سحری اور افطاری

سحر کیا ہے؟: سحر کا معنی ہے ’’پوشیدگی‘‘ جادو اور سینے کو اسی لئے سحر کہتے ہیں کہ وہ چھپے ہوتے ہیں، صبحِ صادق کو بھی سحر کہنے کی یہی وجہ ہے کہ اس وقت کی روشنی رات کی تاریکی میں چھپی ہوتی ہے۔

وقتِ سحر گریہ و زاری: اللہ تبارک و تعالیٰ نے کلامِ مجید میں ارشاد فرمایا ’’وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ‘‘ اور پچھلے پہر معافی مانگنے والے۔ بعض مفسرین نے فرمایاکہ اس آیت سے نمازِ تہجد پڑھنے والے مراد ہیںاور بعض کے نزدیک اس سے وہ لوگ مراد ہیں جو صبح اٹھ کر استغفار پڑھیں۔ چوں کہ اس وقت دنیوی شور کم ہوتا ہے، دل کو سکون ہوتا ہے، رحمت الٰہی کا نزول ہوتا ہے۔ اس لئے اس وقت توبہ و استغفار، دعاء وغیرہ بہتر ہے۔

سحر کے وقت توبہ و استغفار کرنا اللہ کے برگزیدہ بندوں کی عادتِ کریمہ رہی ہے۔ روزانہ کی مصروفیتوں کی وجہ ہے ہمیں سحر کے وقت اٹھنے کا موقعہ نہیں ملتا کہ ہم اس وقت بارگاہِ صمدیت میں استغفار کریں لیکن ماہِ رمضان المبارک میں روزانہ سحری کے لئے ہم بیدار ہوتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ کم از کم دو رکعت نفل ادا کر کے بارگاہِ رب العزت میں سر بسجود ہو جائیں اور استغفار کر کے سحر کے وقت مغفرت طلب کرنے والوں میں شامل ہو جائیں۔

توبہ اور دعاء کی قبولیت کے اوقات: میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! سال بھر میں بعض اوقات ایسے ہوتے ہیں جب اللہ کی رحمت پکارتی ہے کہ ہے کوئی پکارنے والا کہ اس کی پکار سُنی جائے، ان اوقات میں فوراً دعاء قبول کی جاتی ہے۔ ان اوقات میں رات کا پچھلا پہر بھی ہے جسے عموماً تہجد کا وقت کہا جاتا ہے۔ اس وقت بھی اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کی دعاء قبول فرماتا ہے اور یہ وقت قبولیتِ دعاء کا خاص وقت ہے۔ جیسا کہ اللہ کے پیارے حبیب صاحبِ لولاکﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تبارک و تعالیٰ رات کے آخری تہائی حصہ میں آسمانِ دنیا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور فرماتا ہے ’’ہے کوئی مانگنے والا جس کو میں عطا کروں، ہے کوئی دعاء کرنے والا جس کی دعاء میں قبول کروں، ہے کوئی بخشش طلب کرنے والا جس میں بخش دوں‘‘ حتی کی صبح ہو جاتی ہے۔

تہجد بھی پڑھ لیں: میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! نمازِ تہجد حضور رحمتِ عالم ا کی نہایت ہی پسندیدہ سنت ہے، آپ نے اس پر دوام برتا ہے اور نہایت ہی پابندی کے ساتھ اس کو ادا فرمایا ہے۔ ویسے تو ہمیں بھی اس سنت کی پابندی کرنے کی ہمیشہ کوشش کرنی چاہئے لیکن ماہِ رمضان المبارک میں اس کی ادائیگی کا ہمارے پاس بہترین ذریعہ ہے اور وہ یہ کہ سحری کرنے کے لئے جب ہم اٹھتے ہیں اس سے چند منٹ پہلے اٹھ کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نمازِ تہجد کی چند رکعات کا ہدیہ پیش کردیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی برکت ضرور حاصل ہوگی۔

تہجد کا معنیٰ: لفظِ تہجد ’’ہَجْدٌ‘‘ یا ’’ہُجُوْدٌ‘‘ سے بنا ہے، جس کا معنیٰ ہے ’’کچھ دیر سونا‘‘ بابِ تَفَعُّل میں آکر اس میں سلبیت کا معنی پیدا ہوگیا، جس کی وجہ سے اس میں ترکِ نیند یعنی جاگنے کا معنی پیدا ہوگیا ہے۔ اس معنی کے لحاظ سے نمازِ تہجد کو تہجد اس لئے کہیں گے کہ وہ نیند سے بیدار ہو کر پڑھی جاتی ہے یعنی اس کا وقت ایک نیند سونے کے بعد ہوتا ہے۔

