وَتَرٰى كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ يُسَارِعُوۡنَ فِى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ‌ ؕ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 62

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَتَرٰى كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ يُسَارِعُوۡنَ فِى الۡاِثۡمِ وَالۡعُدۡوَانِ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ‌ ؕ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

آپ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ گناہ، سرکشی اور حرام خوری میں تیزی سے بڑھتے ہیں ‘ یہ بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : آپ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کو دیکھیں گے کہ وہ گناہ، سرکشی اور حرام خوری میں تیزی سے بڑھتے ہیں ‘ یہ بہت بری حرکتیں کر رہے ہیں۔ (المائدہ : ٦٢) 

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ یہودی ہر قسم کے گناہ بےدھڑک کرتے ہیں اور وہ کسی قسم کے گناہ میں جھجک محسوس نہیں کرتے۔ خواہ وہ گناہ کفر ہی کیوں نہ ہو۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس آیت میں اثم سے مراد کفر ہے ‘ اور عدوان کے معنی اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حد سے آگے بڑھنا ہے۔ 

قتادہ نے یہ کہا ہے کہ اس آیت سے یہودی حکام مراد ہیں اور اس کا معنی یہ ہے کہ جن یہودیوں کا ذکر کیا گیا ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی مخالفت کرنے اور حلال و حرام میں اس کی حدود سے تجاوز کرنے اور رشوت لے کر جھوٹے فیصلے کرنے میں بہت تیزی سے رواں دواں ہیں اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں ‘ وہ سراسر باطل کام ہیں۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 62

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.