أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ اَنَّ اَهۡلَ الۡـكِتٰبِ اٰمَنُوۡا وَاتَّقَوۡا لَـكَفَّرۡنَا عَنۡهُمۡ سَيِّاٰتِهِمۡ وَلَاَدۡخَلۡنٰهُمۡ جَنّٰتِ النَّعِيۡمِ ۞

ترجمہ:

اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے رہتے تو ہم ان کے گناہوں کو ضرور مٹا دیتے اور ہم ان کو نعمتوں کو جنتوں میں ضرور داخل کرتے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور اگر اہل کتاب ایمان لے آتے اور اللہ سے ڈرتے رہتے تو ہم ان کے گناہوں کو ضرور مٹا دیتے اور ہم ان کو نعمتوں کو جنتوں میں ضرور داخل کرتے۔ (المائدہ : ٦٥) 

اس آیت کا معنی ہے کہ اگر اہل کتاب اللہ اور اس کے رسول ‘ یعنی سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آتے اور اللہ اور اس کے رسول کا انکار کرنے اور گناہ کرنے اور سرکشی کرنے سے اللہ سے ڈرتے ‘ یعنی اللہ کی کتاب میں لفظی اور معنوی تحریف نہ کرتے ‘ رشوت لے کر حرام مال نہ کھاتے تو ہم نہ صرف یہ کہ ان کے گناہوں کو مٹا دیتے ‘ بلکہ ان کو جنت کی نعمتوں میں اخل کردیتے۔ 

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی خرابی اور ان کے مرض کا ذکر کیا تھا ‘ اور اس آیت میں اس کے تدارک اور علاج کا ذکر فرمایا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 5 المائدة آیت نمبر 65