كُنْتُمْ  خَیْرَ  اُمَّةٍ  اُخْرِجَتْ  لِلنَّاسِ   تَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  تَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِؕ-وَ  لَوْ  اٰمَنَ  اَهْلُ  الْكِتٰبِ  لَكَانَ  خَیْرًا  لَّهُمْؕ-مِنْهُمُ  الْمُؤْمِنُوْنَ  وَ  اَكْثَرُهُمُ  الْفٰسِقُوْنَ(۱۱۰)

تم بہتر ہو(ف۱۹۹) ان سب امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اگر کتابی ایمان لاتے (ف۲۰۰)تو ان کا بھلا تھااُن میں کچھ مسلمان ہیں(ف۲۰۱)اور زیادہ کافر

(ف199)

اے اُمّتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم۔

شانِ نزول : یہودیوں میں سے مالک بن صیف اور وہب بن یہودا نے حضرت عبداللہ بن مسعود وغیرہ اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا ہم تم سے افضل ہیں اور ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے جس کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی ترمذی کی حدیث میں ہے سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ میری امت کو گمراہی پر جمع نہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ کا دست رحمت جماعت پر ہے جو جماعت سے جدا ہوا دوزخ میں گیا۔

(ف200)

سید انبیاء محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر۔

(ف201)

جیسے کہ حضرت عبداللہ بن سلام اور انکے اصحاب یہود میں سے اور نجاشی اور ان کے اصحاب نصارٰی میں سے۔

لَنْ  یَّضُرُّوْكُمْ  اِلَّاۤ  اَذًىؕ-وَ  اِنْ  یُّقَاتِلُوْكُمْ  یُوَلُّوْكُمُ  الْاَدْبَارَ۫-ثُمَّ  لَا  یُنْصَرُوْنَ(۱۱۱)

وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑیں گے مگر یہی ستانا (ف۲۰۲) اور اگر تم سے لڑیں تو تمہارے سامنے سے پیٹھ پھیر جائیں گے (ف۲۰۳) پھر ان کی مدد نہ ہوگی

(ف202)

زبانی طعن و تشنیع اور دھمکی وغیرہ سے

شان نزول یہود میں سے جو لوگ اسلام لائے تھے جیسے حضرت عبداللہ ابن سلام اور اُن کے ہمراہی رؤساء یہود ان کے دشمن ہوگئے اور انہیں ایذا دینے کی فکر میں رہنے لگے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں کو مطمئن کردیا کہ زبانی قیل و قال کے سوا وہ مسلمانوں کو کوئی آزار نہ پہنچاسکیں گے غلبہ مسلمانوں ہی کو رہے گا اور یہود کا انجام ذلت و رسوائی ہے۔

(ف203)

اور تمہارے مقابلہ کی تاب نہ لاسکیں گے یہ غیبی خبریں ایسی ہی واقع ہوئیں۔

ضُرِبَتْ  عَلَیْهِمُ  الذِّلَّةُ  اَیْنَ  مَا  ثُقِفُوْۤا  اِلَّا  بِحَبْلٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  وَ  حَبْلٍ  مِّنَ  النَّاسِ   وَ  بَآءُوْ  بِغَضَبٍ  مِّنَ  اللّٰهِ  وَ  ضُرِبَتْ  عَلَیْهِمُ  الْمَسْكَنَةُؕ-ذٰلِكَ  بِاَنَّهُمْ  كَانُوْا  یَكْفُرُوْنَ  بِاٰیٰتِ  اللّٰهِ  وَ  یَقْتُلُوْنَ  الْاَنْۢبِیَآءَ  بِغَیْرِ  حَقٍّؕ-ذٰلِكَ  بِمَا  عَصَوْا  وَّ  كَانُوْا  یَعْتَدُوْنَۗ(۱۱۲)

ان پر جمادی گئی خواری (ذلت)جہاں ہوں امان نہ پائیں (ف۲۰۴) مگر اللہ کی ڈور (ف۲۰۵) اور آدمیوں کی ڈور سے (ف۲۰۶) اور غضبِ الٰہی کے سزا وار ہوئے اور اُن پر جمادی گئی محتاجی (ف۲۰۷) یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں سے کفر کرتے اور پیغمبروں کو ناحق شہیدیہ اس لیے کہ نافرمان بردار اور سرکش تھے

(ف204)

