أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَقَالَتِ الۡيَهُوۡدُ يَدُ اللّٰهِ مَغۡلُوۡلَةٌ‌ ؕ غُلَّتۡ اَيۡدِيۡهِمۡ وَلُعِنُوۡا بِمَا قَالُوۡا‌ ۘ بَلۡ يَدٰهُ مَبۡسُوۡطَتٰنِ ۙ يُنۡفِقُ كَيۡفَ يَشَآءُ‌ ؕ وَلَيَزِيۡدَنَّ كَثِيۡرًا مِّنۡهُمۡ مَّاۤ اُنۡزِلَ اِلَيۡكَ مِنۡ رَّبِّكَ طُغۡيَانًا وَّكُفۡرًا‌ ؕ وَاَ لۡقَيۡنَا بَيۡنَهُمُ الۡعَدَاوَةَ وَالۡبَغۡضَآءَ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ‌ ؕ كُلَّمَاۤ اَوۡقَدُوۡا نَارًا لِّلۡحَرۡبِ اَطۡفَاَهَا اللّٰهُ‌ ۙ وَيَسۡعَوۡنَ فِى الۡاَرۡضِ فَسَادًا‌ ؕ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الۡمُفۡسِدِيۡنَ ۞

ترجمہ:

اور یہود نے کہا اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ‘ خود ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کے اسی قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں، اور جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے، اور آپ پر جو کلام آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کے کفر اور سرکشی کو زیادہ کرے گا، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور بغض کو ڈال دیا ہے، وہ جب بھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے، وہ زمین میں فساد پھیلانے کی تگ ودو کر رہے ہیں، اور اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور یہود نے کہا اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ‘ خود ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور ان کے اسی قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی، بلکہ اس کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں، اور جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ (المائدہ : ٦٤) 

مناسبت اور شان نزول : 

اس سے پہلے اللہ تعالیٰ یہود کی برائیاں اور ان کے گناہ ذکر فرمائے تھے کہ وہ گناہ اور سرکشی میں تیزی سے دوڑتے ہیں حرام کھاتے ہیں اور حلال اور حرام کی تمیز کے بغیر مال حاصل کرکے جمع کرکے جمع کرتے ہیں۔ اس آیت میں ان کی سب سے بڑی برائی اور سب سے بڑا کفر بیان کیا ‘ کہ انہوں نے اللہ عزوجل کی طرف بخل کو منسوب کیا ‘ اور یہ ایسی جرات ہے جس کا ارتکاب کوئی صاحب عقل نہیں کرسکتا ‘ ہم اس قول سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ ایسی نسبت سے پاک ‘ بلند اور برتر ہے۔ 

امام ابوالقاسم سلیمان بن احمد طبرانی متوفی ٣٦٠ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ یہود میں سے ایک شخص نباش بن قیس تھا۔ اس نے کہا آپ کا رب بخیل ہے ‘ خرچ نہیں کرتا۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور یہود نے کہا اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں (المعجم الکبیر ‘ ج ١٢ رقم الحدیث : ١٢٤٩٧‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت) 

ہر چند کہ کسی ایک یہودی نے یہ خبیث قول کہا تھا ‘ لیکن چونکہ باقی یہود میں سے کسی نے اس قول سے برات کا اظہار نہیں کیا اور اس کا رد نہیں کیا اس لیے پوری قوم یہود کی طرف اس قول کی نسبت فرمائی۔ 

امام ابن جریر نے لکھا ہے کہ عکرمہ نے کہا ہے کہ یہ آیت فخ اس یہودی کے متعلق نازل ہوئی ہے۔ (جامع البیان ‘ جز ٦ ص ٤٠٥‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ) 

ایک قول یہ ہے کہ جب یہود نے دیکھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اصحاب کے پاس دنیاوی مال نہیں ہے اور اکثر مسلمان فقر اور فاقہ میں مبتلا ہیں ‘ اور انہوں نے یہ آیت سنی :

(آیت) ” من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا “۔ (الحدید : ١١) 

