تحریر ابن طفیل الأزہری ( محمد علی)

امام حاکم کا عقیدہ اور روایت حدیث میں احتیاط

إمام حاکم کی جو عبارت نیچے دی گئی ہے آپ رحمہ اللہ أسکو أپنی کتاب” المدخل الی الصحیح ” ص: 110 تب لائے ہیں جب پہلے تین لوگوں کو حضور صلی الله علیہ وسلم کی جہنم والی وعید میں شامل کیا:

پہلے قسم :

جو حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف جان بوجھ کر جھوٹ منسوب کرتے ہیں.

دوسرے قسم :

إمام حاکم ہاں وہ بھی جہنم والی وعید میں شامل ہیں جو تعمد کے بغیر حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرتے ہیں .

تیسری قسم:

وہ لوگ جو کسی بھی کتاب میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث پڑھتے ہیں أور بغیر أسکی صحت و ضعف و کذب معلوم کیے بیان کرتے رہتے ہیں

لہذا آپ رحمہ اللہ کے ہاں تینوں لوگ جہنم والی وعید میں شامل ہیں.

عبارت کا ترجمہ:

یہ جو أحادیث ہم نے ذکر کی ہیں اس میں أس شخص کے لیے کافی دلائل ہیں جس کے پاس علم و تدبر ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کو أپنی أمت کے أن لوگوں کے بارے میں علم ہے جو آپکے بعد آئیں گے أور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کریں گے.

( إسکے بعد والے حصے کی عبارت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنے والے کے حکم میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین کرام أور أئمہ عظام سے بھی کافی آثار مروی ہیں جسکو ہم أپنی کتاب علل کے شروع میں بیان کریں گے)

نوٹ:

إمام حاکم نے جو دوسرے قسم کے لوگوں کو وعید میں شامل کیا ہے ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو جاہل ہیں یا حکم حدیث سے واقف نہیں رہی بات محدثین کی تو أنکی خطأ اجتہاد کے تحت آئے گی جو کہ معاف ہے یا اس أصول کے تحت کہ ہم نے سند بیان کردی ہے آپ اس سند کو پڑھ کر حدیث کی صحت و ضعف کو معلوم کرلیں.