قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡـكِتٰبِ هَلۡ تَـنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَـيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَكُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 59

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قُلۡ يٰۤـاَهۡلَ الۡـكِتٰبِ هَلۡ تَـنۡقِمُوۡنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنۡ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَاۤ اُنۡزِلَ اِلَـيۡنَا وَمَاۤ اُنۡزِلَ مِنۡ قَبۡلُ ۙ وَاَنَّ اَكۡثَرَكُمۡ فٰسِقُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ کہیے کہ اے اہل کتاب تم کو صرف یہ ناگوار لگا ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور اس پر جو پہلے نازل ہوا اور بیشک تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ کہیے کہ اے اہل کتاب تم کو صرف یہ ناگوار لگا ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل ہوا اور اس پر جو پہلے نازل ہوا اور بیشک تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ (المائدہ : ٥٩) 

مناسبت اور شان نزول : 

اس سے پہلی آیت میں یہ فرمایا تھا کہ اہل کتاب نے دین اسلام کو ہنسی مذاق بنا لیا ہے اور اب اس آیت میں بتایا ہے کہ انہوں نے دین اسلام کو عزت اور احترام سے جو قبول نہیں کیا ‘ اس کی کیا وجہ ہے ؟ 

امام ابو محمد عبدالملک بن ہشام متوفی ٢١٣ ھ لکھتے ہیں : 

امام ابن اسحاق نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس یہودیوں کی ایک جماعت آئی ‘ جس میں ابو یاسر بن اخطب نافع بن ابی نافع ‘ عازربی عازر وغیرھم تھے۔ انہوں نے آپ سے پوچھا کہ آپ رسولوں میں سے کس کس پر ایمان لائے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو حضرت ابراہیم ‘ حضرت اسماعیل ‘ حضرت اسحاق ‘ حضرت یعقوب ‘ اور ان کی اولاد پر نازل کیا گیا اور جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیا گیا اور جو نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا ‘ ہم ان میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے لیے سرتسلیم خم کرنے والے ہیں ‘ جب آپ نے حضرت عیسیٰ ابن مریم کا ذکر کیا تو انہوں نے آپ کی نبوت کا انکار کردیا اور کہا ہم عیسیٰ ابن مریم پر ایمان نہیں لاتے اور نہ اس شخص پر جو ان پر ایمان لایا ہو تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : 

آپ کہیے کہ اے اہل کتاب تم کو صرف یہ ناگوار لگا ہے کہ ہم اللہ پر ایمان لائے (الایہ) (السیرۃ النبویہ ‘ ج ٢‘ ص ١٨٠‘ جامع البیان ‘ ج ٦‘ ص ٣٩٤‘ اسباب نزول القرآن ‘ ص ٢٠٣) 

یہود کا بعض نبیوں پر ایمان لانا اور بعض پر ایمان نہ لانا قطعا باطل ہے ‘ کیونکہ معجزہ کی دلالت کی وجہ سے نبی پر ایمان لایا جاتا ہے اور جب یہود معجزہ کی دلالت کی وجہ سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تو پھر معجزہ کی دلالت کی وجہ سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر کیوں ایمان نہیں لائے ؟ اور ہمارے نبی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان کیوں نہیں لائے ؟ جبکہ آپ نے بکثرت حسی اور معنوی معجزات پیش کیے۔ 

آیت مذکورہ کی ترکیب پر شبہات کے جوابات 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ 

اس پر یہ اعتراض ہے کہ یہود تو تمام کفار اور فساق ہیں ‘ یہاں اکثر کو فاسق کیوں فرمایا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اکثر یہود دنیا کی عزت اور روپے پیسے کے لالچ میں حق کو چھپاتے تھے۔ اس لیے فرمایا تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں لہذا تم اپنے دین کے اعتبار سے بھی نیک نہیں ہو ‘ فاسق اور بدکارہو۔ کیونکہ کافر اور بدعتی بھی بعض اوقات اپنے دین کے اعتبار سے سچا اور دیانت دار ہوتا ہے ‘ جبکہ تم اپنے دین کے اعتبار سے بھی جھوٹے اور خائن ہو اور ظاہر ہے کہ سب یہودی اس طرح نہیں تھے۔ اس لیے فرمایا : تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ بعض یہودی ایمان لے آئے تھے۔ اگر یہ فرمایا جاتا کہ کل یہودی فاسق ہیں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی شخص ان کے متعلق بھی فسق کا وہم کرتا۔ 

دوسرا سوال یہ ہے کہ اور بیشک تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں اس کا عطف اس جملہ پر ہے ہم اللہ پر ایمان لائے اور اب اس کا معنی اس طرح ہوگا تم کو صرف یہ ناگوار لگا ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں جبکہ یہودیوں کے نزدیک ان کا فسق ناگوار نہیں تھا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ یہ ان سے تعریضا خطاب ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ہم مسلمان فاسق نہیں ہیں ‘ بلکہ نیک اور صالح ہیں اور مسلمانوں کا نیک اور صالح ہونا ان کو ناگوار گزرتا تھا۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہاں اعتقاد کا لفظ محذوف ہے ‘ یعنی تم کو اپنے فسق کا اعتقاد ناگوار گزرتا ہے۔ تیسرا جواب یہ ہے کہ یہاں سبب کا لفظ محذوف ہے یعنی تم کو ہمارا اللہ پر ایمان لانا اس لیے ناگوار گزرتا ہے کہ تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 59

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.