ترجمہ : کوئی ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے۔ 

تو انہوں نے کہا کہ (سیدنا) محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خدا فقیر ہے اور بسا اوقات کہا بخیل ہے ‘ اور اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا ہے کہ یہود نے کہا اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ اس کا یہی معنی ہے ‘ کیونکہ جو شخص خرچ نہ کرے اس کے متعلق کہا جاتا ہے اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک “۔ (الاسراء : ٢٩) 

ترجمہ : اور نہ رکھ اپنا ہاتھ اپنی گردن سے بندھا ہوا۔ 

ان کا یہ مقصد نہیں تھا کہ اللہ کا ہاتھ بندھا ہوا ہے۔ لیکن ان کا مقصد یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر رزق کے ذرائع بند کردیئے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس افتراء کا رد کرتے ہوئے فرمایا : خود ان کے ہاتھ بندے ہوئے ہیں۔ اس کی ایک تفسیر یہ کی گئی ہے کہ اس آیت میں ہماری زبانوں سے ان کے خلاف دعا ضرر فرمائی ہے ‘ یعنی ان کے ہاتھ باندھ دیئے جائیں۔ ان کے اس قول کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ‘ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ‘ وہ اس بخل کی وجہ سے ہر خیر سے محروم ہیں۔ ان سے کسی کو خیر حاصل نہیں ہوسکتی اور وہ اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ بخیل ہیں۔ غل کا معنی طوق بھی ہے ‘ سو اس کا یہ معنی ہے کہ دنیا میں اس پر قید وبند کا طوق ڈال دیا گیا ‘ اور آخرت میں ان پر جہنم میں طوق ڈال دیا جائے گا۔ 

یداللہ (اللہ کا ہاتھ) کا معنی :

انگلیوں سے لے کر پہنچے تک کہ عضو کو ید کہتے ہیں ‘ بلکہ کندھے تک کے عضو کو بھی ید (ہاتھ) کہا جاتا ہے اور مجازا ید کا اطلاق نعمت پر بھی ہوتا ہے۔ کہتے ہیں کہ فلاں کا مجھ پر ہاتھ ہے ‘ یعنی اس کا احسان اور نعمت ہے اور عطا کرنے اور خرچ کرنے پر بھی ید کا اطلاق ہوتا ہے ‘ جیسے کہتے ہیں فلاں کا ہاتھ بہت کشادہ ہے اور ید کا اطلاق قدرت پر بھی ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے (آیت) ” اولی الایدی والابصار “ (ص : ٤٥) وہ قدرت والے اور بصیرت والے ہیں۔ انہوں نے جو کہا تھا کہ اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ‘ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ اللہ نے ان پر عطا کرنے اور خرچ کرنے کے دروازے بند کیے ہوئے ہیں اور ان کو رزق نہیں دیا۔ ان کا یہ قول بخل سے کنایہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا خود ان کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ‘ یعنی وہ نیکی اور کار خیر سے روکے ہوئے ہیں ‘ اور وہ کائنات میں سب سے زیادہ بخیل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا بلکہ ان کے دونوں ہاتھوں سے خرچ کرنا بہت زیادہ سخاوت پر دلالت کرتا ہے ‘ تمام چیزوں کے خزانے اور ہر قسم کی نعمتیں اس کے پاس ہیں اور وہ اپنی تمام مخلوق کو عطا فرما دیا ہے۔ 

قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” واتکم من کل ما سالتموہ وان تعدوا نعمت اللہ لا تحصوھا ان الانسان لظلوم کفار “۔ (ابراھیم : ٣٤) 

ترجمہ : اور اس نے تم کو تمہاری ہر سوال کی ہوئی چیز عطا فرمائی اور اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرو تو ان کو شمار نہ کرسکو گے ‘ بیشک انسان بڑا ظالم ناشکرا ہے۔ 

(آیت) ” واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ وباطنۃ “۔ (لقمان : ٢٠) 

ترجمہ : اور اس نے اپنی ظاہری اور باطنی نعمتیں تم پر پوری کردیں۔ 

امام محمد بن اسماعیل بخاری متوفی ٢٥٦ ھ روایت کرتے ہیں : 

