ندائے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواز کے قائل لوگ ناکام کیوں؟

ندائے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواز کے قائل لوگ ناکام کیوں؟

یہ إیک أیسی حقیقت ہے جسکے بارے میں میں کافی دنوں سے غور و فکر کررہا ہوں تو إس نتیجہ پہ پہنچا ہوں کہ أیسے لوگ دوغلی پالیسی رکھتے ہیں جن میں میں خود بھی شامل ہوں ،

ہم اتنے سادہ لوگ ہیں کہ قصور ہمارا أور ہم عوام و نعت خواں حضرات و موسمی خطباء کو برا کہتے ہیں حالانکہ ہر برائی کی جڑ ہم خود ہیں،

جب بھی عوام نے ہم سے سؤال کیا:

27 رجب کو اجتماع کرنا کیسا؟

15 شعبان کو شب براءت کی محفل کرنا کیسا؟

شہادت إمام حسین رضی اللہ عنہ پہ جلسے کرنا کیسا؟

عرس اولیائے کرام کرنے کا حکم کیا ہے؟

میلادالنبی منانا کیسا؟

ںڑی گیارویں کا جواز کیا ہے؟

ہم لوگ جو عوام و نعت خواں و خطباء کو برا کہتے ہیں فتوے دیتے ہیں أور دلائل دیتے ہیں ، عوام کے سامنے ان مسائل کو ایسے پیش کرتے ہیں کہ ایسے مواقع پہ اجتماع کرنا و جلسے جلوس کرنا ہی جیسے أنکی تخلیق کا مقصد ہو ، پھر جب وہ ہر اجتماع کے لیے دو دو ماہ فنڈ جمع کرکے بڑے بڑے نقیبوں کو نعت خوانوں کو سریلے و مسلکی چورن بھیچنے والے علماء کو مہنگے دام فیس أدا کرتے ہیں تو چیخیں ہماری نکلتی ہیں کہ ہماری عوام علمی مراکز کو پیسا نہیں دیتی،

یہ ہے ہماری دوغلی پالیسی کیونکہ ہم نے کبھی علمی أہمیت کو بیان نہیں کیا؟ علمی مراکز کی ضرورت کی طرف أنکی توجہ نہیں دلائ؟ کبھی أنکو حضرت سعد والا صدقہ نہیں بتایا؟

صرف إیک بات بتائی جو ان مواقع پہ جلسے جلوس کرے وہ سنی ہے ، تو جب سنیت کی علامت جلسے جلوس کرنا رہ گیا ہے تو خاک تمہیں عوام پیسے دے گی کہ مراکز قائم کرو؟

أگر آپ ان اجتماعات کو 12 ماہ پہ تقسیم کریں تو إیک دن بھی ان جلسوں کو بغیر نہیں بچتا تو کون فنڈ دے گا ، وہ دن اس طرح ہیں:

رجب و شعبان دو ماہ معراج و شب براءت کے جلسے

شہادت إمام حسین رضی اللہ عنہ کے اجتماعات دو ماہ تک

پھر عرس اولیائے کرام دو ماہ تک ،

پھر ربیع الاول چار ماہ ، دو ماہ رمضان و حج کے

إس طرح یہ ٹوٹل 12 ماہ ہوئے تو آپ نے جو سنیت کی پہچان بتائی عوام اسی سنیت کو ثابت کرنے کے لیے 12 ماہ پیسا خرچ کرتی ہے تو بیچاری تمہی علمی مراکز کے لیے پیسے کہاں سے دے ؟

پھر ہم نے ہی کہا جس نے پیر کی بیعت نہ کی أسکا پیر شیطان ہوگا (العیاذ باللہ) یہ فتنے پر مبنی قول جب ہم کرتے ہیں تو عوام انہیں کو فنڈ دے گی جنکی صحبت کو آپ لوگوں نے شیطان سے حفاظت قرار دیا۔۔ أور مزارات پکے بنانے أور پھر ان پہ قبہ پھر چادریں چڑھانے کو ہم نے أپنی مرضی سے دلائل کی تاویلیں کرکے جائز کہا پھر قصور وار عوام کیوں؟؟ پیر کیوں ؟ نعت خواں حضرات کیوں؟

قرآن مجید و فقہائے کرام نے انہیں فتنوں کا سد باب کرنے کے لیے قاعدہ سد ذرائع استنباط کیا تاکہ لوگ أصل شریعت کے ساتھ رہیں أور ہم نے خصوص کو چھوڑ کر عموم دلیل سے ثابت ہونے والے مسائل کو خصوص دلائل کا درجہ دے دیا۔۔ کیا ہم ان اجتماعات کے عدم جواز کا فتوی دے گا؟؟؟؟؟؟

یہ ہے ندائے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جواز کا قول کرنے والوں کے ناکام ہونے کی أصل وجہ کیونکہ إس فریق کے قابل علماء غربت کی زندگی گزارتے ہیں ۔۔

لہذا ہمارے علماء کی یہ غربت ، علمی مراکز کی کمی ، لائبریریوں کا فقدان نعت خواں و خطباء و نقیبوں و پیروں کی وجہ سے نہیں ہمارے أپنے فتوؤں کی وجہ سے ہے۔

میرے مولا ہماری صحیح رستے کی طرف رہنمائی فرما۔۔

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.