الفصل الثالث

تیسری فصل

حدیث نمبر :481

روایت ہے بنی عبدالاشہل کی ایک بی بی صاحبہ سے ۱؎ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یارسول اﷲ ہمارا مسجد کا راستہ غلیظ ہے جب بارش ہو تو ہم کیا کریں۲؎ فرمایا کیا اس کے بعد اس سے اچھا راستہ نہیں ہے میں بولی ہاں فرمایا تو وہ اس کے بدلے میں ہے ۳؎ (ابوداؤد)

شرح

۱؎ ان بی بی صاحبہ کا نام نہ معلوم ہوسکا نہ حالات زندگی مگر چونکہ صحابیہ ہیں لہذا یہ بے علمی مضر نہیں کیونکہ تمام صحابہ عادل ہیں،رب فرماتا ہے :”وَکُلًّا وَّعَدَ اللہُ الْحُسْنٰی”۔

۲؎ یعنی خشک زمانہ میں وہاں گزرنا بھی آسان اور اس کی گندگی جوتوں کو لگتی بھی نہیں مگر بارش میں گندگیاں جوتوں کو لگ جاتی ہیں اس صورت میں جوتے ناپاک ہوں گے یا پاک۔

۳؎ اس کا مطلب پہلے بیان ہوچکا کہ اگر جسم والی تر نجاستیں جوتے یا چمڑے کے موزے کو لگ جائیں تو وہ خشک مٹی سے رگڑ کر پاک ہوجاتے ہیں وہی یہاں مراد ہے۔ پیشاب،پتلی نجاستیں بغیر دھلے پاک نہیں ہوسکتیں، نیز کرتے کے دامن یا پائجامہ بغیر دھلے پاک نہ ہوں گے۔ لہذا یہ حدیث واضح ہے فقہی مسئلہ اس کے خلاف نہیں۔