حکایت نمبر206: جوانی ہوتوایسی !

حضرتِ سیِّدُناابراہیم بن مُہَلَّب علیہ رحمۃ اللہ الرَّب فرماتے ہیں:” دورانِ سفر میں ایک ویران جنگل سے گزرا تو ایک لڑکے کو نماز میں مشغول پایا۔ جب اس نے نماز مکمل کر لی تو میں نے کہا :” اس ویران جنگل میں تمہارا کوئی مونِس وغمخوار بھی ہے ؟” کہا:” کیوں نہیں! بالکل ہے۔”میں نے کہا :” کہا ں ہے ؟” کہا :” میرے دائیں ،بائیں ،اوپر، نیچے ،آگے پیچھے ہر طر ف ۔”

میں سمجھ گیا کہ یہ لڑکا اہلِ معرفت میں سے ہے۔میں نے کہا:”کیاتمہارے پاس زادِ راہ بھی ہے؟” کہا:” کیوں نہیں۔” میں نے کہا:”تمہارا زادِ راہ کیا ہے؟” کہا :” اخلاص ، توحید ، حضورِ پاک صاحب ِلَوْ لاک ،سیّاحِ افلاک صلَّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی نبوت کا اِقرار ، ایمانِ صادق ، اور پختہ تَوَ کُّل میرا زادِ راہ ہے۔” میں نے کہا :” میرے بیٹے! کیا تم میرے ساتھ رہنا پسند کرو گے ؟” کہا:” جب کسی کو کوئی رفیق مل جائے تو وہ اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل کردیتا ہے اور میں کسی بھی ایسے شخص کی رفاقت نہیں چاہتا جس کی وجہ سے لمحہ بھر کے لئے بھی اپنے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے غافل ہو کر عبادت کی اس لذّت سے محروم ہوجاؤں جسے میں اب محسوس کررہا ہوں ۔”میں نے کہا:” اس خطرناک ویران جنگل میں اکیلے رہتے ہوئے تمہیں وحشت نہیں ہوتی ؟” کہا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ سے محبت کی دولت ایسی دولت ہے کہ اس نے مجھ سے ہر وحشت دور کردی ہے۔اور اب یہ حال ہے کہ درندوں کے درمیان بھی خوف و وَ حْشَت محسوس نہیں ہوتی ۔” میں نے کہا :” تم کھاتے کہاں سے ہو ؟” کہا:” جس پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ نے مجھے ماں کے پیٹ کی تاریکیوں میں رزق دیا، وہی پروردگارعَزَّوَجَلَّ اب بھی مجھے رزق عطا فرماتا ہے ۔”

میں نے پوچھا:” تمہارے کھانے کا انتظام کب اور کس طر ح ہوتا ہے ؟” کہا :” مجھے مقررہ وقت پر کھانا مل جاتا ہے چاہے میں کہیں بھی ہوں، میرا رزق مجھ تک ضرور پہنچتا ہے، میرا مولیٰ عَزَّوَجَلَّ خوب جانتا ہے کہ مجھے کس وقت کس چیز کی حاجت ہے ۔ وہ پاک پروردگارعَزَّوَجَلَّ میرے حالات سے بے خبر نہیں ،وہ ہر جگہ میرا محافظ و والی ہے۔”میں نے کہا:” تمہاری کوئی حاجت ہے جسے میں پورا کروں ؟” کہا :” ہاں ! ایک حاجت ہے اور وہ یہ کہ اگر دوبارہ مجھے دیکھوتو مجھ سے گفتگو نہ کرنا اور نہ ہی میرے بارے میں کسی کو بتانا۔” میں نے کہا:” جیسے تمہاری مرضی، اس کے علاوہ کوئی اورحاجت ہو توبتاؤ ؟” کہا:” ہاں! اگر ہوسکے تو دعاؤں میں یادرکھنا،جب بھی غمگین و پریشان ہوکر دعا کروتو میرے لئے بھی دعا ضرور کرنا۔”میں نے کہا:” میرے بیٹے ! میں تمہارے لئے کس طر ح دعا کروں جبکہ تم مجھ سے افضل ہو کیونکہ خوف خدا عَزَّوَجَلَّ اورتوکل تم میں مجھ سے بہت زیادہ ہے۔” کہا:” اس طر ح نہ کہے ،کیونکہ آپ عمر میں مجھ سے بڑے ہیں، آپ کو دولتِ ایمان مجھ سے پہلے نصیب ہوئی، آپ کی نماز یں اور روزے مجھ سے زیادہ ہونگے ۔”میں نے کہا:” مجھے بھی تم سے کام ہے ۔” اس نے کہا بتائیے !کیا کام ہے ؟” میں نے کہا:” میرے لیے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دعا کرو ۔”اس نے یہ دعا کی:” اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کو ہر لمحہ گناہوں سے محفوظ رکھے، ایسا غم عطا فرمائے جس میں اس کی رضا پوشیدہ ہو۔اور اس کے علاوہ کوئی او ر غم نہ ہو ۔”میں نے کہا:” اے میرے لختِ جگر ! اب دوبارہ ملاقات کب ہوگی؟ میں تجھے کہاں تلاش کرو ں؟” کہا:” دنیا میں مجھ سے ملاقات کی امید نہ رکھنا ، اور آخرت میں مجھ سے ملنا چاہو تو ہر اس کام سے بچنا جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے منع فرمایا ہے۔ اور کسی بھی ایسے کام میں اس کی نافرمانی نہ کرناجس کااس نے حکم دیا۔ آخرت متقین کے جمع ہونے کی جگہ ہے ۔ اگر وہاں مجھ سے ملنا چاہوتو ان لوگوں میں تلاش کرنا ، جودیدارِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ کر رہے ہوں میں آپ کو انہیں لوگوں میں ملوں گا ۔” میں نے کہا:” تجھے کیسے معلوم کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں تجھے یہ مرتبہ ملے گا ؟” کہا:” اس لئے کہ میں اس کی حرام کردہ اشیاء سے بغض رکھتا ہوں ،ہر گناہ اور ہر اس کام سے بچتا ہوں جس سے بچنے کا اس نے حکم دیاہے۔اور میں نے اپنے پروردگارعَزَّوَجَلَّ سے یہ دعا کی ہے کہ مجھے جنت میں اپنے دیدار کی دولتِ لازوال عطا فرمائے ۔ ”اتنا کہنے کے بعد اس لڑکے نے چیخ مارکر ایک طر ف دوڑ لگا دی اور نظروں سے اَوجھل ہوگیا ۔ (اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)