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ عزوجل فرماتا ہے خرچ کرو ‘ میں تم پر خرچ کروں گا اور فرمایا اللہ کے دونوں ہاتھ بھرے ہوئے ہیں ‘ رات اور دن میں ہمیشہ خرچ کرنے سے اس کے خزانے میں کمی نہیں ہوتی اور فرمایا یہ بتاؤ جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا ہے ‘ وہ خرچ کر رہا ہے اور اس کے خزانے میں کوئی کمی نہیں ہوئی اور اس کا عرش پانی پر ہے اور اس کے ہاتھ میں میزان ہے ‘ جس کو وہ پست کرتا ہے اور بلند کرتا ہے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث اس آیت کی تفسیر ہے۔ (صحیح البخاری ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٤٦٨٤‘ صحیح مسلم ‘ زکوۃ ٣٧‘ (٩٩٣) ٢٢٧١‘ سنن ترمذی ‘ ج ٥‘ رقم الحدیث :‘ ٣٠٥٦‘ سنن ابن ماجہ ‘ ج ١‘ رقم الحدیث :‘ ١٩٧‘ صحیح ابن حبان ‘ ج ٢‘ رقم الحدیث :‘ ٧٢٥‘ مسند احمد ‘ ج ٢‘ ص ٥٠٠‘ ٣١٣۔ ٢٤٢‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد ‘ ج ٣‘ رقم الحدیث :‘ ١٠٥٠٥‘ دارالفکر ‘ الاسماء والصفات للبیہقی ‘ ص ٣٢٨‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت)

اور اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو جو رزق کم عطا کیا ہے یا ان پر تنگی کی ہے تو وہ اس کی حکمت کے مطابق ہے ‘ اور وہ سب کا مالک علی الاطلاق ہے جس کو جتنا چاہتا ہے ‘ عطا کرتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے : 

(آیت) ” ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ لبغوا فی الارض ولکن ینزل بقدر ما یشآء انہ بعبادہ خبیربصیر “۔ (الشوری : ٢٧) 

ترجمہ : اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کے لیے رزق کشادہ کردیتا تو وہ ضرور زمین میں سرکشی کرتے ‘ لیکن وہ اندازے کے مطابق جتنا چاہتا ہے ‘ رزق اتارتا ہے۔ بیشک وہ اپنے بندوں سے خوب واقف ہے اور انہیں بہت دیکھنے والا ہے۔ 

(آیت) ” اللہ یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر “۔ (الرعد : ١٣) 

ترجمہ : اللہ جس کے لیے چاہتا ہے ‘ رزق کشادہ کرتا ہے اور (جس کے لیے چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے۔ 

قرآن مجید کی جن آیات میں اللہ تعالیٰ کے لیے ہاتھ ‘ چہرے اور پنڈلی وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے ‘ فرقہ مجسمہ ان آیات سے اللہ تعالیٰ کے لیے جسمیت ثابت کرتا تھا۔ اس فرقہ کا باطل ہونا بالکل واضح ہے ‘ کیونکہ جسم اپنے ترکب میں اپنے اجزاء کا محتاج ہوتا ہے اور محتاج خدا نہیں ہوسکتا نیز ہر جسم متناہی ہوتا ہے اور ہر متناہی حادث ہوتا ہے اور حادث خدا نہیں ہوسکتا۔ نیز ہر جسم یا متحرک ہوگا یا ساکن ہوگا اور حرکت و سکون دونوں حادث ہیں اور حادث خدا نہیں ہوسکتا۔ 

خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اعضاء اور جسم ہونے سے پاک اور منزہ ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے لیے جو ید وغیرہ کا اطلاق کیا گیا ہے۔ اس میں اہل اسلام کے حسب ذیل مذاہب ہیں۔ 

علامہ سعد الدین مسعود بن عمر تفتازانی متوفی ٧٩٣ ھ لکھتے ہیں : 

شریعت میں جن امور کا ذکر ہے ‘ مثلا استواء ‘ ید ‘ وجہ (چہرہ) عین (آنکھ) وغیرہ ان میں حق یہ ہے کہ یہ مجازات اور تمثیلات ہیں۔ یعنی جن امور کا ظاہر شرع میں ذکر ہے اور ان کا حقیقی معانی پر محمول کرنا محال ہے۔ مثلا اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ 

(آیت) ” الرحمن علی العرش استوی “۔ (طہ : ٥) 

