حرام کرائو گے ۔آپ نے کہاکیا بات ہے ،اے ابوعبداللہ ۔اورپھر آپ نے سوال کرنے والے سے کہا کہ اپنا سوال ابوعبداللہ کے سامنے دہرائو ۔چنانچہ اس نے اپناسوال دہرایا اورابوحنیفہ نے اپنا فتوی دہرایا ۔سفیان نے کہا ۔تم نے یہ بات کہاں سے کہی ہے ۔آپ نے فرمایا کہ خاو ندکے قسم کھانے کے بعد اس کی بیوی نے خاوندسے بات کی لہذاخاوند کی قسم پوری ہوگئی اب وہ جاکر بیوی سے بات کرلے تاکہ اس کی قسم پوری ہوجائے اوردونوں میں سے کوئی بھی حانث نہیں ہے ۔ یہ سن کر سفیان ثور ی نے کہا :انہ لیکشف لک من العلم عن شیٔ کلنا عنہ غافل۔حقیقت امر یہ ہے کہ تم پر علم کے وہ دقائق واضح ہوتے ہیں کہ ہم سب اس سے غافلہیں۔

امام لیث بن سعد کہتے تھے :کہ میں ابوحنیفہ کا ذکر سناکرتاتھا اور میری تمنا اورخواہش تھی کہ ان کو دیکھوں ۔اتفاق سے میں مکہ میں تھا میں نے دیکھا کہ ایک شخص پرلوگ ٹوٹے پڑتے ہیں اورایک شخص ان کو یاباحنیفہ کہہ کر صداکررہا تھا ۔لہذامیں نے دیکھا کہ یہ شخص ابوحنیفہ ہیں ۔ آواز دینے والے نے ان سے کہا میں دولتمند ہوں میراایک بیٹاہے ۔میں اس کی شادی کرتاہوں ،روپیہ خرچ کرتاہوں ،وہ اس کو طلاق دے دیتا ہے ،میں اس کی شادی پرکافی روپیہ خرچ کرتاہوں اوریہ سب ضائع ہوتاہے ،کیا میرے واسطے کوئی حیلہ ہے ۔ابو حنیفہ نے کہا تم اپنے بیٹے کواس بازار لے جائو جہاں لونڈی غلام فروخت ہوتے ہیں۔ وہاں اس کی پسند کی لونڈی خریدلو ، وہ تمہاری ملکیت میں رہے ،اس کا نکاح اپنے بیٹے سے کردو،اگر وہ طلاق دے گا باندی تمہاری رہے گی ۔

یہ کہہ کر لیث بن سعد نے کہا ۔فواللہ مااعجبنی سرعۃ جوابہ۔ اللہ کی قسم ہے آپ کے جواب پر مجھ کواتنا تعجب نہ ہوا جتنا کہ ان کے جواب دینے کی سرعت سے ہوا ۔یعنی پوچھنے کی دیر تھی کہ جواب تیار تھا۔

امام ابویوسف بیان کرتے ہیں : ایک دفعہ ایک شخص سے اسکی بیوی کا جھگڑا ہوا۔ شوہر یہ قسم کھا بیٹھا کہ جب تک تونہیں بولے گی میں بھی نہیں بولوں گا بیوی کیوں پیچھے رہتی ۔اس نے بھی برابر کی قسم کھائی جب تک تونہیں بولے گا میں بھی نہیں بولوں گی ۔جب غصہ ٹھنڈاہوا تواب دونوں پریشان۔ شوہر حضرت سفیان ثوری کے پاس گیا کہ اس کا حل کیا ہے ،فرمایا کہ بیوی سے بات کرو وہ تم سے کرے اور قسم کا کفارہ دیدو ۔شوہر حضرت امام اعظم کی خدمت میں حاضرہوا ۔ آپ نے فرمایا ۔جائو تم اس سے بار کرو اور وہ تم سے بات کرے،کفارہ کی ضرورت نہیں ۔جب سفیان ثوری کو یہ معلوم ہوا تو بہت خفاہوئے ۔امام اعظم کے پاس جاکر یہاں تک کہہ دیاکہ تم لوگوں کو غلط مسئلہ بتاتے ہو ۔امام صاحب نے اسے بلوایا اوراس سے دوبارہ پوراواقعہ بیان کرنے کو کہا ۔ جب وہ بیان کرچکا تو امام صاحب نے حضرت سفیان ثوری سے کہا ۔جب شوہر کے قسم کے بعد عورت نے شوہر کو مخاطب کرکے وہ جملہ کہا تو عورت کی طرف سے بولنے کی ابتداء ہوگئی ۔ اب قسم کہاں رہی ۔اس پر حضرت سفیان ثوری نے کہا ۔واقعی عین موقع پرآپ کی فہم وہاں تک پہونچ جاتی ہے جہاں ہم لوگوں کا خیال نہیں جاتا ۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.