ہمیشہ ذلیل ہی رہیں گے عزّت کبھی نہ پائیں گے اسی کا اثر ہے کہ آج تک یہود کو کہیں کی سلطنت میسّر نہ آئی جہاں رہے رعایا وغلام ہی بن کررہے۔

(ف205)

تھام کر یعنی ایمان لا کر۔

(ف206)

یعنی مسلمانوں کی پناہ لے کر اور انہیں جزیہ دے کر۔

(ف207)

چنانچہ یہودی کو مالدار ہو کر بھی غناءِ قلبی میسر نہیں ہوتا۔

لَیْسُوْا  سَوَآءًؕ-مِنْ  اَهْلِ  الْكِتٰبِ  اُمَّةٌ  قَآىٕمَةٌ  یَّتْلُوْنَ  اٰیٰتِ  اللّٰهِ  اٰنَآءَ  الَّیْلِ  وَ  هُمْ  یَسْجُدُوْنَ(۱۱۳)

سب ایک سے نہیں کتابیوں میں کچھ وہ ہیں کہ حق پر قائم ہیں (ف۲۰۸) اللہ کی آیتیں پڑھتے ہیں رات کی گھڑیوں میں اور سجدہ کرتے ہیں (ف۲۰۹)

(ف208)

شان نزول: جب حضرت عبداللہ بن سلام اور انکے اصحاب ایمان لائے تو احبار یہود نے جل کر کہا کہ محمد مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ہم میں سے جو ایمان لائے ہیں وہ برے لوگ ہیں اگر برے نہ ہوتے تو اپنے باپ دادا کا دین نہ چھوڑتے اس پر یہ آیت نازل فرمائی گئی عطاء کا قول ہے ” مِنَ اَھْلِ الْکِتَابِ اُمَّۃ قَآئِمَۃٌ ” سے چالیس مرد اہل نجران کے بتیس۳۲ حبشہ کے آٹھ روم کے مراد ہیں جو دین عیسوی پر تھے پھر سید عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے۔

(ف209)

یعنی نماز پڑھتے ہیں اس سے یا تو نماز عشاء مراد ہے جو اہل کتاب نہیں پڑھتے یا نما زتہجد ۔

یُؤْمِنُوْنَ  بِاللّٰهِ  وَ  الْیَوْمِ  الْاٰخِرِ  وَ  یَاْمُرُوْنَ  بِالْمَعْرُوْفِ  وَ  یَنْهَوْنَ  عَنِ  الْمُنْكَرِ  وَ  یُسَارِعُوْنَ  فِی  الْخَیْرٰتِؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  مِنَ  الصّٰلِحِیْنَ(۱۱۴)

اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لاتے ہیں اور بھلائی کا حکم دیتے اور برائی سے منع کرتے ہیں (ف ۲۱۰) اور نیک کاموں پر دوڑتے ہیں اور یہ لوگ لائق ہیں

(ف210)

اور دین میں مداہنت نہیں کرتے۔

وَ  مَا  یَفْعَلُوْا  مِنْ  خَیْرٍ  فَلَنْ  یُّكْفَرُوْهُؕ-وَ  اللّٰهُ  عَلِیْمٌۢ  بِالْمُتَّقِیْنَ(۱۱۵)

اور وہ جو بھلائی کریں ان کا حق نہ مارا جائے گا اور اللہ کو معلوم ہیں ڈر والے (ف۲۱۱)

(ف211)

یہود نے عبداللہ بن سلام اور انکے اصحاب سے کہا تھا کہ تم دین اسلام قبول کرکے ٹوٹے میں پڑے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں خبر دی کہ وہ درجاتِ عالیہ کے مستحق ہوئے اور اپنی نیکیوں کی جزا پائیں گے یہود کی بکواس بے ہودہ ہے۔

اِنَّ  الَّذِیْنَ  كَفَرُوْا  لَنْ  تُغْنِیَ  عَنْهُمْ  اَمْوَالُهُمْ  وَ  لَاۤ  اَوْلَادُهُمْ  مِّنَ  اللّٰهِ  شَیْــٴًـاؕ-وَ  اُولٰٓىٕكَ  اَصْحٰبُ  النَّارِۚ-هُمْ  فِیْهَا  خٰلِدُوْنَ(۱۱۶)

