لَوۡلَا يَنۡهٰٮهُمُ الرَّبَّانِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ‌ؕ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ ۞- سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 63

أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَوۡلَا يَنۡهٰٮهُمُ الرَّبَّانِيُّوۡنَ وَالۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِهِمُ الۡاِثۡمَ وَاَكۡلِهِمُ السُّحۡتَ‌ؕ لَبِئۡسَ مَا كَانُوۡا يَصۡنَعُوۡنَ ۞

ترجمہ:

ان کے راہب اور پادری انہیں گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے ‘ یہ جو کچھ کر رہے ہیں یہ بہت برے کام ہیں۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کے راہب اور پادری انہیں گناہ کی بات کہنے اور حرام کھانے سے کیوں نہیں روکتے ‘ یہ جو کچھ کر رہے ہیں یہ بہت برے کام ہیں۔ (المائدہ : ٦٣) 

نیکی کا حکم نہ دینے اور برائی سے نہ روکنے کی مذمت :

گناہ کی بات کہنے سے مراد جھوٹ بولنا ہے۔ وہ ایمان نہیں لائے تھے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہتے تھے ہم ایمان لائے ہیں اور یہ جھوٹ ہے اور تورات میں جھوٹ بولنے سے منع فرمایا ہے۔ اسی طرح وہ رشوت لے کر جھوٹے فیصلے کرتے تھے ‘ اور اس سے بھی تورات میں منع کیا گیا ہے اور ان کے علماء اس سے بھی منع نہیں کرتے تھے اور گناہ کرنے کی بہ نسبت گناہ سے منع نہ کرنا زیادہ مذموم ہے ‘ کیونکہ گناہ کرنے والا گناہ سے لذت حاصل کرتا ہے ‘ اس لیے گناہ کرتا ہے اور گناہ سے منع نہ کرنا محض گناہ بےلذت ہے ‘ اس لیے اس کی زیادہ مذمت ہے۔ اس آیت میں یہودیوں کے ان علماء کی مذمت کی ہے جو ان کو گناہوں سے نہیں روکتے تھے۔ 

حسن بصری نے کہا ہے کہ ربانیوں سے مراد عیسائیوں کے علماء ہیں ‘ اور احبار سے مراد یہود کے علماء ہیں اور ایک قول یہ ہے کہ دونوں لفظوں سے مراد یہودی ہیں ‘ کیونکہ یہ آیات یہودیوں کے متعلق ہیں۔ ایک لفظ سے مراد یہود کے یہود کے درویش ہیں اور دوسرے لفظ سے مراد یہود کے علماء ہیں۔ علامہ ابن جوزی نے نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا علماء کی تنبیہ کے باب میں یہ سب سے سخت آیت ہے۔ ضحاک نے کہا کہ قرآن مجید کی جس آیت سے سب سے زیادہ خوف پیدا ہوتا ہے۔ وہ یہی آیت ہے۔ کیونکہ جو شخص نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے میں سستی اور کوتاہی کرے ‘ اس کو اور برے کام کرنے والے شخص ‘ دونوں کی مذمت کو اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جمع فرمادیا ہے۔ (زاد المسیر ‘ ج ٢‘ ص ٣٩١) 

نیکی کا حکم نہ دینے اور برائی سے نہ روکنے پر وعید کی احادیث : 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ نے ایک فرشتہ کی طرف وحی کی کہ فلاں فلاں بستی والوں پر ان کی بستی کو الٹ دو ۔ اس نے کہا اس بستی میں ایک بندہ ہے جس نے ایک پل بھی تیری نافرمانی نہیں کی۔ اللہ نے فرمایا اس بستی کو اس شخص پر اور بستی والوں پر الٹ دو ‘ کیونکہ میری وجہ سے اس شخص کا چہرہ ایک دن بھی غصہ سے متغیر نہیں ہوا۔ اس حدیث کے دو راویوں کی تضعیف کی گئی ہے۔ لیکن ابن المبارک اور ابو حاتم نے ان کی توثیق کی ہے (مجمع الزوائد ‘ ج ٧‘ ص ٢٧٠‘ المعجم الاوسط ‘ ج ٨‘ رقم الحدیث : ٧٦٥٧‘ مطبوعلہ مکتبہ المعارف ‘ ریاض ‘ ٤١٥ ھ) 

