محتاجی کا خوف

حکایت نمبر204: محتاجی کا خوف

حضرتِ سیِّدُنا ابو القاسم بن جَبَلِی علیہ رحمۃ اللہ الولی فرماتے ہیں:” ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم حَرْبی علیہ رحمۃ اللہ القوی اتنے شدید بیمار ہوئے کہ قریبُ المرگ ہوگئے میں ان کے پاس گیا تو فرمایا:” اے ابو قاسم! میں اور میری بیٹی ایک امرِ عظیم میں مبتلا ہیں۔” پھر اپنی صاحبزادی سے فرمایا: ”بیٹی !یہ تمہارے چچا ہیں ان کے پاس جاؤ اور گفتگو کرو۔”

اس نے چہرے پرنَقاب ڈالا اور میرے قریب آکر کہا :” اے میرے چچا ! ہم بہت بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں ،عرصۂ دراز سے ہم خشک روٹی کے ٹکڑے اور نمک کھا کر گزارہ کر رہے ہیں۔کَل خلیفہ مُعْتَضِدْبِاللہ کی طرف سے میرے والد ِ محترم کو ایک ہزار دینا راور ایک قیمتی موتی بھیجا گیا لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ فلاں ، فلاں نے تحائف وغیرہ بھجوائے لیکن انہوں نے وہ بھی قبول نہ کئے۔”ا پنی بیٹی کی یہ بات سن کر آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مسکرا کراس کی طرف دیکھا اور فرمایا:” اے میری بیٹی ! کیا تمہیں محتاجی کاخوف ہے ؟” کہا :” ہاں ۔” فرمایا:” میرے پاس اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے بارہ ہزار عربی مَخْطُوْطے ہیں۔ میرے مرنے کے بعد روزانہ ایک ورق ،ایک درہم کے بدلے بیچ دیا کرنا۔ میری بیٹی! اب بتاؤ کہ جس کے پاس اتنی قیمتی اشیاء موجود ہوں کیا وہ محتاج ہو سکتا ہے؟ ایسا شخص ہر گز مفلس ومحتاج نہیں ، لہٰذا تم مفلسی و محتاجی سے بے خوف ہوجاؤ۔”

(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.