وہ جو کافر ہوئے ان کے مال اور اولاد (ف۲۱۲)ان کو اللہ سے کچھ نہ بچائیں گے اور وہ جہنمی ہیں اُن کو ہمیشہ اس میں رہنا (ف۲۱۳)

(ف212)

جن پر انہیں بہت ناز ہے۔

(ف213)

شان نزول: یہ آیت بنی قُرَیْظَہ و نُضَیرکے حق میں نازل ہوئی یہود کے روساء نے تحصیلِ ریاست و مال کی غرض سے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ دشمنی کی تھی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشادفرمایا کہ ان کے مال و اولاد کچھ کام نہ آئیں گے وہ رسول کی دُشمنی میں ناحق اپنی عاقبت برباد کررہے ہیں ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت مشرکینِ قریش کے حق میں نازل ہوئی کیونکہ ابوجہل کو اپنی دولت و مال پر بڑا فخر تھا اور ابوسفیان نے بدرواُحد میں مشرکین پر بہت کثیر مال خرچ کیا تھا ایک قول یہ ہے کہ یہ آیت تمام کفار کے حق میں عام ہے ان سب کو بتایا گیا کہ مال و اولاد میں سے کوئی بھی کام آنے والا اور عذابِ الٰہی سے بچانے والا نہیں۔

مَثَلُ  مَا  یُنْفِقُوْنَ  فِیْ  هٰذِهِ  الْحَیٰوةِ  الدُّنْیَا  كَمَثَلِ  رِیْحٍ  فِیْهَا  صِرٌّ  اَصَابَتْ  حَرْثَ  قَوْمٍ  ظَلَمُوْۤا  اَنْفُسَهُمْ  فَاَهْلَكَتْهُؕ-وَ  مَا  ظَلَمَهُمُ  اللّٰهُ  وَ  لٰكِنْ  اَنْفُسَهُمْ  یَظْلِمُوْنَ(۱۱۷)

کہاوت اُس کی جو اس دنیا کی زندگی میں (ف۲۱۴)خرچ کرتے ہیں اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا(سخت ٹھنڈک) ہو وہ ایک ایسی قوم کی کھیتی پر پڑی جو اپنا ہی بُرا کرتے تھے تو اُسے بالکل مارگئی (ف۲۱۵) اور اللہ نے ان پر ظلم نہ کیا ہاں وہ خود اپنی جان پرظلم کرتے ہیں

(ف214)

مُفَسرِین کا قول ہے کہ اس سے یہود کا وہ خرچ مراد ہے جو اپنے علماء اور رؤساء پر کرتے تھے ایک قول یہ ہے کہ کفار کے تمام نفقات و صدقات مراد ہیں ایک قول یہ ہے کہ ریا کارکا خرچ کرنا مراد ہے کیونکہ ان سب لوگوں کا خرچ کرنا یا نفع دنیوی کے لئے ہوگا یا نفع اُخروی کے لئے اگر محض نفع دنیوی کے لئے ہو تو آخرت میں اس سے کیا فائدہ اور ریاکار کو تو آخرت اور رضائے الٰہی مقصود ہی نہیں ہوتی اس کا عمل دکھاوے اور نمود کے لئے ہوتا ہے ایسے عمل کا آخرت میں کیا نفع اور کافر کے تمام عمل اکارت ہیں وہ اگر آخرت کی نیت سے بھی خرچ کرے تو نفع نہیں پاسکتا ان لوگوں کے لئے وہ مثال بالکل مطابق ہے جو آیت میں ذکر فرمائی جاتی ہے

(ف215)

یعنی جس طرح کہ برفانی ہو اکھیتی کو برباد کردیتی ہے اسی طرح کُفر انفاق کو باطل کردیتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا  الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا  لَا  تَتَّخِذُوْا  بِطَانَةً  مِّنْ  دُوْنِكُمْ  لَا  یَاْلُوْنَكُمْ  خَبَالًاؕ-وَدُّوْا  مَا  عَنِتُّمْۚ-قَدْ  بَدَتِ  الْبَغْضَآءُ  مِنْ  اَفْوَاهِهِمْ ﭕ وَ  مَا  تُخْفِیْ  صُدُوْرُهُمْ  اَكْبَرُؕ-قَدْ  بَیَّنَّا  لَكُمُ  الْاٰیٰتِ  اِنْ  كُنْتُمْ  تَعْقِلُوْنَ(۱۱۸)

