کنزالایمان مع خزائن العرفان پارہ 4 رکوع 2 سورہ آل عمران آیت نمبر102 تا 109

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوا  اتَّقُوا  اللّٰهَ  حَقَّ  تُقٰتِهٖ  وَ  لَا  تَمُوْتُنَّ  اِلَّا  وَ  اَنْتُمْ  مُّسْلِمُوْنَ(۱۰۲)

اے ایمان والو اللہ سے ڈرو جیسا اُس سے ڈرنے کا حق ہے اور ہر گز نہ مرنا مگر مسلمان

وَ  اعْتَصِمُوْا  بِحَبْلِ  اللّٰهِ  جَمِیْعًا  وَّ  لَا  تَفَرَّقُوْا۪-وَ  اذْكُرُوْا  نِعْمَتَ  اللّٰهِ  عَلَیْكُمْ  اِذْ  كُنْتُمْ  اَعْدَآءً  فَاَلَّفَ  بَیْنَ  قُلُوْبِكُمْ  فَاَصْبَحْتُمْ  بِنِعْمَتِهٖۤ  اِخْوَانًاۚ-وَ  كُنْتُمْ  عَلٰى  شَفَا  حُفْرَةٍ  مِّنَ  النَّارِ  فَاَنْقَذَكُمْ  مِّنْهَاؕ-كَذٰلِكَ  یُبَیِّنُ  اللّٰهُ  لَكُمْ  اٰیٰتِهٖ  لَعَلَّكُمْ  تَهْتَدُوْنَ(۱۰۳)

اور اللہ کی رسّی مضبوط تھام لو (ف۱۸۶) سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں بٹ نہ جانا)(ف۱۸۷)اور اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب تم میں بیر تھا (دشمنی تھی)اس نے تمہارے دلوں میں ملاپ کردیا تو اس کے فضل سے تم آپس میں بھائی ہوگئے (ف۱۸۸) اور تم ایک غار دوزخ کے کنارے پر تھے (ف۱۸۹) تو اس نے تمہیں اس سے بچادیا (ف۱۹۰) اللہ تم سے یوں ہی اپنی آیتیں بیان فرماتا ہے کہ کہیں تم ہدایت پاؤ

(ف186)

” حَبْلِ اللّٰہ ِ” کی تفسیر میں مفسرین کے چند قول ہیں بعض کہتے ہیں اس سے قرآن مراد ہے مُسلِم کی حدیث شریف میں وارد ہوا کہ قرآن پاک حبل اللہ ہے جس نے اس کا اتباع کیا وہ ہدایت پر ہے جس نے اُس کو چھوڑا وہ گمراہی پر حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حبل اللہ سے جماعت مراد ہے اور فرمایا کہ تم جماعت کو لازم کرلو کہ وہ حبل اللہ ہے جس کو مضبوط تھامنے کا حکم دیا گیاہے۔

(ف187)

جیسے کہ یہود و نصارٰی متفرق ہوگئے اس آیت میں اُن افعال و حرکات کی ممانعت کی گئی جو مسلمانوں کے درمیان تفرق کا سبب ہوں طریقہ مسلمین مذہب اہل سنت ہے اس کے سوا کوئی راہ اختیار کرنا دین میں تفریق اور ممنوع ہے۔

(ف188)

اور اسلام کی بدولت عداوت دور ہو کر آپس میں دینی محبت پیدا ہوئی حتٰی کہ اَوۡس اور خَزْرَجۡ کی وہ مشہور لڑائی جو ایک سو بیس سال سے جاری تھی اور اس کے سبب رات دن قتل و غارت کی گرم بازاری رہتی تھی سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے مٹادی اور جنگ کی آگ ٹھنڈی کردی اور جنگ جو قبیلوں میں الفت و محبت کے جذبات پیدا کردیئے۔

(ف189)

یعنی حالتِ کفر میں کہ اگر اسی حال پر مرجاتے تو دوزخ میں پہنچتے۔

(ف190)

دولت ایمان عطا کرکے۔

وَ  لْتَكُنْ  مِّنْكُمْ  اُمَّةٌ  یَّدْعُوْنَ  اِلَى  الْخَیْرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  هُمُ  الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۴)

اور تم میں ایک گروہ ایسا ہونا چاہیے کہ بھلائی کی طرف بلائیں اور اچھی بات کا حکم دیں اور بُری سے منع کریں (ف۱۹۱) اور یہی لوگ مُراد کو پہنچے (ف۱۹۲)

(ف191)

اس آیت سے امر معروف و نہی منکر کی فرضیت اور اجماع کے حجت ہونے پر استدلال کیا گیا ہے۔

(ف192)

حضرت علی مرتضٰی نے فرمایا کہ نیکیوں کا حکم کرنا اور بدیوں سے روکنا بہترین جہاد ہے۔

وَ  لَا  تَكُوْنُوْا  كَالَّذِیْنَ  تَفَرَّقُوْا  وَ  اخْتَلَفُوْا  مِنْۢ  بَعْدِ  مَا  جَآءَهُمُ  الْبَیِّنٰتُؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  لَهُمْ  عَذَابٌ  عَظِیْمٌۙ(۱۰۵)

اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور اُن میں پھوٹ پڑ گئی (ف۱۹۳) بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آچکی تھیں (ف۱۹۴)اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے

(ف193)

جیسا کہ یہود ونصارٰی آپس میں مختلف ہوئے اور ان میں ایک دوسرے کے ساتھ عناد و دشمنی راسخ ہوگئی یا جیسا کہ خود تم زمانۂ اسلام سے پہلے جاہلیت کے وقت میں متفرق تھے تمہارے درمیان بغض و عناد تھا

مسئلہ : اس آیت میں مسلمانوں کو آپس میں اتفاق و اجتماع کا حکم دیا گیا اوراختلاف اور اس کے اسباب پیدا کرنے کی ممانعت فرمائی گئی احادیث میں بھی اس کی بہت تاکیدیں واردہیں اور جماعت مسلمین سے جدا ہونے کی سختی سے ممانعت فرمائی گئی ہے جو فرقہ پیدا ہوتا ہے اس حکم کی مخالفت کرکے ہی پیدا ہوتا ہے اور جماعت مسلمین میں تفرقہ اندازی کے جرم کا مرتکب ہوتا ہے اور حسب ارشاد حدیث وہ شیطان کا شکار ہے اَعَاذَنَا اللّٰہُ تَعَالیٰ مِنۡہُ۔

(ف194)

اور حق واضح ہوچکا تھا۔

یَّوْمَ  تَبْیَضُّ   وُجُوْهٌ  وَّ  تَسْوَدُّ  وُجُوْهٌۚ-فَاَمَّا  الَّذِیْنَ  اسْوَدَّتْ  وُجُوْهُهُمْ۫-اَكَفَرْتُمْ  بَعْدَ  اِیْمَانِكُمْ  فَذُوْقُوا  الْعَذَابَ  بِمَا  كُنْتُمْ  تَكْفُرُوْنَ(۱۰۶)

جس دن کچھ منہ اونجالے(چمکتے) ہوں گے اور کچھ منہ کالے تو وہ جن کےمنہ کالے ہوئے (ف۱۹۵) کیا تم ایمان لا کر کافر ہوئے (ف۱۹۶) تو اب عذاب چکھو اپنے کفر کا بدلہ

(ف195)

یعنی کفّار اُن سے تو بیخاً کہا جائے گا۔

(ف196)

اس کے مخاطب یا تو تمام کفار ہیں اس صورت میں ایمان سے روز میثاق کا ایمان مراد ہے جب اللہ تعالیٰ نے اُن سے فرمایا تھا کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں سب نے ” بَلٰی” کہا تھا اور ایمان لائے تھے اب جو دُنیا میں کافر ہوئے تو اُن سے فرمایا جاتا ہے کہ روز میثاق ایمان لانے کے بعد تم کافر ہوگئے حسن کا قول ہے کہ اس سے منافقین مراد ہیں جنہوں نے زبان سے اظہار ایمان کیا تھا اور ان کے دل مُنکر تھے عِکْرَمہ نے کہا کہ وہ اہل کتاب ہیں جو سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بعثت کے قبل تو حضور پر ایمان لائے اور حضور کے ظہور کے بعد آپ کا انکا ر کرکے کافر ہوگئے ایک قول یہ ہے کہ اس کے مخاطب مرتدین ہیں جو اسلام لا کر پھر گئے اور کافر ہوگئے۔

وَ  اَمَّا  الَّذِیْنَ  ابْیَضَّتْ  وُجُوْهُهُمْ  فَفِیْ  رَحْمَةِ  اللّٰهِؕ-هُمْ  فِیْهَا  خٰلِدُوْنَ(۱۰۷)

اور وہ جن کے منہ اونجالے(روشن) ہوئے (ف۱۹۷) وہ اللہ کی رحمت میں ہیں وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے

(ف197)

یعنی اہل ایمان کہ اس روز بکرمہٖ تعالیٰ و ہ فرحان و شاداں ہوں گے اور اُن کے چہرے چمکتے دمکتے ہوں گے داہنے بائیں اور سامنے نُور ہوگا۔

تِلْكَ  اٰیٰتُ  اللّٰهِ  نَتْلُوْهَا  عَلَیْكَ  بِالْحَقِّؕ-وَ  مَا  اللّٰهُ  یُرِیْدُ  ظُلْمًا  لِّلْعٰلَمِیْنَ(۱۰۸)

یہ اللہ کی آیتیں ہیں کہ ہم ٹھیک ٹھیک تم پر پڑھتے ہیں اور اللہ جہان والوں پر ظلم نہیں چاہتا(آیت ۱۰۸)(ف۱۹۸)

(ف198)

اور کسی کو بے جرم عذاب نہیں دیتا اور کسی کی نیکی کا ثواب کم نہیں کرتا۔

وَ  لِلّٰهِ  مَا  فِی  السَّمٰوٰتِ  وَ  مَا  فِی  الْاَرْضِؕ-وَ  اِلَى  اللّٰهِ  تُرْجَعُ  الْاُمُوْرُ۠(۱۰۹)

اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہی کی طرف سب کاموں کی رجوع ہے

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.