امام ابوعیسی محمد بن عیسیٰ ترمذی متوفی ٢٧٩ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوبکرصدیق (رض) نے فرمایا اے لوگو ! تم یہ آیت پڑھتے ہو ‘ اے ایمان والو ! تم اپنی جانوں کی فکر کرو ‘ جب تم ہدایت پر ہو گے تو کسی کی گمراہی تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکے گی (المائدہ : ١٠٥) اور میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب لوگ ظالم کو دیکھ کر اس کے ہاتھ نہ پکڑیں تو عنقریب اللہ ان سب کو عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ یہ حدیث صحیح ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٧٥‘ سنن ابوداؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٣٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٥‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠‘ ١٦‘ طبع دارالفکر بیروت و دارالحدیث قاہرہ ‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٧‘ ٥‘ ٢‘ طبع قدیم صحیح ابن حبان ‘ ج ١‘ رقم الحدیث : ٣٠٥‘ ٣٠٤‘ سنن کبری ‘ للبہیقی ‘ ج ١٠‘ ص ٩١) 

حضرت حذیفہ بن یمان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے ‘ تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے روکتے رہنا ‘ ورنہ عنقریب اللہ تم پر عذاب بھیج دے گا ‘ پھر تم دعا کرو گے تو تمہاری دعا قبول نہیں ہوگی ‘ یہ حدیث حسن ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٧٦‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٣٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٥) 

حضرت طارق بن شہاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ‘ کہ تم میں سے جو شخص کسی برائی کو دیکھے تو وہ اس کو اپنے ہاتھ سے بدل دے ‘ اور جو اس کی طاقت نہ رکھے تو زبان سے بدلے اور جو اس کی طاقت نہ رکھے ‘ وہ اس کو دل سے بدلے اور یہ سب سے کمزور ایمان ہے۔ (صحیح مسلم ‘ ایمان ‘ ٧٨‘ (٤٩) ١٧٥‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١١٤٠‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٧٩‘ سنن نسائی ‘ رقم الحدیث :‘ ٥٠٢٣‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٢٧٥۔ ٤٠١٣‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ ص ٥٢ ‘۔ ١٠ طبع قدیم ‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١٠ ص ٩٠) 

حضرت نعمان بن بشیر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ کی حدود قائم کرنے والے اور اللہ کی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے (ترمذی کی روایت میں ہے اور اللہ کی حدود میں مداہنت ‘ یعنی سستی اور نرمی کرنے والے) کی مثال اس طرح ہے کہ ایک قوم نے کشتی میں بیٹھنے کے لیے قرعہ اندازی کی ‘ بعض لوگوں کے نام اوپر کی منزل کا قرعہ نکلا اور بعض لوگوں کے نام نچلی منزل کا ‘ نچلی منزل والے پانی لینے کے لیے اوپر کی منزل پر گئے۔ پھر انہوں نے کہا : اگر تم کشتی کے پیندے میں سوراخ کرکے سمندر سے پانی لے لیں تو اوپر کی منزل والوں کو زحمت نہیں ہوگی۔ اگر اوپر کی منزل والوں نے ان کو اپنا ارادہ پورا کرنے کے لیے چھوڑ دیا تو سب ڈوب کر ہلاک ہوجائیں گے اور اگر ان کے ہاتھوں کو سوراخ کرنے سے روک لیا تو وہ بھی نجات پالیں گے اور نچلی منزل والے بھی۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٢٤٩٣‘ ٢٦٨٦‘ سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٢١٨٠‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٢٩٧‘ مسند احمد ‘ ج ٦‘ رقم الحدیث :‘ ١٨٣٨٩‘ طبع دارالفکر ‘ ج ٤‘ ص ٢٧٣‘ ٢٧٠‘ ٢٦٨‘ طبع قدیم ‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١٠‘ ص ٢٨٨‘ ٩١) 