ترجمہ : رحمن نے عرش پر استواء فرمایا : 

(آیت) ” یداللہ فوق ایدیھم “۔ (الفتح : ١٠) 

ترجمہ : ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ 

(آیت) ” مامنعک ان تسجد لما خلقت بیدی “ (ص : ٧٥) 

ترجمہ : تجھے اس کو سجدہ کرنے سے کس نے روکا جس کو میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا۔ 

(آیت) ” ویبقی وجہ ربک “۔ (الرحمن : ٢٧) 

ترجمہ : اور باقی ہے آپ کے رب کا چہرہ : 

(آیت) ” ولتصنع علی عینی “۔ (طہ : ٣٩) 

ترجمہ : تاکہ میری آنکھ کے سامنے آپ کی پرورش کی جائے۔ 

شیخ ابوالحسن اشعری نے کہا ہے یہ تمام امور اللہ تعالیٰ کی صفت زائدہ ہیں اور جمہور کے نزدیک یہ تمام اطلاق مجازی ہیں۔ استواء سے مراد غلبہ ہے یا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی عظمت کی تمثیل اور تصویر ہے اور ید سے مراد قدرت ہے اور وجہ (چہرہ) سے مراد ذات اور وجود ہے اور عین (آنکھ) سے مراد بصر ہے اور شیخ اشعری کا ایک قول بھی جمہور کے موافق ہے۔ 

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بنی ہیں ‘ پھر حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق خصوصیت سے کیوں فرمایا کہ میں نے ان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے شرف اور مرتبہ کو ظاہر کرنے کے لیے خصوصیت سے فرمایا : کہ میں نے ان کو اپنے ہاتھوں سے بنایا ‘ جس طرح بیت اللہ میں بیت کی اضافت بھی تشریف اور تکریم کے لیے ہے یا وہاں پر کمال قدرت کا اظہار مراد ہے۔ نیز علماء بیان نے یہ بھی کہا ہے کہ استواء سے مجازا غلبہ اور ید اور یمین سے مجازا قدرت اور عین سے مجازا بصر مراد لینا اللہ کی طرف تجسیم اور تشبیہ کے وہم کی نفی کرنے کے لیے ہے ‘ ورنہ ان الفاظ سے وہ معانی عقلیہ مراد ہیں جو ان کے مقابلہ میں صور حسیہ میں ہوتے ہیں۔ (شرح المقاصد ‘ ج ٥‘ ص ١٧٥۔ ١٧٤‘ مطبوعہ منشورات الرضی ‘ ایران ‘ ١٤٠٩ ھ) 

علامہ میرسید شریف علی بن محمد جرجانی متوفی ٨١٦ ھ لکھتے ہیں : 

شیخ ابو الحسن اشعری کا ایک قول یہ ہے کہ ان امور کا ظاہری معنی مراد نہیں ہے ‘ کیونکہ وہ اللہ کے حق میں محال ہے۔ اس لیے ان سے مراد اللہ کی صفات زائدہ ہیں اور ہمیں ان کی کنہہ معلوم نہیں ہے اور دوسرا قول یہ ہے کہ اطلاقات مجازی ہیں۔ (شرح المواقف ‘ ج ٨‘ ص ١١١۔ ١١٠‘ ملخصا ‘ مطبوعہ منشورات الرضی ‘ ایران) 

امام فخرالدین محمد بن ضیاء الدین عمر رازی متوفی ٦٠٦ لکھتے ہیں : 