نمازِ تہجد کی رکعات کی تعداد: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے نمازِ تہجد (کی رکعات) کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا دو دو رکعت پڑھو۔حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا گیا دو دو رکعت کا کیا مطلب ہے تو انہوں نے فرمایا ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیر دو۔

میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! اللہ کے پیارے حبیب، رحمتِ عالمﷺ نے مذکورہ حدیث میں رکعات کی تعداد کو کسی عدد کے ساتھ مقید نہ فرمایا فقط اتنی وضاحت فرمائی کہ دو دو رکعت پڑھی جائے، کم از کم ہمیں دو رکعت تو پڑھ ہی لینی چاہئے اور اگر اللہ توفیق دے تو چار، چھ، آٹھ یا جتنی رکعات ممکن ہوں پڑھ لیں۔

نمازِ تہجد کا فائدہ: میرے پیارے آقاﷺ کے پیارے دیوانو! تہجد کی نماز اگر ہم نماز سے فجر سے کچھ دیر پہلے پڑھیں تو اس کا ہمیں ایک بہت ہی اہم فائدہ میسر آئے گا۔ وہ یہ کہ وہ وقت فرشتوں کی ڈیوٹی کے بدلنے کا ہوتا ہے، کیوں کہ کچھ فرشتے صبح فجر سے عصر تک زمین پر رہتے ہیں اور کچھ فرشتے عصر سے فجر تک۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے جہاں نماز کی محافظت کا ذکر فرمایا وہاں نمازِ عصر کی خصوصیت فرمائی جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے ’’حَافِظُوْا عَلَی الصَّلَوَاتِ وَ الصَّلٰوۃِ الْوُسْطَی‘‘ نماز کی محافظت کرو اور خصوصا بیچ والی (عصر) کی۔ تو جب ہم تہجد کی نماز پڑھیں گے تو دن اور رات دونوں والے فرشتے ہمیں مصروفِ عبادت دیکھیں گے اور دونوں کے رجسٹر میں ہماری عبادت لکھی جائے گی۔ جیسا کہ نبی کریم ا نے ارشاد فرمایا ’’فَاِنَّ صَلٰوۃَ آخِرِ اللَّیْلِ مَشْہُوْدَۃٌ‘‘ آخر شب میں جو نماز پڑھی جائے وہ فرشتوں کی حاضری کا وقت ہے۔

تہجد کی رکعات کو لمبی کرو: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ نماز زیادہ فضیلت والی ہے جس میں قیام لمبا ہو۔

سحری بھی سنتِ رسول ﷺ ہے: سحری کھانا حضورﷺ کی سنت ہے سحری روزہ رکھنے کے وقت سے پہلے آخری وقت میں کھائی جائے۔ نبی کریمﷺ نے اس کی تاکید فرمائی ہے جیسا کہ حضرت انس ابن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’سحری کیا کرو کیوں کہ سحری میں برکت ہے‘‘ (بخاری شریف، ص:۲۵۷)

دوسری حدیث میں آقائے نامدار، مدینے کے تاجدارﷺ نے اس طرح فرمایا کہ ہمارے اور اہلِ کتاب کے روزوں کے درمیان فرق سحری کھانے میں ہے۔ (ابودائود، ترمذی)

ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے فرشتے سحری کھانے والوں پر درود بھیجتے ہیں۔

اسی طرح اللہ کے پیارے حبیب ﷺ نے ارشاد فرمایا دوپہر کو تھوڑی دیر آرام کر کے قیامِ لیل میں سہولت حاصل کرو اور سحری کھا کر دن میں روزے کے لئے قوت حاصل کرو۔

روزہ کی نیت: کھانے پینے وغیرہ سے رک جانا کبھی کبھی عادۃ اور کبھی بھوک کے نہ ہونے کی بناء پر اور کبھی مرض کی وجہ سے اور کبھی ریاضت کی بناء پر اور کبھی عبادت کے طور پر ہوتا ہے، اس لئے ضروری ٹھہرا کہ روزہ رکھتے وقت روزہ کی نیت کر لے تاکہ خالص عبادت متعین ہو جائے۔

نیت دل کے ارادہ کو کہتے ہیں، اگر کسی نے دل سے پکا ارادہ کر لیا کہ میں روزہ رکھ رہا ہوں تو اتنا کافی ہے لیکن زبان سے ان الفاظ کا دہرا لینا بھی بہتر ہے ’’نَوَیْتُ اَنْ اَصُوْمَ غَداً لِلّٰہِ تَعَالٰی مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ ہٰذَا‘‘ میں نے یہ ارادہ کیا کہ کل روزہ رکھوں اللہ تعالیٰ کے لئے اس رمضان المبارک کا۔

مولانا محمد شاکر علی رضوی نوری