حضرت جریر (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس قوم میں گناہوں کے کام کیے جا رہے ہوں اور وہ ان گناہوں کو مٹانے کی قدرت رکھتے ہوں ‘ اور پھر نہ مٹائیں تو اللہ ان کو مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ اس حدیث کے تمام راوی ثقہ ہیں ‘ اور اس کی سند حسن ہے۔ (صحیح ابن حبان ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٠‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٣٩‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٩‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ٣٦٦۔ ٣٦٤‘ قدیم المعجم الکبیر للطبرانی ‘ ج ٢ رقم الحدیث : ٢٣٨٣‘ ٢٣٨٢) 

ایک روایت میں ہے جس قوم میں گناہ کیے جائیں وہ قوم زیادہ اور غالب ہو پھر بھی مداہنت کرے اور خاموش رہے اور برائی کو بدلنے کی کوشش نہ کرے ‘ تو پھر ان سب پر عذاب آئے گا۔ (المعجم الکبیر ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٢٣٨٥۔ ٢٣٨١۔ ٢٣٨٠‘ مسند احمد ‘ ج ٤‘ ص ٣٦٣۔ ٣٦١‘ طبع قدیم ‘ سنن کبری للبیہقی ‘ ج ١٠‘ ج ٩١) 

حضرت ابو سعید خدری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سب سے بڑا جہاد یہ ہے کہ ظالم بادشاہ کے سامنے انصاف کی بات بیان کی جائے۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (سنن ترمذی ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث : ٢١٨١‘ سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ٤٣٤٤‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠١١‘ مسند البزار ‘ رقم الحدیث :‘ ٣٣٣١٣‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٧‘ ص ٢٧٢) 

امام ابو داؤد سلیمان بن اشعث متوفی ٢٧٥ ھ روایت کرتے ہیں :

حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بنو اسرائیل میں سب سے پہلی خرابی یہ واقع ہوئی کہ ایک شخص دوسرے شخص سے ملاقات کرکے یہ کہتا ‘ اے شخص اللہ سے ڈر ‘ اور جو کام تو کر رہا ہے اس کو چھوڑ دے۔ کیونکہ یہ کام تیرے لیے جائز نہیں ہے۔ پھر جب دوسرے دن اس سے ملاقات کرتا ‘ تو اس کا وہ کام اس کو اس کے ساتھ کھانے پینے اور اٹھنے بیٹھنے سے منع نہ کرتا ‘ جب انہوں نے اس طرح کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دل ایک جیسے کردیئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا بنو اسرائیل میں سے جنہوں نے کفر کیا ‘ ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی ‘ کیونکہ انہوں نے نافرمانی کی اور وہ حد سے تجاوز کرتے تھے۔ وہ ایک دوسرے کو ان برے کاموں سے نہیں روکتے تھے جو وہ کرتے تھے اور جو کچھ وہ کرتے تھے ‘ وہ بہت برا کام تھا (المائدہ : ٧٩۔ ٧٨) پھر آپ نے فرمایا ہرگز نہیں بخدا تم ضرور نیکی کا حکم دیتے رہنا اور برائی سے روکتے رہنا اور تم ضرور ظلم کرنے والے کے ہاتھوں کو پکڑ لینا اور تم اس کو ضرور حق پر عمل کے لیے مجبور کرنا ‘ ورنہ اللہ تمہارے دل بھی ایک جیسے کر دے گا ‘ پھر تم پر بھی اسی طرح لعنت کرے گا جس طرح ان پر لعنت کی تھی۔ (سنن ابو داؤد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث : ٤٣٣٧۔ ٤٣٣٦‘ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن غریب ہے ‘ سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٥٩‘ ٣٠٥٨‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٤٠٠٦‘ مسند احمد ‘ ج ١‘ ص ٣٩١‘ طبع قدیم ‘ امام احمد کی سند میں انقطاع ہے ‘ اس لیے یہ سند ضعیف ہے ‘ مسند احمد بتحقیق احمد شاکر ‘ ج ٤‘ رقم الحدیث :‘ ٣٧١٣‘ طبع دارالحدیث قاہرہ المعجم الاوسط ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ٥٢٣‘ حافظ الہیثمی نے کہا ہے کہ امام طبرانی کی سند کے سند کے تمام راوی صحیح ہیں ‘ مجمع الزوائد ‘ ج ٧‘ ص ٢٦٩ )

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 63

2 comments

جواب دیجئے

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.