بیٹے کی موت کی تمنا

حکایت نمبر205: بیٹے کی موت کی تمنا

حضرتِ سیِّدُنامحمد بن خَلَف وَکِیْع علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں:”حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم حَرْبی علیہ رحمۃ اللہ القوی کاگیارہ سالہ اِکلوتا بیٹاحافظِ قرآن ،دینی مسائل سے واقف،بہت ہی فرمانبردار اور ذہین تھا۔ اچانک اس کا انتقال ہوگیا۔ میں نے تعزیت کی تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا:” میں توخود اس کی موت کا مُتَمَنِّیْ(یعنی تمناکرنے والا)تھا۔ ‘ ‘ میں نے کہا:” آپ صاحبِ علم ہوکر اپنے فرمانبردار اور ذہین بیٹے کے بارے میں ایسی باتیں کر رہے ہیں! حالانکہ وہ تو قرآن وحدیث اور فقہ کا جاننے والاتھا ۔”

فرمایا:”میں نے خواب دیکھا کہ قیامت بر پا ہوگئی ۔اور میدانِ مَحشر میں گرمی اپنی انتہاکوپہنچ چکی تھی ۔ چھوٹے چھوٹے بچے اپنے ہاتھوں میں پیالے لئے، بڑھ بڑھ کر لوگوں کو پانی پلا رہے ہیں ۔ میں نے ایک بچے سے کہا:” بیٹا! مجھے بھی پانی پلاؤ۔” بچے نے میری طرف دیکھ کر کہا:” تم میرے والد نہیں ہو، (میں تمہیں پانی نہیں پلا سکتا ) ۔” میں نے پوچھا :”تم کون ہو ”؟کہا: ”ہمارا انتقال چھوٹی عمر میں ہوگیا تھااور ہم اپنے والدین کو دنیا میں چھوڑ کر یہاں آگئے۔ اب ان کے انتظار میں ہیں کہ وہ کب ہمارے پاس آتے ہیں؟” جب وہ آتے ہیں توہر بچہ اپنے والدین کو پانی پلاتا ہے ۔” خواب بیان کرنے کے بعد حضرت سیِّدُنا ابراہیم حَرْبی علیہ رحمۃ اللہ القوی نے فرمایا:” میں اسی لئے اپنے بیٹے کی موت کا متمنی تھا ۔”(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.