اے ایمان والو غیروں کو اپنا را زدار نہ بناؤ(ف ۲۱۶) وہ تمہاری برائی میں گئی(کمی) نہیں کرتے اُن کی آرزو ہے جتنی ایذا تمہیں پہنچے بیر(بغض)ان کی باتوں سے جھلک اُٹھا اور وہ (ف۲۱۷) جو سینے میں چھپائے ہیں اور بڑا ہے ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سنادیں اگر تمہیں عقل ہو (ف۲۱۸)

(ف216)

ان سے دوستی نہ کرو محبت کے تعلقات نہ رکھو وہ قابلِ اعتماد نہیں ہیں۔

شان نزول: بعض مسلمان یہود سے قرابت اور دوستی اورپڑوس وغیرہ تعلقات کی بنا پر میل جول رکھتے تھے ان کے حق میں یہ آیت نازل ہوئی

مسئلہ: کفار سے دوستی و محبت کرنا اور انہیں اپنا راز دار بنانا ناجائز و ممنوع ہے۔

(ف217)

غیظ و عناد

(ف218)

تو اُن سے دوستی نہ کرو۔

هٰۤاَنْتُمْ  اُولَآءِ  تُحِبُّوْنَهُمْ  وَ  لَا  یُحِبُّوْنَكُمْ  وَ  تُؤْمِنُوْنَ  بِالْكِتٰبِ  كُلِّهٖۚ-وَ  اِذَا  لَقُوْكُمْ  قَالُوْۤا  اٰمَنَّا  ﳒ  وَ  اِذَا  خَلَوْا  عَضُّوْا  عَلَیْكُمُ  الْاَنَامِلَ  مِنَ  الْغَیْظِؕ-قُلْ  مُوْتُوْا  بِغَیْظِكُمْؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  عَلِیْمٌۢ  بِذَاتِ  الصُّدُوْرِ(۱۱۹)

سنتے ہو یہ جو تم ہو تم تو انہیں چاہتے ہو (ف۲۱۹) اور وہ تمہیں نہیں چاہتے (ف۲۲۰) اور حال یہ کہ تم سب کتابوں پر ایمان لاتے ہو (ف۲۲۱) اور وہ جب تم سے ملتے ہیں کہتے ہیں ہم ایمان لائے (ف۲۲۲) اور اکیلے ہوں تو تم پر انگلیاں چبائیں غصہ سے تم فرما دو کہ مرجاؤ اپنی گھٹن(قلبی جلن) میں (ف۲۲۳) اللہ خوب جانتا ہے دلوں کی بات

(ف219)

رشتہ داری اور دوستی وغیرہ تعلقات کی بنا ء پر۔

(ف220)

اور دینی مخالفت کی بنا پر تم سے دشمنی رکھتے ہیں۔

(ف221)

اور وہ تمہاری کتاب پر ایمان نہیں رکھتے۔

(ف222)

یہ منافقین کا حال ہے۔

(ف223)

بمیرتا برہی اے حسود کیں رنجیست ٭ کہ از مشقت اوجز بمرگ نتواں رست

اِنْ  تَمْسَسْكُمْ  حَسَنَةٌ  تَسُؤْهُمْ٘-وَ  اِنْ  تُصِبْكُمْ  سَیِّئَةٌ  یَّفْرَحُوْا  بِهَاؕ-وَ  اِنْ  تَصْبِرُوْا  وَ  تَتَّقُوْا  لَا  یَضُرُّكُمْ  كَیْدُهُمْ  شَیْــٴًـاؕ-اِنَّ  اللّٰهَ  بِمَا  یَعْمَلُوْنَ  مُحِیْطٌ۠(۱۲۰)

تمہیں کوئی بھلائی پہنچے تو انہیں بُرا لگے(ف۲۲۴) اور تم کو بُرائی پہنچے تو اس پر خوش ہوں اور اگر تم صبر اور پرہیزگاری کیے رہو (ف۲۲۵) تو اُن کا داؤ ں تمہارا کچھ نہ بگاڑے گا بے شک اُن کے سب کام خدا کے گھیرے میں ہیں

(ف224)

اور اس پر وہ رنجیدہ ہوں۔

(ف225)

اور اُن سے دوستی و محبت نہ کرو

مسئلہ اس آیت سے معلُوم ہوا کہ دشمن کے مقابلے میں صبرو تقوٰی کام آتا ہے۔