أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِذَا جَآءُوۡكُمۡ قَالُوۡۤا اٰمَنَّا وَقَدْ دَّخَلُوۡا بِالۡكُفۡرِ وَهُمۡ قَدۡ خَرَجُوۡا بِهٖ‌ؕ وَاللّٰهُ اَعۡلَمُ بِمَا كَانُوۡا يَكۡتُمُوۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ وہ آپ کے پاس کفر کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور کفر (ہی) کے ساتھ خارج ہوئے اور اللہ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے تھے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور جب وہ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے حالانکہ وہ آپ کے پاس کفر کے ساتھ داخل ہوئے تھے اور کفر (ہی) کے ساتھ خارج ہوئے اور اللہ خوب جانتا ہے جسے وہ چھپاتے تھے۔ (المائدہ : ٦١) 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ یہودیوں نے دین اسلام کو ہنسی اور کھیل بنا لیا تھا اور وہ اذان کا مذاق اڑاتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو مسلمانوں کا ایمان اور تقوی ناگوار معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ان کو ان کے کرتوتوں کی جو سزا آخرت میں ملے گی ‘ وہ ان کو اس سے زیادہ ناگوار ہوگی اور اب اس آیت میں دین اسلام کے صدق اور برحق ہونے کی ایک اور دلیل بیان فرمائی کہ جو کچھ وہ اپنے دلوں میں چھپاتے تھے ‘ اس کو اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرما دیا۔ 

امام ابو جعفر طبری متوفی ٣١٠ ھ نے بیان کیا ہے کہ بعض یہودی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر یہ بیان کرتے کہ وہ مومن ہیں ‘ اور اسلام کے تمام احکام پر راضی ہیں۔ حالانکہ وہ اپنے کفر اور گمراہی پر ڈٹے رہتے تھے اور اسی کافرانہ عقیدہ پر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آتے اور اسی کفریہ عقیدہ پر رخصت ہوتے۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٤٠٠‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ ایک لحظہ کے لیے بھی ان کے دل میں ایمان داخل ہیں ہوا وہ کفر کے جس حال میں آپ کے پاس آئے تھے ‘ اسی حال میں لوٹ گئے۔ کیونکہ ان کے دل سخت تھے اور ان کا یہ قول کہ ہم ایمان لائے ‘ بالکل خلاف واقع اور جھوٹ ہے اور اس جھوٹ سے ان کی غرض یہ تھی کہ مسلمانوں کے ساتھ مکرو فریب کرنے کی بہت کوشش اور جہدوجہد کریں ‘ کیونکہ وہ مسلمانوں سے بہت بغض اور عدوات رکھتے تھے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 61