أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ هَلۡ اُنَـبِّئُكُمۡ بِشَرٍّ مِّنۡ ذٰ لِكَ مَثُوۡبَةً عِنۡدَ اللّٰهِ‌ ؕ مَنۡ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَغَضِبَ عَلَيۡهِ وَجَعَلَ مِنۡهُمُ الۡقِرَدَةَ وَالۡخَـنَازِيۡرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوۡتَ‌ ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّاَضَلُّ عَنۡ سَوَآءِ السَّبِيۡلِ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ کیا میں تم کو بتاؤں کہ اللہ کے نزدیک کن لوگوں کی سزا اس سے بھی بدتر ہے ‘ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے بعض کو بندر اور بعض کو خنزیر بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی عبادت کی ‘ ان کا ٹھکانا بدترین ہے اور یہ سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ کیا میں تم کو بتاؤں کہ اللہ کے نزدیک کن لوگوں کی سزا اس سے بھی بدتر ہے ‘ جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان پر غضب فرمایا اور ان میں سے بعض کو بندر اور بعض کو خنزیر بنادیا اور جنہوں نے شیطان کی عبادت کی ‘ ان کا ٹھکانا بدترین ہے اور یہ سیدھے راستے سے بھٹکے ہوئے ہیں۔ (المائدہ : ٦٠) 

یہود کو علم تھا کہ ان کے اسلاف میں ایسے لوگ ہیں جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور ان پر اللہ نے لعنت کی۔ یہود میں سے جنہوں نے ممانعت کے باوجود ہفتہ کے دن شکار کرکے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تھی ‘ ان کو بندر بنادیا گیا اور جن عیسائیوں نے مائدہ (دسترخوان) کے معاملہ میں نافرمانی کی تھی ‘ ان کو خنزیر بنادیا گیا۔ ایک قول یہ ہے کہ ہفتہ کے دن جن یہودیوں نے نافرمانی کی تھی ‘ ان میں سے جوانوں کو بندر بنادیا گیا اور بوڑھوں کو خنزیر بنادیا گیا موجودہ بندر اور خنزیر ان کی نسل سے نہیں ہیں۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن مسعود (رض) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بندروں اور خنزیروں کے متعلق سوال کیا گیا ‘ کیا یہ وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے مسخ کردیا تھا ؟ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک کرکے یا مسخ کرکے پھر اس کی نسل نہیں چلائی۔ بندر اور خنزیر اس سے پہلے بھی ہوتے تھے۔ (صحیح مسلم ‘ قدر ‘ ٣٢۔ ٣٣ (٢٦٦٣) ٦٦٤٦‘ مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ٣ ‘۔ رقم الحدیث : ٣٧٠٠‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٣٩٠‘ طبع قدیم)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 60