اللہ تعالیٰ کے لیے قرآن مجید میں جو ید کا لفظ آیا ہے ‘ اس کے متعلق جمہور مسلمین کے دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کے لیے ید کا لفظ آیا ہے۔ ہمارا اس پر ایمان ہے کہ اللہ کا ہاتھ ہے ‘ اور چونکہ عقل اس پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ کے لیے جسم اور جسمانی اعضاء محال ہیں ‘ سو ہمارا اس پر بھی ایمان ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ ہے اور اس کی حقیقت اور کنہہ ہم کو معلوم نہیں ہے ‘ سلف صالحین کا یہی عقیدہ تھا۔ دوسرا قول متکلمین کا ہے ‘ وہ کہتے ہیں کہ ید کے کئی معانی ہیں۔ ایک معنی یہ عضو مخصوص ہے ‘ یہ اللہ کے حق میں محال ہے۔ اس کو دوسرا معنی ہے نعمت۔ تیسرا معنی ہے قوت ‘ چوتھا معنی ہے ملک ‘ جیسے قرآن مجید میں ہے۔ (آیت) ” الذی بیدہ عقدۃ النکاح “ جس کی ملک میں نکاح کی گرہ ہے۔ پانچواں معنی ہے خصوصی توجہ اور خصوصیت جیسے ‘(آیت) ” لما خلقت بیدی “۔ (ص ٧٥) موخر الذکر چاروں معانی مراد لیے جاسکتے ہیں۔ اس بحث میں ایک اور قول بھی ہے اور یہ ہے کہ امام ابو الحسن اشعری نے کہا کہ ید ’ اللہ تعالیٰ کی ایک صفت ہے جو اس کی ذات کے ساتھ قائم ہے اور یہ ایک صفت ہے جو قدرت کے علاوہ ہے۔ اس کی شان سے کسی چیز کو خصوصیت کے ساتھ پیدا کرنا ہے اور اکثر علماء نے یہ کہا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے ید کا لفظ استعمال ہو تو اس سے قدرت اور نعمت مراد ہوتی ہے۔ (تفسیر کبیر ‘ ج ٣‘ ص ٤٢٨‘ ملخصا ‘ مطبوعہ دارالفکر ‘ بیروت ‘ طبع قدیم) 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور آپ پر جو کلام آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے وہ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کے کفر اور سرکشی کو زیادہ کرے گا، اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور بغض کو ڈال دیا ہے، وہ جب بھی لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اسے بجھا دیتا ہے، وہ زمین میں فساد پھیلانے کی تگ ودو کر رہے ہیں، اور اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدہ : ٦٤) 

اس آیت کا تعلق علماء یہود سے ہے ‘ کیونکہ ان کا موقف غلط اور باطل تھا۔ اس لیے اس کے رد میں قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں ‘ اور ہر آیت کے نازل ہونے کے بعد علماء یہود اس کا انکار کردیتے ‘ تو یوں قرآن مجید کے نازل ہونے سے ان کے کفر اور سرکشی میں زیادتی ہوتی رہی۔ 

علماء یہود حسد اور بعض کی وجہ سے سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا انکار کرتے تھے اور چونکہ یہ دنیاوی مال و دولت اور منصب اور عہدوں کے درپے تھے ‘ اس لیے یہود اور نصاری میں سے ہر فرقہ شدومد کے ساتھ اپنے مذہب کا پر چار کرتا تھا اور دوسرے فرقہ کا رد کرتا تھا ‘ تاکہ دنیاوی کامیابی صرف اسی کو حاصل ہو۔ اس لیے یہود اور نصاری آپس میں ایک دوسرے سے حسد اور بغض رکھتے تھے یا پھر ان کے اپنے اندر بہت فرقے تھے اور ہر فرقہ دوسرے سے بغض رکھتا تھا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عدوات اور بغض کو ڈال دیا ہے۔ 

پھر فرمایا کہ یہود جب بھی جنگ کی آگ کو بھڑکاتے ہیں ‘ اللہ اس کو بجھا دیتا ہے۔ جب انہوں نے فساد پھیلایا اور تورات کی مخالفت کی ‘ تو اللہ نے ان کے اوپر بخت نصر کو بھیج دیا ‘ انہوں نے پھر فساد کیا ‘ تو ان پر پطرس رومی کو بھیج دیا۔ انہوں نے پھر فساد پھیلایا ‘ تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مجوس کو بھیج دیا۔ انہوں نے پھر فساد پھیلایا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مسلمانوں کو بھیج دیا۔ 

قتادہ نے کہا جس وقت اللہ تعالیٰ نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مبعوث کیا تو یہ مجوس کے ہاتھوں ذلیل ہو رہے تھے۔ 

اس کے بعد فرمایا : یہ زمین میں فساد پھیلا رہے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ اسلام کو مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں اور یہ زمین میں سب سے بڑا فساد ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 64