حدیث نمبر :479

روایت ہے حضرت میمونہ سے فرماتی ہیں کہ قریش کے کچھ لوگ حضور پر گزرے جو اپنی مری بکری کو گدھے کی طرح کھینچ رہے تھے ان سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی وہ بولے کہ یہ تو مردار ہے ۱؎ تو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے پانی اور ببول کے پتے پاک کردیتے ہیں۲؎(احمدوابوداؤد)

شرح

۱؎ انکا یہ خیال تھا کہ قرآن پاک کا فرمان “حُرِّمَتْ عَلَیۡکُمُ الْمَیۡتَۃُ”مرادکی ہرچیزکو شامل ہے کہ نہ اس کا کھاناجائزاور نہ اس کی کسی چیز کا استعمال کسی طرح حلال،اس خیال پر وہ اسے پھینکنے کے لئے جارہے تھے۔معلوم ہوا کہ حدیث کے بغیر قرآن کی سمجھ ناممکن ہے۔

۲؎ خیال رہے کہ کھال کی پاکی کے لئے دھونا فرض نہیں لہذایہاں پانی سے مراد کچی دباغت ہے یعنی دھوکر سکھا لینا،اورببول کی پتے اور چھال سے مرادپکی دباغت ہے،اور ہوسکتا ہے کہ پانی سے مراد دھونا ہی ہو،اور حکم استحبابی ہویعنی کھال دھوکرپکانابہت بہترہے۔